سیربیا یورپی یونین کی رکنیت کے لیے امیدوار بن گیا
2 مارچ 2012
برسلز میں یورپی رہنماؤں کے اجلاس کے دوران سویڈن کے وزیر اعظم فریڈرک رائنفیلڈ نے کہا: ’’انہوں نے بہت کچھ کیا ہے اور سیربیا میں یورپی نواز طاقتوں کو ایک ایسے نشان کی ضرورت ہے، جس سے پتہ چلے کہ انہوں نے جو کچھ کیا ہے، یورپ میں وہ دیکھا اور سنا گیا ہے اور اس سے یورپ کا حصہ بننے کی ان کی خواہش کا پتہ چلتا ہے۔‘‘
یورپی یونین کا مقصد ہے کہ بلغراد حکومت اس خطے کی جمہوری اقدار سے وابستگی ظاہر کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ وہاں نسلی کشیدگی پھر سے پرتشدد واقعات کا باعث نہ بنے۔
یورپی رہنماؤں کا یہ فیصلہ سیربیا کو رکنیت دینے کے طویل مرحلے کا پہلا قدم ہے۔ اسے سیربیا کے لیے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے جسے ایک وقت میں جنگوں میں کردار کی وجہ سے بلقان میں چھوت تصور کیا جاتا تھا۔ یہی جنگیں یوگو سلاویہ کے زوال کا باعث بنی تھیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یورپی یونین کی رکنیت کے لیے امیدوار کی حیثیت دراصل سیربیا کی ان طویل کوششوں کا صلہ ہے، جن کے تحت سیاسی اصلاحات عمل میں آئیں، کوسووو کے ساتھ تعلقات بہتر ہوئے اور جنگی جرائم میں ملوث مشتبہ افراد کی گرفتاریوں میں پیش رفت ہوئی۔
لندن میں خارجہ تعلقات کے حوالے سے قائم یورپی کونسل کے اعلیٰ تجزیہ کار ڈینئل کورسکی کا کہنا ہے: ’’یورپی یونین بتدریج بلقان کی شکل کے اس بم کو ناکارہ بنا رہی ہے، جو اس کے پاس رکھا ہوا ہے۔‘‘
کروشیا کو گزشتہ برس جولائی 2013ء میں یورپی یونین کے اٹھائیسویں رکن ملک کا درجہ دینے کی منظوری دی گئی تھی۔ کوسووو بھی یورپی یونین کے ساتھ قریبی سیاسی اور تجارتی تعلقات استوار کر رہا ہے۔ کوسووو نے 2008ء میں سیربیا سے آزادی کا اعلان کیا تھا، جسے بلغراد حکومت تاحال تسلیم نہیں کرتی۔
رپورٹ: ندیم گِل / خبر رساں ادارے
ادارت: عاطف بلوچ