1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

سولر پینل درآمدات: چین اور یورپی یونین میں معاملات طے

عاطف توقیر27 جولائی 2013

چینی اور یورپی حکام نے سولر پینل مصنوعات کے تنازعے کو حل کر لیا ہے۔ یہ بات یورپی یونین کے کمشنر برائے تجارت نے ہفتے کے روز کہی۔ فریقین کے درمیان گزشتہ کئی ہفتوں سے اس معاملے میں کشیدگی جاری تھی۔

تصویر: picture-alliance/dpa

خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق برسلز میں یورپی کمشنر برائے تجارت کیرل ڈے گُشت کی جانب سے ہفتے کے روز جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ فریقین نے چینی سولر پینلز کے لیے کم سے کم قیمت اور ایک کوٹا مقرر کر دیا ہے۔ اس طرح گزشتہ چھ ہفتوں سے جاری اس تجارتی رسہ کشی کا خاتمہ ہوا۔

یورپی کمشنر کا اس بیان میں کہنا تھا کہ اس حوالے سے دونوں کے لیے قابل قبول حل پر اتفاق کر لیا گیا ہے۔ دوسری جانب چینی خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق چینی حکام نے بھی اس معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے۔ چینی وزارت تجارت کے مطابق اس معاہدے کے لیے فریقین نے لچک کا مظاہرہ کیا۔

چینی کمپنیوں پر الزام عائد کیا جاتا ہے کہ وہ لاگت سے کم قیمت پر مصنوعات فروخت کر کے یورپی اداروں کو نقصان پہنچا رہی ہیںتصویر: STR/AFP/Getty Images

واضح رہے کہ یورپی یونین نے چینی اداروں پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ لاگت سے کم خرچ پر سولر پینلز یورپی منڈیوں میں فروخت کر رہے ہیں جس سے سولر پینل بنانے والے یورپی اداروں کو سخت مالی نقصانات کا سامنا ہے اور سینکڑوں افراد کی ملازمتوں کو خطرات لاحق ہیں۔ اس کے بعد یورپی یونین نے چینی سولر پینلز پر سخت ڈیوٹی نافذ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

سفارتی ذرائع کے مطابق اس معاہدے کے تحت چینی مصنوعات پر کم از کم 56 سینٹ فی واٹ آؤٹ پٹ کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے۔ اس طرح چینی شمسی پینلز کے ذریعے یورپ میں بجلی کی مجموعی پیداوار کو بھی سات گیگاواٹ تک محدود کیا گیا ہے۔ اس ڈیل کے تحت چین کے نو برآمدکنندگان کو تحفظ دیا گیا ہے، جو سولر پینلز کے اعتبار سے یورپی منڈی کو ساٹھ فیصد مصنوعات فراہم کرتے ہیں۔

یورپی یونین نے جون میں اعلان کیا تھا کہ یورپی ضوابط کا خیال رکھنے والی کمپنیوں کو اضافی ڈیوٹیز کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا، تاہم دیگر اداروں کو چھ اگست سے 37.2 تا 67.6 فیصد کے حساب سے ڈیوٹیز ادا کرنا ہوں گی۔

یورپی یونین کا کہنا تھا کہ یورپی سولر پینلز صنعت سے جڑے 25 ہزار افراد کی ملازمتوں کو چینی کمپنیوں کے ساتھ غیرمنصفانہ مقابلے کا سامنا ہے۔

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں