سنگاپور میں سزائے موت پر عملدرآمد میں اضافہ کیوں؟
15 فروری 2026
جنوب مشرقی ایشیا کے بیشتر ممالک سزائے موت کے استعمال کو محدود کرنے اور بتدریج اس کے خاتمے کی جانب بڑھ رہے ہیں تاہم سنگاپور اس علاقائی رجحان کے برعکس اب بھی اس سزا پر سختی سے کاربند ہے۔
ویتنام، ملائیشیا اور انڈونیشیا سمیت خطے کے کئی ممالک نے حالیہ برسوں میں سزائے موت کے دائرہ کار کو محدود کیا ہے اور بعض نے اسے لازمی سزا کے طور پر ختم کر دیا ہے۔ اس وقت جنوب مشرقی ایشیا کے 11 میں سے آٹھ ممالک میں سزائے موت قانوناً موجود ہے، جبکہ کمبوڈیا اور فلپائن اور مشرقی تیمور اسے مکمل طور پر ختم کر چکے ہیں۔
حالیہ برسوں میں سزائے موت برقرار رکھنے والے بیشتر ممالک نے عملاً پھانسیوں پر غیر اعلانیہ پابندی عائد رکھی ہے اور ایسے قوانین منظور کیے ہیں، جن کے تحت بعض جرائم میں موت کی سزا اب لازمی نہیں رہی۔
یورپی یونین نے سزائے موت کے خاتمے کو اپنی سفارتی حکمت عملی میں انسانی حقوق کا نمایاں ہدف قرار دیا ہے اور اقوام متحدہ میں اس حوالے سے قراردادوں کی حمایت کی ہے۔ یورپی بلاک سیاسی مکالموں میں بھی یہ معاملہ اٹھا رہا ہے اور سول سوسائٹی کی کوششوں کی حمایت کر رہا ہے، تاہم وہ تسلیم کرتا ہے کہ پیش رفت غیر ہموار ہے اور بعض اوقات واپس بھی جا سکتی ہے۔
ایشیا ہیومن رائٹس اینڈ لیبر ایڈووکیٹس کے ڈائریکٹر فل رابرٹسن نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو میں کہا، ''یورپی یونین کچھ ممالک میں بتدریج کامیابی حاصل کر رہی ہے، کم از کم ان جرائم کی تعداد کم کرنے میں جن پر یہ سزا دی جا سکتی ہے۔‘‘ تاہم ان کا کہنا تھا، ''یہ واضح نہیں کہ یہ پیش رفت برقرار رہے گی یا نہیں، اس لیے یورپی یونین کو کسی چیز کو یقینی نہیں سمجھنا چاہیے۔‘‘
سنگاپور کا مختلف راستہ
خطے کے عمومی رجحان کے برعکس سنگا پور نے سزائے موت کے نفاذ میں اضافہ کیا ہے۔ سنگاپور کی صحافی اور سزائے موت کے خلاف مہم چلانے والی کارکن کرسٹن ہان نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو میں کہا کہ سنگاپور ''انتہائی جوش و خروش کے ساتھ سزائے موت کے استعمال کو دو گنا اضافہ کر رہا ہے اور تشویشناک رفتار سے پھانسیاں دے رہا ہے۔‘‘
ان کے مطابق رواں برس اب تک تین افراد کو پھانسی دی جا چکی ہے اور ''مجھے نہیں لگتا کہ وہ اس میں کمی کریں گے۔‘‘ گزشتہ برس سنگاپور میں 17 افراد کو سزائے موت دی گئی، جو 2003 ء کے بعد سب سے زیادہ تعداد ہے۔ ان میں اکثریت منشیات اسمگلنگ کے مقدمات کی تھی، جو عموماً قانونی حد سے زائد مقدار سے متعلق ہوتے ہیں۔
دسمبر 2025 ء میں سنگاپور کی ہائی کورٹ نے بعض منشیات جرائم میں لازمی سزائے موت کے خلاف آئینی درخواست مسترد کر دی، جسے ہلاک کیے گئے قیدیوں کے اہل خانہ اور سزائے موت کے خاتمے کے حامیوں نے دائر کیا تھا، یوں موجودہ قانونی ڈھانچہ برقرار رہا۔
اگرچہ حکومت اکثر عوامی جائزوں کا حوالہ دیتی ہے جن کے مطابق سزائے موت کو عوامی حمایت حاصل ہے، تاہم 2016 میں نیشنل یونیورسٹی آف سنگاپور کی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ 62 فیصد افراد نے کہا کہ انہیں ملک میں سزائے موت کے استعمال کے بارے میں ''بہت کم‘‘یا ''کچھ بھی معلوم نہیں۔‘‘
اقوام متحدہ میں اختلاف
سنگاپور بیرونی تنقید کے جواب میں اکثر اپنے قومی حالات اور عوامی مفاد کے مطابق قوانین بنانے کے خود مختار حق پر زور دیتا ہے۔ 2024ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں سزائے موت کے استعمال پر عالمی پابندی کی قرارداد پر ووٹنگ ہوئی۔ 131 رکن ممالک نے حمایت کی، 21 نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا، جبکہ 36 ممالک نے مخالفت کی، جن میں سنگاپور بھی شامل تھا۔
سنگاپور ان ممالک میں بھی شامل تھا، جنہوں نے ایک ترمیم شامل کرانے کی کوشش کی، جس میں ''تمام ممالک کے اپنے قانونی نظام تشکیل دینے اور مناسب سزائیں مقرر کرنے کے خود مختار حق‘‘ پر زور دیا گیا۔
تاہم سنگاپور کے سوا خطے میں عمومی رجحان سزائے موت کے دائرہ کار کو محدود کرنے کی جانب ہے، اگرچہ بیشتر ممالک مکمل خاتمے سے اب بھی گریزاں ہیں۔
فل رابرٹسن کے مطابق جنوب مشرقی ایشیائی حکومتیں ''اب بھی سنجیدہ عزم دکھانے کے بجائے سیاسی کھیل کھیل رہی ہیں۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ اسی لیے آسٹریلیا اور یورپی یونین کے رکن ممالک جیسے سزائے موت ختم کرنے والے ملکوں کو''زیادہ دباؤ ڈالنا ہوگا تاکہ جنوب مشرقی ایشیائی حکومتیں حقیقی سیاسی عزم کا مظاہرہ کریں۔‘‘
ادارت: امتیاز احمد