سیاحت کا شوقین جوڑا طالبان کی قید میں
5 جون 2014
وسطی ایشیا کا شورش زدہ علاقہ عام مغربی سیاحوں کے لیے آج کل شجرِ ممنوعہ کی حیثیت رکھتا ہے مگر کینیڈا کے جوشوا بوئل اور اس کی امریکی بیوی کیٹلان کولمین نے اِس صورت حال کو خاطر میں نہ لایا۔ وہ اپنے شوق کی تکمیل کی تمنا لیے وسطی ایشیائی ریاستوں سے ہوتے ہوئے افغانستان میں داخل ہو گئے۔ اسی سفر کے دوران جوشوا کی بیوی امید سے بھی ہو گئیں۔ سب کھ دونوں میاں بیوی کے لیے خاصا اچھا اچھا لگ رہا تھا۔ افغانستان کے کسی انٹرنیٹ کیفے سے جوشوا بوئل نے اپنے خاندان کے مختلف افراد کو خیریت کی چند ای میل روانہ کیں۔
ای میلز روانہ کرنے کا دن آٹھ اکتوبر سن 2012 کا تھا۔ جوشوا اور اُس کی بیوی کے حوالے سے باضابطہ طور پر موصول ہونے والا یہ آخری پیغام تھا۔ اِس کے بعد کوئی اطلاع نہیں کہ یہ جوڑا کہاں چلا گیا۔ گزشتہ برس اِس صورت حال میں تبدیلی آئی اور جوشوا کی بیوی کیٹلان کے خاندان کو دو مختصر دورانیے کی ویڈیوز موصول ہوئیں۔ ان ویڈیوز میں جوشوا بوئل اور کیٹلان کولمین امریکی حکومت سے درخواست کر رہے ہیں کہ انہیں اور اُن کے بچے کو اغواکاروں سے نجات دلائی جائے۔ اندازہ لگایا گیا ہے کہ اِس لاپتہ جوڑے کے بچے کی عمر اٹھارہ مہینے سے زائد ہو چکی ہے۔
نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق پہلی ویڈیو گزشتہ برس جولائی اور دوسری ستمبر میں کولمین خاندان کو موصول ہوئی تھی۔ ویڈیو میں خاتون کیٹلان چہرے کے علاوہ سر سے پاؤں تک ایک لبادے میں ملبوس ہے اور اُس کا شوہر بے ہنگم بڑھی ہوئی داڑھی کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ یہ ویڈیوز ایک ایسے شخص کی جانب سے ای میل کی گئی تھیں جس نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ افغان طالبان کے ساتھ راہ و رسم رکھتا ہے۔ اس طرح اِس لاپتہ جوڑے کے بارے میں تازہ معلومات ان ویڈیوز سے حاصل ہوئیں۔
ان ویڈیوز سے کئی سوالات نے جنم لیا کہ یہ دونوں اور اُن کا بچہ افغانستان کے کس مقام پر رکھے گئے ہیں۔ اُن کی زندگی کسی طور پر گزر رہی ہیں۔ آیا وہ کسی گہری سازش کا حصہ بن چکے ہیں۔ اُن کے بچے کی زندگی کس حال میں ہے اور کیا وہ جوشوا اور کیٹلان کے پاس ہے یا پھر اغوا کاروں نے اُن سے چھین لیا ہے۔ ایک ویڈیو میں خاتون اپنی حکومت اور خاندان سے درخواست کرتی دکھائی گئی ہیں کہ وہ اپنے شوہر اور بچے کے ساتھ محفوظ رہتے ہوئے رہائی چاہتی ہے۔ یہ امر اہم ہے کہ اب امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے تفتیشی عمل شروع کر دیا ہے لیکن تلاش کے عمل میں خاصی مشکلات حائل ہیں۔
امریکی وزارت خارجہ کی خاتون ترجمان میری ہارف نے کل بدھ کے روز اس کیس کے حوالے سے کھلے عام بات کرنے سے انکار کر دیا۔ اُدھر کینیڈا کی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاں برُونو ویلینُوو کا کہنا ہے کہ اُن کی حکومت، افغان حکام کے ساتھ جوشوا اور کیٹلان کی تلاش اور رہائی کا معاملہ اٹھائے ہوئے ہیں۔ افغان ذرائع کے مطابق یہ جوڑا دُشوار گزار پہاڑی علاقے وردک میں سے اغوا کیا گیا تھا۔ وردک کا پہاڑی علاقہ طالبان عسکریت پسندوں کا محفوظ گڑھ تصور کیا جاتا ہے۔ ابھی تک اغوا کاروں کی جانب سے تاوان ادا کرنے کا مطالبہ بھی سامنے نہیں آیا ہے۔
یہ امر اہم ہے کہ جوشوا بوئل اور کیٹلان کولمین کی دوستی آن لائن ہوئی تھی۔ یہ ٹین ایجر فرینڈ شپ بعد میں شادی میں تبدیل ہو گئی۔ انہوں نے سن دوہزار گیارہ میں شادی کی تھی۔ افغانستان داخل ہونے سے قبل مہماتی میلان طبع رکھنے والا یہ نوجوان جوڑا وسطی ایشیائی ریاستوں کرغیزستان، تاجکستان اور قزاقستان کی سیاحت مکمل کر چکا تھا۔