سیربیا کے دارالحکومت بلغراد کے قریب ایک پرتشدد واقعے میں ملوث مبینہ حملہ آور کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ شوٹنگ کے اس واقعے میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
تصویر: Armin Durgut/AP Photo/picture alliance
اشتہار
سیربین میڈیا کے مطابق مشتبہ حملہ آور کو جمعے کی صبح حراست میں لے لیا گیا۔ یہ گرفتاری سیربیا کے وسطیٰ قصبے کراگوجیواچ میں عمل میں آئی۔
سیربیا میں دو روز میں اندھا دھند فائرنگ کا یہ دوسرا واقعہ تھا۔ اس واقعے میں دس سے زائد افراد زخمی بھی ہو گئے تھے۔ دارالحکومت بلغراد کے جنوب میں پچاس کلومیٹر دور واقعے گاؤں دُوبونا میں 21 سالہ مشتبہ حملہ آور نے اندھا دھند فائرنگ کر کے آٹھ افراد کو ہلاک کر دیا تھا اور جائے واقعہ سے فرار ہو گیا تھا۔
اس حملہ آور کی گرفتاری کے لیے پولیس نے ایک وسیع آپریشن کا آغاز کیا تھا، جس میں چھ سو سے زائد اہلکار تعینات کیے گئے تھے، جن میں انسداد دہشت گردی شعبے کے اہلکار بھی شامل تھے۔ مقامی میڈیا کے مطابق اس گرفتاری کے لیے ڈرونز، ہیلی کاپٹر اور تھرمل امیجنگ کیمروں کی ٹیکنالوجی تک استعمال کی گئی۔ جمعرات کی شب پیش آنے والے اس واقعے کے بعد پوری رات اس حملہ آور کی تلاش کا آپریشن جاری رہا۔
بتایا گیا ہےکہ کراجیواچ گاؤں جہاں سے اس مشتبہ حملہ آور کو حراست میں لیا گیا، جائے واقعے سے سو کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ اب تک اس واقعے کے درپردہ محرکات کی بابت تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔
امریکا میں اندھا دھند فائرنگ کے ہلاکت خیز واقعات
امریکا میں لوگوں پر بلااشتعال فائرنگ کے ہلاکت خیز واقعات جدید دور کا المیہ بن چکے ہیں۔ ان واقعات میں اوسطاً سالانہ 30 ہزار انسان مارے جاتے ہیں۔ ایسی اندھا دھند فائرنگ کے واقعات کسی بھی وقت کسی بھی جگہ رونما ہو سکتے ہیں۔
تصویر: Getty Images/S. Platt
تھاؤزنڈ اوکس کے ریستوراں میں فائرنگ
سن 2018 نومبر میں ایک اٹھائیس سالہ سابق میرین فوجی نے لاس اینجلس شہر کے نواحی علاقے تھاؤزنڈ اوکس کے ایک ریسٹورنٹ میں فائرنگ کر کے بارہ افراد کو ہلاک اور دس دیگر کو زخمی کر دیا۔ بارڈر لائن اینڈ گرل نامی ریسٹورنٹ میں ایک کالج کے نوجوان طلبہ کی پارٹی جاری تھی۔ سابق امریکی فوجی نے حملے کے بعد خود کو گولی مار کر خود کشی کر لی۔
تصویر: picture-alliance/AP Photo/M. Terrill
پِٹس برگ کا کنیسہ، دعائیہ عبادت کے دوران فائرنگ
اکتوبر سن 2018 میں پِٹس برگ شہر کے نواحی یہودی علاقے کی ایک قدیمی عبادت گاہ میں کی گئی فائرنگ سے گیارہ عبادت گزار مارے گئے۔ اس حملے کا ملزم گرفتار کر لیا گیا اور اسے انتیس فوجداری الزامات کا سامنا ہے۔ امکان ہے کہ استغاثہ اس کے لیے موت کی سزا کا مطالبہ کر سکتا ہے۔ اس حملہ آور نے پولیس کو بتایا تھا کہ اس کے نزدیک یہودی نسل کشی کے مرتکب ہوئے تھے اور وہ انہیں ہلاک کرنا چاہتا تھا۔
تصویر: picture-alliance/dpa/B. Wittpenn
پارک لینڈ، فلوریڈا
امریکی ریاست فلوریڈا کے علاقے پارک لینڈ کے ایک ہائی اسکول کے سابق طالب علم نے فروری 2018ء میں اپنے اسکول میں داخل ہو کر اپنے ساتھی طلبہ پر فائرنگ کی اور کم از کم سترہ افراد کو ہلاک کر دیا۔ اس واقعے کے بعد امریکی طلبہ نے اسلحے پر پابندی کے حق میں ملک گیر احتجاج بھی کیا۔
تصویر: picture-alliance/E.Rua
ٹیکساس کے چرچ میں دو درجن سے زائد ہلاکتیں
امریکی ریاست ٹیکساس کے علاقے سدرلینڈ اسپرنگز میں ایک چھبیس سالہ نوجوان نے اپنے سسرالی رشتہ داروں سے ناراضی کے بعد ایک گرجا گھر میں داخل ہو کر حملہ کیا۔ فرسٹ بیپٹسٹ چرچ میں نومبر سن 2017 میں کی گئی اس فائرنگ کے نتیجے میں چھبیس افراد مارے گئے تھے۔ ہلاک شدگان کی عمریں اٹھارہ سے بہتر برس کے درمیان تھیں۔
