1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

سنوڈن ہانگ کانگ سے ماسکو روانہ

Ali Amjad23 جون 2013

روسی نیوز ایجنسی ایتار تاس نے روسی فضائی کمپنی ایروفلوٹ کے ایک ذریعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ سنوڈن کے نام پر ایک ٹکٹ جاری ہوا ہے، جس کے مطابق سنوڈن کو ماسکو کے راستے کیوبا جانا ہے۔

China USA Internet Edward Snowden Plakat in Hongkong
تصویر: Reuters

امریکی نیشنل سکیورٹی ایجنسی NSA کے ایک سابقہ کنٹریکٹر ایڈورڈ سنوڈن کو ہانگ کانگ سے جانے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ وہاں کی حکومت کا کہنا ہے کہ سنوڈن کی واشنگٹن کو حوالگی کا امریکی مطالبہ مقامی قانون سے مطابقت نہیں رکھتا۔ بتایا گیا ہے کہ سنوڈن آج اتوار کو ماسکو کے لیے روانہ ہو گیا ہے اور یہ کہ اُس کی اصل منزل کیوبا، ایکواڈور، آئس لینڈ یا پھر وینزویلا ہو سکتی ہے۔

ایتار تاس نے اپنے ایک اور ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ سنوڈن کیوبا کے دارالحکومت ہوانا سے آگے وینزویلا کے دارالحکومت کراکاس کے لیے پرواز کر جائیں گے۔

’دی ساؤتھ چائنہ مارننگ پوسٹ‘ نے کہا ہے کہ ایڈورڈ سنوڈن کی حتمی منزل ایکواڈور یا پھر آئس لینڈ ہو سکتی ہے۔

روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے ایک ترجمان نے کہا کہ اُسے یہ علم نہیں ہے کہ سنوڈن کہاں ہے یا اُس کے سفری منصوبے کیا ہیں۔ پوٹن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے رواں ماہ کے اوائل میں کہا تھا کہ اگر سنوڈن نے روس میں سیاسی پناہ کی درخواست دی تو اسے پناہ دینے پر غور کیا جائے گا۔

سنوڈن کو ’ایک جمہوری ملک میں سیاسی پناہ‘ ڈھونڈنے میں مدد دی ہے: وکی لیکستصویر: Reuters

اسی دوران خفیہ فائلیں منظر عام پر لانے والی ویب سائٹ وکی لیکس نے کہا ہے کہ اُس نے سنوڈن کو ’ایک جمہوری ملک میں سیاسی پناہ‘ ڈھونڈنے میں مدد دی ہے۔ اس ویب سائٹ نے مزید وضاحت نہیں کی ہے، صرف اتنا بتایا ہے کہ اس وقت سنوڈن وکی لیکس کے قانونی مشیروں کے ساتھ روس کی فضاؤں میں ہے۔

امریکی حکام نے سنوڈن پر جاسوسی اور قومی رازوں کی چوری کے الزامات عائد کرتے ہوئے ہانگ کانگ سے، جو کہ عوامی جمہوریہ چین کا خصوصی انتظامی علاقہ (SAR) ہے، کہا تھا کہ وہ سنوڈن کو واپس امریکا بھیج دے۔ ہانگ کانگ کی حکومت کا کہنا ہے کہ امریکا کی جانب سے دی گئی دستاویزات ناکافی ہیں اور موجودہ حالات میں ہانگ کانگ حکومت کے پاس ایسا کوئی جواز نہیں ہے کہ وہ سنوڈن کی ہانگ کانگ سے روانگی پر کوئی پابندی لگا سکے۔

سنوڈن کی جانب سے منظر عام پر لائی جانے والی دستاویزات سے پتہ چلا تھا کہ امریکی ادارے NSA کو حکومت کی سرپرستی میں چلنے والے ایک پروگرام ’پرزم‘ کے تحت فیس بُک اور گوگل جیسی بڑی کمپنیوں کی ای میلز، چیٹ رومز اور ویڈیو کی طرح کے وسیع تر انٹرنیٹ ڈیٹا تک رسائی حاصل تھی۔

چین کے بڑے اخباروں میں سنوڈن کا انٹرویو شائع ہوا ہےتصویر: Philippe Lopez/AFP/Getty Images

سنوڈن کی جانب سے چینی اہداف کی ہیکنگ کے الزامات پر چینی نیوز ایجنسی سنہوا نے کہا ہے کہ ’یہ درحقیقت پریشان کن اشارے‘ ہیں۔ سنہوا کے مطابق ’ان سے پتہ چلتا ہے کہ امریکا، جو طویل عرصے تک معصوم بن کر خود کو سائبر حملوں کا شکار قرار دیتا رہا ہے، دورِ حاضر میں (انٹرنیٹ جاسوسی کے شعبے میں) سب سے بڑا ولن بن کر سامنے آیا ہے۔‘‘

(km/aa(reuters

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں
ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں