سنگاپور ایئر شو میں چین کی طاقت کا مظاہرہ
6 فروری 2026
امریکی فوج نے رواں سال وینزویلا کے صدر نکولاس مادورو کو ان کے ملک سے حراست میں لے کر امریکہ منتقل کرنے اور ایران کے قریب بحری بیڑے کی بڑی تعیناتی کے ذریعے اپنی طاقت کا مظاہرہ تو کیا ہے، تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے بعض اتحادیوں پر تنقید اور ان پر ٹیرف (محصولات) عائد کرنے کی وجہ سے سرخیوں میں رہے ہیں۔ ان کے اس رویے نے چین کے لیے ایک موقع پیدا کر دیا ہے۔
اگرچہ چین کے لڑاکا طیارے اور تجارتی مسافر طیارے عالمی مارکیٹ میں بڑے پیمانے پر مقبولیت حاصل کرنے سے ابھی دور ہیں، لیکن ان کے بنانے والے ادارے ایشیا کے اس سب سے بڑے ایئر شو میں پہلے سے زیادہ پراعتماد اور متحرک نظر آئے۔
چینی فضائیہ کی ایروبیٹک ٹیم نے J-10C طیاروں کے ساتھ پہلی بار شو میں شرکت کر کے سب کی توجہ حاصل کر لی۔ اس طیارے کا برآمدی ورژن J-10CE سن 2025 میں اس وقت شہرت کی بلندیوں پر پہنچا جب خریدار ملک پاکستان نے اسے بھارتی فضائیہ کے فرانسیسی رافیل طیارے کو گرانے کے لیے استعمال کیا۔
چینی سرکاری میڈیا کے مطابق، ٹیم نے سنگاپور تک براہ راست پرواز کرنے کے لیے فضا میں ایندھن بھرنے کی سہولت استعمال کی۔ رائل ایروناٹیکل سوسائٹی کے 'ایرواسپیس‘ میگزین کے ایڈیٹر ان چیف ٹِم رابنسن کہتے ہیں: ''یہ ایک پیغام ہے کہ ہماری طاقت بڑھ رہی ہے۔ یہ ایک جدید فضائیہ کی اہم ترین صلاحیت ہے، جسے ماضی میں چین کی کمزوری سمجھا جاتا تھا۔‘‘
ایئر شو کے ہالز میں چینی سرکاری کمپنیوں نے مرکزی جگہ حاصل کر رکھی تھی، جہاں AVIC کے 'J-35A' اسٹیلتھ ملٹی رول فائٹر کا ایک بڑے سائز کا ماڈل توجہ کا مرکز رہا۔ 2024 میں پہلی بار سامنے آنے والے اس طیارے کے بارے میں ابھی زیادہ تکنیکی معلومات عام نہیں کی گئیں، لیکن مبصرین کا کہنا ہے کہ ایشیائی خریداروں کے لیے پیغام واضح ہے۔ رابنسن کے مطابق: ''یہ پیغام ہے کہ اگر آپ F-35 خریدنے کی سکت نہیں رکھتے یا آپ پر اسے خریدنے کی پابندی ہے، تو ہمارے پاس اس کا متبادل موجود ہے۔‘‘
جنوب مشرقی ایشیا کی دلچسپی
جنوب مشرقی ایشیا کے دفاعی حکام نے چینی عسکری اسٹالز پر گہری دلچسپی دکھائی، جو اس بات کی علامت ہے کہ بیجنگ خطے میں اپنی مصنوعات کی مارکیٹنگ میں کامیاب ہو رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ طاقت کا مظاہرہ ایک ایسے سیاسی موڑ پر ہوا ہے جب ٹرمپ کی 'تنہائی پسندی‘ کی پالیسیوں کی وجہ سے خطے کی حکومتیں امریکی سکیورٹی ضمانتوں کے حوالے سے بے یقینی کا شکار ہیں۔
انڈسٹری کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ہتھیاروں کی تجارت میں اچانک تبدیلی مشکل ہے، لیکن بدلتے ہوئے سیاسی حالات اور سپلائی چین میں تنوع کی ضرورت چین کے لیے ایک موقع پیدا کر رہی ہے۔ دفاعی ماہر بریڈلی پیرٹ کا کہنا ہے، ''چینی کمپنیاں سمجھتی ہیں کہ اگر دنیا کا امریکی سامان پر اعتماد کم ہوا ہے، تو وہ اس جگہ کو پُر کر سکتی ہیں۔‘‘
تجارتی ہوا بازی کی مہم
چین کی جانب سے ایئربس اور بوئنگ کے مقابلے میں مسافر طیاروں کی مارکیٹ میں جگہ بنانے کی کوششیں بھی جاری ہیں، اگرچہ یورپی سرٹیفیکیشن کے حصول میں تاخیر کی وجہ سے یہ عمل سست ہے۔
اس کے باوجود چینی کمپنی COMAC نے 'C919' جیٹ کی پروازیں کیں اور مستقبل کے 'C929' وائیڈ باڈی طیارے کا ماڈل نمائش کے لیے پیش کیا۔ یہ منصوبہ پہلے روس کے ساتھ مشترکہ تھا، لیکن اب چین اسے تنہا مکمل کر رہا ہے۔ چینی وفود نے بتایا کہ سنگاپور شو میں ان کی ترجیح جنوب مشرقی ایشیائی ممالک ہیں، اور انڈونیشیا کے وفود نے ان طیاروں کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔
اگرچہ ماہرین کا خیال ہے کہ ایئربس اور بوئنگ جیسی عالمی ساکھ بنانے میں چین کو ابھی کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں، لیکن ایئر شو میں چینی کمپنیوں کی جانب سے طیاروں کے اسپیئر پارٹس کی فراہمی جیسے متبادل حل پیش کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ عالمی مارکیٹ میں بڑے پیمانے پر قدم جمانے کے لیے تیار ہیں۔
ادارت: جاوید اختر