جنوبی افریقی پارلیمان نے نائب صدر سیرل رامافوسا کو بلامقابلہ نیا صدر منتخب کرلیا ہے۔ اس سے قبل سابق صدر جیکب زوما کرپشن کے سنگین الزامات کے بعد مستعفی ہوگئے تھے۔
تصویر: Reuters/M. Hutchings
اشتہار
جنوبی افریقہ میں سیرل رامافوسا نے صدر کے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔ حکمران پارٹی کی طرف سے دباؤ کے نتیجے میں صدر جیکب زوما نے استعفیٰ دے دیا تھا، جس پر سابق نائب صدر رامافوسا کو اس منصب کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔ وہ بلا مقابلہ منتخب کیے گئے تھے کیونکہ کوئی دوسرا امیدوار ان کے مقابل نہیں آیا تھا۔
65 سالہ سیرل راما فوسا نے اپنے صدارتی پیغام میں بدعنوانی کے خاتمے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ نئی حکومت ملک سے بدعنوانی کے خاتمے کی بھرپور کوشش کرے گی۔
ماضی میں سیرل راما فوسا، جنوبی افریقہ میں نسلی عصبیت کے خلاف تحریک کے اہم رکن تھے۔ راما فوساکا مزید کہنا تھا کہ بدعنوانی کا انسداد ان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور ان کی پوری کوشش ہو گی کہ وہ جنوبی افریقی عوام کو مایوس نہ کریں۔
دوسری جانب جنوبی افریقہ کی اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹک الائنس کے رہنما مموسی مائیمانے کا کہنا ہے کہ اگر صدر رامافوسا عوام کے مفاد میں فیصلے لیں گے تو ان کی جماعت صدر رامافوسا کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔
جنوبی افریقہ میں اقلیتی سفیدفام باشندوں کی حکومت کے خاتمےکے بعد سن 1990 میں نیلسن منڈیلا پہلے سیاہ فام صدر بنے تھے۔ سیرل رامافوسا متوقع طور پر آج بروز جمعہ پہلی مرتبہ بطور صدر عوام سے خطاب کریں گے۔
جنوبی افریقہ: نسلی امتیاز کا عروج اور زوال
جنوبی افریقہ کی جدید تاریخ کی عکاسی جس طرح فوٹو گرافی سے ہوتی ہے، شاید ہی کسی دوسرے طریقے سے اس تکلیف دہ دور کو بیان کیا جا سکتا ہو۔ جنوبی افریقہ میں نسلی عصبیت سے آزادی کے تیس سال مکمل ہونے پر مڑ کر تاریخ کو دیکھتے ہیں۔
تصویر: Museum Africa
ٹھیک تیس برس قبل ستائیس اپریل سن 1994 میں جنوبی افریقہ میں پہلی مرتبہ سیاہ فام ووٹرز نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا، جس کی بدولت نیلسن منڈیلا اس افریقی ملک کے صدر منتخب کیے گئے۔ یوں اس ملک میں نسلی تعصب پر مبنی حکومت کا خاتمہ ہوا۔
تصویر: Museum Africa
سیاہ فام فوٹو گرافر پیٹر مگابے کو گرفتار کیا جا رہا ہے۔ جرمن فوٹو گرافر ژورگن شادیبرگ نے مگابے کو فوٹو گرافی کے ہنر بتائے تھے۔ لیجندڑی میگزین DRUM میں ڈرائیوار کے طور پر اپنا کیریئر شروع کرنے والے مگابے نے بعدازاں اپنی فوٹو گرافی سے ’نسلی عصبیت کے خلاف بغاوت‘ کے کئی اہم واقعات کو فلمبند کیا، جو اب ان کی پہچان بن چکے ہیں۔
تصویر: Museum Africa, Johannesburg
جنوبی افریقہ میں نسلی عصبیت کی بنیاد پر قائم حکومت نے سن 1950میں رہائشی علاقوں کو نسلی بنیادوں پر تقیسم کرنا شروع کیا۔ تب سیاہ فاموں کے اکثریتی علاقے صوفا ٹاون سے تمام مقامی شہریوں کو نکال دیا گیا اور اسے صرف سفید فاموں کے لیے مختص کر دیا گیا۔ اس کا نام ’ٹری آمپف‘ رکھ دیا گیا۔
تصویر: Museum Africa
مقامی سیاہ فاموں کو روانہ طویل سفر کر کے اپنے دفاتر پہچنا پڑتا تھا۔ مسافروں سے کچھا کھچ بھری ٹرینوں میں مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑتا تھا۔ فوٹو گرافر سانتو موفوکینگ نے اسی دوران کئی لمحات کو تصویروں میں قید بھی کیا۔
تصویر: Museum Africa, Johannesburg
غداری کے ایک مقدمے میں 1956ء میں جن 156 سیاہ فاموں کو غداری کا مرتکب قرار دیا گیا، ان میں نیلسن منڈیلا بھی شامل تھے۔ ایک برس قبل ہی انہوں نے نسلی امتیاز پر مبنی قوانین کے خاتمے پر زور دیا تھا۔
تصویر: Museum Africa, Johannesburg
جنوبی افریقہ میں 1976ء میں ایک مظاہرے کے دوران بارہ سالہ ہیکٹر پیٹریسن ہلاک ہو گیا تھا۔ فوٹو گرافر سام نزما کی یہ تصویر اس واقعے کی یاد تازہ کر دیتی ہے۔ یہ تصویر دنیا بھر میں انتہائی مقبول ہوئی ہے۔
تصویر: DW/Ulrike Sommer
ان تصاویر میں ایسے دور کو بیان کیا گیا ہے، جب لمحے لمحے میں تکالیف پنہاں تھیں۔ Craddock Four کی تدفین پر لی گئی ایک تصویر۔ 1985ء میں اپوزیشن کے چار ارکان کو اغوا کرنے کے بعد قتل کر دیا گیا تھا۔ بعدازاں معلوم ہوا تھا کہ جنوبی افریقہ کی دفاعی افواج اس واقعے میں ملوث تھی۔
تصویر: Rashid Lombard
تین مئی 1994ء کو جنوبی افریقی عوام کے جذبات دیکھنے کے قابل تھے۔ اس وقت انکشاف ہوا تھا کہ نیلسن منڈیلا جنوبی افریقہ کے پہلے سیاہ فام صدر بننے والے ہیں۔ منڈیلا کے صدر بنتے ہی وہاں کی مقامی سیاہ فام آبادی کے نصیب بھی بدل گئے اور ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔
تصویر: George Hallett
جنوبی افریقہ میں کئی عشروں تک مقامی آبادی تعلیم، صحت اور اقتصادی ترقی سے محروم رہی۔ نسلی امتیاز پر مبنی قوانین کے خاتمے کے بعد اب جنوبی افریقہ ایک جمہوری ریاست بن چکی ہے۔ تاہم ماضی کے زخم اب بھی تازہ معلوم ہوتے ہیں۔