سولر پینل درآمدات: چین اور یورپی یونین میں معاملات طے
27 جولائی 2013
خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق برسلز میں یورپی کمشنر برائے تجارت کیرل ڈے گُشت کی جانب سے ہفتے کے روز جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ فریقین نے چینی سولر پینلز کے لیے کم سے کم قیمت اور ایک کوٹا مقرر کر دیا ہے۔ اس طرح گزشتہ چھ ہفتوں سے جاری اس تجارتی رسہ کشی کا خاتمہ ہوا۔
یورپی کمشنر کا اس بیان میں کہنا تھا کہ اس حوالے سے دونوں کے لیے قابل قبول حل پر اتفاق کر لیا گیا ہے۔ دوسری جانب چینی خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق چینی حکام نے بھی اس معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے۔ چینی وزارت تجارت کے مطابق اس معاہدے کے لیے فریقین نے لچک کا مظاہرہ کیا۔
واضح رہے کہ یورپی یونین نے چینی اداروں پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ لاگت سے کم خرچ پر سولر پینلز یورپی منڈیوں میں فروخت کر رہے ہیں جس سے سولر پینل بنانے والے یورپی اداروں کو سخت مالی نقصانات کا سامنا ہے اور سینکڑوں افراد کی ملازمتوں کو خطرات لاحق ہیں۔ اس کے بعد یورپی یونین نے چینی سولر پینلز پر سخت ڈیوٹی نافذ کرنے کا اعلان کیا تھا۔
سفارتی ذرائع کے مطابق اس معاہدے کے تحت چینی مصنوعات پر کم از کم 56 سینٹ فی واٹ آؤٹ پٹ کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے۔ اس طرح چینی شمسی پینلز کے ذریعے یورپ میں بجلی کی مجموعی پیداوار کو بھی سات گیگاواٹ تک محدود کیا گیا ہے۔ اس ڈیل کے تحت چین کے نو برآمدکنندگان کو تحفظ دیا گیا ہے، جو سولر پینلز کے اعتبار سے یورپی منڈی کو ساٹھ فیصد مصنوعات فراہم کرتے ہیں۔
یورپی یونین نے جون میں اعلان کیا تھا کہ یورپی ضوابط کا خیال رکھنے والی کمپنیوں کو اضافی ڈیوٹیز کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا، تاہم دیگر اداروں کو چھ اگست سے 37.2 تا 67.6 فیصد کے حساب سے ڈیوٹیز ادا کرنا ہوں گی۔
یورپی یونین کا کہنا تھا کہ یورپی سولر پینلز صنعت سے جڑے 25 ہزار افراد کی ملازمتوں کو چینی کمپنیوں کے ساتھ غیرمنصفانہ مقابلے کا سامنا ہے۔