لاس ویگاس کے نواح میں منعقدہ کنٹری میوزک فیسٹیول کے شرکاء پر کی گئی فائرنگ کو جدید امریکی تاریخ کا سب سے خونی حملہ قرار دیا گیا تھا۔ ایک چونسٹھ سالہ حملہ آور نے ایک ہوٹل کی کھڑکی سے میلے کے شرکاء پر بلااشتعال فائرنگ کر کے انسٹھ افراد کو ہلاک کر دیا۔ آٹھ سو سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔ اس شخص نے بعد میں خود کو گولی مار کر خود کشی کر لی تھی۔ اس حملے کے محرکات ابھی تک غیر واضح ہیں۔
تصویر: picture-alliance/M. J. Sanchez
پَلس نائٹ کلب، اورلینڈو
ایک افغان نژاد امریکی نے ریاست فلوریڈا کے بڑے شہر اورلینڈو کے ہم جنس پرستوں کے ایک کلب میں داخل ہو کر کم از کم پچاس افراد کو اپنی رائفل سے بلااشتعال فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔ جون سن 2016 میں کیے گئے اس حملے کی وجہ حملہ آور کی ہم جنس پرستی سے شدید نفرت تھی۔ اس حملے کی دنیا بھر کے ہم جنس پرست حلقوں نے مذمت کی تھی۔
تصویر: Reuters/J. Young
سینڈی ہُک اسکول، نیو ٹاؤن، کنَیٹیکٹ
امریکی ریاست کنیٹیکٹ کے شہر نیو ٹاؤن کے سینڈی ہُک ایلیمنٹری اسکول میں ایک بیس سالہ نوجوان نے داخل ہو کر فائرنگ کی اور کم از کم بیس افراد کو ہلاک کر دیا۔ ہلاک ہونے والوں میں چھ اساتذہ کے علاوہ باقی سب چھ سے آٹھ برس تک کی عمر کے بچے تھے۔ حملہ آور نے اس حملے سے قبل اپنی والدہ کو بھی گولی مار کر ہلاک کیا تھا۔ بعد ازاں اس نوجوان نے خود کشی کر لی تھی۔
تصویر: AP
سینچری سِکسٹین تھیٹر، اورورا
ریاست کولوراڈو کے شہر اورورا میں ایک فلم دیکھنے والوں کو جولائی سن 2012 میں ایک مسلح شخص کی گولیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اس فائرنگ میں چودہ افراد ہلاک اور پچاس دیگر زخمی ہوئے تھے۔ فلم بین بیٹ مین سیریز کی فلم ’دی ڈارک نائٹ رائزز‘ دیکھ رہے تھے جب ان پر فائرنگ کی گئی تھی۔
تصویر: picture-alliance/dpa
ورجینیا ٹیک یونیورسٹی، بلیکس برگ
ورجینیا کی ٹیکنیکل یونیورسٹی میں ایک طالب علم نے فائرنگ کر کے بتیس افراد کو قتل کر دیا تھا۔ اپریل سن 2007 کی اس فائرنگ کے بعد امریکی عوام نے بہت بااثر نیشنل رائفلز ایسوسی ایشن کی مخالفت شروع کر دی تھی اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ یہ تنظیم امریکا میں گن کنٹرول قوانین کی مخالف ہے۔
تصویر: picture-alliance/dpa/T. Maury
کولمبائن ہائی اسکول، لِٹلٹن
ریاست کولوراڈو کے شہر لِٹلٹن میں کی گئی اس فائرنگ نے پوری امریکی قوم کو صدمے سے دوچار کر دیا تھا۔ یہ کسی اسکول میں اندھا دھند فائرنگ کا پہلا واقعہ تھا۔ کولمبائن ہائی اسکول کے دو ناراض طلبہ خودکار ہتھیار لے کر اسکول میں داخل ہوئے تھے اور انہوں نے فائرنگ کر کے تیرہ انسانوں کی جان لے لی تھی۔
تصویر: picture-alliance/AP Photo/Jefferson County Sheriff's Department
10 تصاویر1 | 10
سیربیا کے وزیرداخلہ نے جائے واقعہ کے دورے پر کہا تھا کہ یہ ایک 'دہشت گردانہ‘ حملہ ہے، تاہم انہوں نے اس واقعے سے متعلق تفصیلات نہیں بتائی تھیں۔
صرف ایک روز قبل سیربیا میں ایک 13 سالہ نوجوان نے ایک اسکول میں فائرنگ کر کے اپنے ہی آٹھ ہم جماعت بچوں اور ایک محافظ کو ہلاک کر دیا تھا۔ جب کہ اس واقعے میں ایک استاد اور چھ طلبہ زخمی بھی ہوئے تھے۔ پولیس نے اس بچے کو بھی اپنی حراست میں لے لیا تھا۔ پولیس کے مطابق اس نوجوان نے حملے کے لیے اپنے والد کی بندوق کا استعمال کیا تھا۔ یہ بات اہم ہے کہ سیربیا حالیہ تاریخ میں جنگوں سے گزرا ہے، تاہم اس انداز کی شوٹنگ کے واقعے اس بلقان ریاست کے لیے انوکھے ہیں۔ گزشتہ ایک دہائی میں اس انداز کی شوٹنگ کے یہ پہلے واقعات تھے۔