1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

سیاسی پناہ کے متلاشی افراد سے متعلق پالیسی

کیزیل ہائنر/ کشور مصطفیٰ6 نومبر 2014

جرمنی سیاسی پناہ کے متلاشی افراد کے حقوق سے متعلق قوانین میں اصلاحات لانا چاہتا ہے۔ اس بحث میں یورپی سطح پر پائے جانے والے متعلقہ قوانین کا موضوع بھی شامل ہے۔

تصویر: picture-alliance/dpa/Marc Müller

سیاسی پناہ کے متلاشی افراد کے لیے ہونے والی قانونی منصوبہ بندی اور اس موضوع کے گرد ہونے والی سیاسی بحث کا ایک جائزہ پیش کر رہی ہیں کشور مصطفیٰ

مشرق وسطیٰ کے خطے میں ہونے والی جنگیں یا خانہ جنگی ہو، ماحولیاتی تبدیلیوں سے افریقی ممالک پر پڑنے والے منفی معاشرتی اور اقتصادی اثرات کے علاوہ مقامی اور بین الاقوامی تنازعات دنیا بھر میں محفوظ پناہ کی تلاش میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔ ایک جگہ سے فرار ہو کر کسی دوسرے خطے کا رُخ کرنے والے افراد کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ بحران کے شکار زیادہ تر افراد ہجرت نہیں کر پاتے تاہم وہ لوگ جو یورپ پہنچنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں وہ یورپی یونین کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج ہیں۔ جرمنی میں جن جن علاقوں میں پناہ گزینوں کو جگہ دی گئی ہے، اُن کی بلدیاتی انتظامیہ سخت دباؤ کا شکار ہے۔ بہت سے ضوابط ایسے ہیں جن کا حقیقت سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔ وفاقی جرمن پارلیمان آج اس موضوع پر بحث کر رہی ہے۔

جرمن شہر میونخ میں قائم پناہ کے متلاشی افراد کا ایک کیمپتصویر: Reuters/Michaela Rehle

پناہ گزینوں کی صورتحال

جرمنی کے وفاقی دفتر برائے مہاجرین اور پناہ گزین کے اندازوں کے مطابق مستقبل میں سالانہ پناہ کے متلاشی افراد کی ہر سال دو لاکھ کے قریب درخواستیں متوقع ہیں۔ اس طرح 2013 ء کے مقابلے میں آئندہ ہر سال جرمنی آنے والے پناہ گزینوں کی تعداد تقریباً دوگنا ہو سکتی ہے۔ یورپی اعداد و شمار یورو اسٹیٹ کے مطابق گزشتہ برس یورپ بھر میں سیاسی پناہ کے متلاشی افراد کی چار لاکھ پینتیس ہزار درخواستیں درج کی گئیں۔ ان میں سے 70 فیصد کو جرمنی، اٹلی، فرانس، برطانیہ اور سویڈن نے اپنے ہاں پناہ دی۔ محض جرمنی میں اس 70 فیصد کا ایک چوتھائی حصہ پہنچا۔ آبادی کے اعتبار سے سویڈن اور مالٹا دو ممالک پناہ کے متلاشی افراد کو اپنے ہاں تسلیم کرنے میں سب سے آگے ہیں۔

ڈبلن نظام پر تنقید

یورپی یونین میں اس وقت جو قانون رائج ہے اُس کے تحت پناہ گزینوں پر یہ لازم ہے کہ وہ یورپی یونین کے جس بھی ملک میں سب سے پہلے داخل ہوں ، وہیں اپنی درخواست درج کروائیں۔ تاہم اس سے یورپی یونین کے سرحدی علاقوں میں واقع چند ممالک سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ ان پر سب سے زیادہ بوجھ پڑ رہا ہے۔ مثال کے طور پر بحیرہ روم کے راستے آنے والے سب سے زیادہ پناہ گزین اٹلی پہنچتے ہیں حالات کی سنگینی کے پیش نظر اطالوی انتظامیہ انہیں یورپی یونین کے دیگر ممالک کی طرف بھیج دیتی ہے۔ یورپی یونین نے سرحد پار کرنے والے مہاجرین کے سیلاب کو روکنے کے لیے سلامتی کے اداروں اور حفاظتی باڑ کا سہارا لیا ہے تاہم یہ اقدامات پناہ کے متلاشی افراد کے ساتھ انسانی سلوک روا رکھنے کے بر خلاف ہیں۔

بحیرہ روم پر واقع اٹلی کے ساحلی علاقے لامپیڈوسا میں پناہ کے متلاشی افراد کی کشتی کے ڈوبنے کا واقع اکثر و بیشتر رونما ہوتا ہےتصویر: Picture-Alliance/dpa

یورپی یونین کے رکن ممالک کے لیے کوٹا

یورپی یونین کی سطح پر پناہ گزینوں کی منصفانہ تقسیم کے گرما گرم موضوع پر بحث ہو رہی ہے۔ وفاقی جرمن وزیر داخلہ تھوماس دے میزیئر نے اس سلسلے میں یہ تجویز پیش کی ہے کہ یورپی یونین کے تمام رکن ممالک کو اپنی اپنی کُل آبادی کے حساب سے سیاسی پناہ کے متلاشی افراد کو اپنے ہاں پناہ دینے کا تناسب طے کرنا چاہیے۔ یہ تجویز جرمنی اور اٹلی کے لیے فائدہ مند ہے تاہم دیگر ممالک اس سے شدید متاثر ہوں گے۔

پناہ گزین جرمنی میں

پناہ کے متلاشی افراد کو جرمنی میں بہت سی شرائط کا سامنا ہوتا ہے جو اُن کے لیے بڑی عبرت کا سبب بھی بن سکتی ہیں۔ دو سال قبل جرمنی کی وفاقی آئینی عدالت نے اس حقیقت کا اندازہ لگایا تھا کہ موجودہ قوانین کے دائرے میں رہتے ہوئے پناہ گزینوں کے لیے جرمنی میں مہذب زندگی گزارنا ممکن نہیں ہے۔ اس وجہ سے ان مہاجرین کو بہتر سہولیات فراہم کی جانی چاہیں۔ ساتھ ہی جرمنی کے وفاقی دفتر برائے مہاجرین اور پناہ گزین کی طرف سے یہ بھی کہا گیا تھا کہ پناہ کے متلاشی افراد کے لیے اتنی سہولتیں اور آسائش مہیا نہیں کی جانی چاہییں کہ جرمنی کی طرف رُخ کرنے والے پناہ گزینوں کی ایک نئی ترغیبی مہم شروع ہو جائے۔

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں
ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں