1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

سنکیانگ میں درجنوں ’بلوائی‘ ہلاک

ندیم گِل26 ستمبر 2014

چین کے علاقے سنکیانگ میں ریاستی حکام نے بتایا ہے کہ وہاں چالیس ’بلوائیوں‘ کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے فسادات کا سبب بننے والے مرکزی مشتبہ شخص کو بھی ہلاک کر نے کا دعویٰ کیا ہے۔

China Bereitschaftspolizei Peking
تصویر: picture-alliance/dpa

سنکیانگ میں تازہ فسادات گزشتہ اتوار کے دھماکوں کے بعد شروع ہوئے۔ ریاستی حکومت نے جمعرات کو رات گئے اپنے نیوز پورٹل پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں ہنگامہ آرائی میں ملوث چالیس افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

اس بیان کے مطابق فسادات کے نتیجے میں چھ شہری، دو پولیس افسر اور معاون پولیس کے دو اہلکار بھی ہلاک ہوئے ہیں جبکہ پچاس سے زائد شہری زخمی ہوئے ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ دو ’بلوائیوں‘ کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور مامات ترسن نامی مرکزی مشتبہ ہلاک ہو گیا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق چین کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے قبل ازیں ان واقعات میں صرف دو ہلاکتوں کی تصدیق کی تھی۔ حکمران کمیونسٹ پارٹی نے اس بحران زدہ علاقے تک رسائی انتہائی سخت بنا رکھی ہے جس کی وجہ سے آزاد ذرائع سے معلومات کی تصدیق مشکل ہے۔ یہی وجہ کہ پرتشدد کارروائیوں کے بعد معلومات کا دیر سے منظرِ عام پر آنا معمول ہے۔

ایغور اسکالر الہام توختیتصویر: picture-allianceAP Photo/Andy Wong

رہائشیوں کے مطابق صوبے کے مختلف علاقوں میں پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔ اے ایف پی کے مطابق سنکیانگ میں ایک ہوٹل کے عملے نے رابطہ کرنے پر علاقے میں سخت سکیورٹی انتظامات کی تصدیق کی ہے۔ ہوٹل کے استقبالیہ پر موجود ایک اہلکار نے بتایا: ’’سکیورٹی فورسز تاحال سڑکوں پر موجود ہیں۔‘‘

دوسرے ایک ہوٹل میں ایک خاتون سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بھی سکیورٹی فورسز کی بھاری نفری کی موجودگی کی تصدیق کی۔ انہوں نے بتایا کہ موجودہ حالات کی وجہ سے کاروباری سرگرمیاں بھی ماند پڑ چکی ہیں۔

سنکیانگ میں حالیہ پرتشدد کارروائیوں کا آغاز مسلم ایغور اسکالر الہام توختی کو عمر قید کی سزا سنائے جانے سے دو روز قبل ہوا۔ انہیں علیحدگی کی مہم چلانے کے الزام پر یہ سزا سنائی گئی۔

توختی کے خلاف عمر قید کا فیصلہ رواں ہفتے منگل کو سنایا گیا تھا۔ وہ ایک یونیورسٹی کے سابق پروفیسر ہیں اور مغربی علاقے میں بیجنگ حکومت کی پالیسیوں کے سخت ناقد رہے ہیں۔

امریکا، یورپی یونین اور انسانی حقوق کے متعدد گروپوں نے چوالیس سالہ توختی کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق توختی کو سنائی کی گئی سزا سے ایغور برادری کی روشن خیال آوازیں دبنے اور ممکنہ بات چیت کا امکان ختم ہونے کا خدشہ ہے۔

کمیونسٹ پارٹی کے اخبار ’پیپلز ڈیلی‘ کے ایک ذیلی اخبار ’دی گلوبل ٹائمز‘ کے ادارتی صفحے پر شائع ہونے والے ایک کالم میں لکھا گیا ہے کہ توختی کا مقدمہ ہر اس شخص کے لیے ایک انتباہ ہے جو چین کو توڑنا چاہتا ہے۔

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں
ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں