1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
تنازعاتلبنان

سیزفائر کی مدت پوری ہونے سے قبل نئے لبنانی اسرائیلی مذاکرات

مقبول ملک اے ایف پی اور ڈی پی اے کے ساتھ
14 مئی 2026

لبنان جنگ میں اسرائیل اور حزب اللہ کے مابین سیزفائر کی مدت پوری ہونے سے قبل لبنان اور اسرائیل کے مابین امریکہ میں جمعرات 14 مئی کو نئے امن مذاکرات ہو رہے ہیں۔ موجودہ فائر بندی کی مدت آئندہ اتوار کی رات پوری ہو جائے گی۔

تیئیس اپریل کو وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ٹرمپ لبنان جنگ میں فائر بندی کی مدت میں تین ہفتے کی توسیع کا اعلان کرتے ہوئے، ان کے پاس ان کی انتظامیہ کے اعلیٰ اہلکار اور امریکی، اسرائیلی اور لبنانی سفارتی نمائندے بھی کھڑے ہیں
تیئیس اپریل کو وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ٹرمپ لبنان جنگ میں فائر بندی کی مدت میں تین ہفتے کی توسیع کا اعلان کرتے ہوئے، ان کے پاس ان کی انتظامیہ کے اعلیٰ اہلکار اور امریکی، اسرائیلی اور لبنانی سفارتی نمائندے بھی کھڑے ہیںتصویر: Brendan Smialowski/AFP

امریکی دارالحکومت واشنگٹن سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق ایران جنگ کے آغاز کے بعد ایران نواز لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کی طرف سے اسرائیل پر کیے جانے والے حملوں کے ساتھ شروع ہونے والی لبنان جنگ میں اس وقت ایک ماہ کی جو فائر بندی جاری ہے، اس کا آغاز 17 اپریل کو ہوا تھا۔

اس فائر بندی کی مدت عالمی وقت کے مطابق 17 مئی یعنی آئندہ اتوار کی رات پوری ہو جائے گی، لیکن جنگی فریقین کے مابین ابھی تک یہ طے نہیں پا سکا کہ اس سیزفائر کے خاتمے کے بعد کیا ہو گا۔

لبنان کے جنوبی علاقوں پر اسرائیلی حملے میں ایک بچی سمیت سات افراد ہلاک

یہ اسی تناظر میں ہو رہا ہے کہ فائر بندی کے چند روز بعد خاتمے سے قبل ہی جمعرات 14 مئی کو امریکی دارالحکومت میں مشرق وسطیٰ کی ان دونوں ریاستوں کے اعلیٰ سفارت کاروں کے مابین امریکی ثالثی میں نئے سرے سے امن بات چیت ہو رہی ہے۔

فائر بندی کے باوجود لبنان پر اسرائیلی حملوں (تصویر) میں اب تک سینکڑوں افراد مارے جا چکے ہیںتصویر: Karamallah Daher/REUTERS

فریقین کی طرف سے فائر بندی کا احترام کس حد تک؟

لبنان جنگ میں جس فائر بندی کی مدت کے ختم ہونے سے چند روز قبل اسرائیل اور لبنان آج جمعرات کی شام آپس میں دوبارہ امن مذاکرات شروع کر رہے ہیں، اس کے بارے میں یہ بات بشمکل ہی کہی جا سکتی ہے کہ اسرائیلی فوج اور حزب اللہ اس سیزفائر کا احترام کر رہے ہیں۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ بظاہر اس فائر بندی پر اب تک کسی حد تک عمل درآمد ہو تو رہا ہے، تاہم اس دوران اسرائیلی زمینی دستوں کی طرف سے جنوبی لبنان میں اور اسرائیلی فضائیہ کی طرف سے جنوبی لبنان اور ملکی دارالحکومت بیروت میں بار بار کیے جانے والے حملوں میں اس سیزفائر کے دوران بھی تاحال سینکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسرائیل اور حزب اللہ کے مابین فائر بندی ناکامی کے راستے پر

اسرائیلی فوج کی طرف سے جمعرات کے دن بتایا گیا کہ اس نے جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے مبینہ عسکری ٹھکانوں پر اپنے حملے جاری رکھے۔ اس سے قبل اسرائیلی فوج نے لبنان کے اسی جنوبی علاقے میں کئی قصبوں اور دیہات کے مقامی باشندوں کو خبردار کرتے ہوئے یہ حکم بھی دے دیا تھا کہ وہ ان علاقوں سے ملک کے مشرقی حصے کی طرف منتقل ہو جائیں۔

گزشتہ ماہ کی بارہ تاریخ کو اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو جنوبی لبنان میں موجود اسرائیلی فوجی دستوں سے ملاقات کرتے ہوئےتصویر: Kobi Gideon/Israel GPO/ZUMA/IMAGO

اس کے علاوہ اسرائیلی فوج کی طرف سے یہ بھی بتایا گیا کہ لبنان میں ایران نواز شیعہ ملیشیا ‌حزب اللہ کی طرف سے بھیجا گیا ایک جنگی ڈرون اسرائیل کے ریاستی علاقے میں گرا، جس کے نتیجے میں متعدد عام شہری زخمی ہو گئے۔

لبنان کے سرکاری میڈیا ادارے کا موقف

لبنان کی سرکاری انتظام میں کام کرنے والی نیوز ایجنسی این این اے نے جمعرات کے روز‍ بتایا کہ ملک کے جنوب اور مشرق میں اسرائیل کی طرف سے کیے جانے والے نئے فضائی حملوں میں ایسے علاقوں کو بھی نشانہ بنایا گیا، جہاں مقامی باشندوں کو ان حملوں سے قبل کوئی وارننگ بالکل نہیں دی گئی تھی۔

لبنان میں جھڑپیں: اقوامِ متحدہ کا ایک اور امن فوجی ہلاک

جمعرات کے دن کیے گئے اسرائیلی فضائی حملوں سے قبل بدھ 13 مئی کو بیروت میں لبنانی وزارت صحت نے تصدیق کر دی تھی کہ کل کیے گئے اسرائیلی فضائی حملوں میں بھی 22 افراد مارے گئے تھے، جن میں کم از کم آٹھ بچے بھی شامل تھے۔

کل بدھ 13 مئی کو بھی لبنان پر کیے گئے اسرائیلی فضائی حملوں میں لبنانی وزارت صحت کے مطابق کم از کم 22 افراد مارے گئے، جن میں آٹھ بچے بھی شامل تھےتصویر: REUTERS

گزشتہ لبنانی اسرائیلی مذاکرات

اسرائیل اور لبنان کے درمیان امریکہ میں تعینات دونوں ممالک کے اعلیٰ سفارتی نمائندوں کی سطح کی آج ہونے والی بات چیت سے پہلے ایسے گزشتہ مذاکرات وائٹ ہاؤس میں امریکی نمائندوں کی موجودگی میں 23 اپریل کو ہوئے تھے۔

اس سے پہلے موجودہ لبنان جنگ میں پہلی مرتبہ چند روزہ فائر بندی کا اعلان کیا گیا تھا۔ پھر 23 اپریل کو ہونے والی بات چیت کے بعد امریکی صدر ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ اس فائر بندی کی مدت میں مزید تین ہفتے کی توسیع پر اتفاق ہو گیا ہے۔

اس اعلان کے ساتھ ہی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس امید کا اظہار بھی کیا تھا کہ اسرائیل اور اس کے ہمسایہ ملک لبنان کے مابین مستقبل قریب میں ایک جامع معاہدہ طے پا جائے گا۔

حزب اللہ لبنان میں طاقت ور کیوں ہے؟

04:09

This browser does not support the video element.

دونوں ممالک کے مابین اب تک کوئی باقاعدہ امن معاہدہ طے نہ پانے کی وجہ سے اسرائیل اور لبنان تکنیکی طور پر عشروں سے ایک دوسرے کے خلاف حالت جنگ میں ہیں۔

ادارت: جاوید اختر

مقبول ملک ڈی ڈبلیو اردو کے سینیئر ایڈیٹر ہیں اور تین عشروں سے ڈوئچے ویلے سے وابستہ ہیں۔
ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں