1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

سینٹ کیٹس ٹیسٹ، پاکستان کا ’کم بیک‘

22 مئی 2011

سینٹ کیٹس ٹیسٹ کے دوسرے دن پاکستان نے کم بیک کرتے ہوئے ویسٹ انڈیز کے آٹھ کھلاڑی آؤٹ کر دیے ہیں۔ میزبان ٹیم نے دوسرے دن کے اختتام تک 183 رنز بنائے۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحقتصویر: AP

دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے دوسرے اور آخری ٹیسٹ میچ کے دوسرے دن کے اختتام پر پاکستانی ٹیم کا پلڑہ بھاری ہو گیا ہے۔ پاکستان کی پہلی اننگز 272 رنز کے جواب میں ویسٹ انڈیز کی ٹیم اپنی پہلی اننگز میں لڑکھرا گئی ہے۔ اس وقت پاکستان کو 88 رنز کی برتری حاصل ہے۔ اب یہ امید پیدا ہو گئی ہے کہ پاکستانی ٹیم یہ ٹیسٹ جیت کر دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز برابر کر سکتی ہے۔

ویسٹ انڈیز کی طرف سے نمایاں بلے باز مارلن سیمولز رہے، انہوں نے57 رنز بنائے اور سعید اجمل کی گیند پر توفیق عمر کو کیچ دے بیٹھے۔ ویسٹ انڈین کرکٹ ٹیم نے شیو نارائن چندرپال کی کمی شدت سے محسوس کی اور کوئی بھی کھلاڑی ان کی طرح کا کھیل پیش نہ کر سکا۔ وہ زخمی ہونے کے باعث اس میچ میں شرکت نہیں کر رہے ہیں۔

ویسٹ انڈیز نے جب پاکستانی ٹیم کی پہلی اننگز کے اسکور 272 رنز کے جواب میں اپنی پہلی اننگز شروع کی تو اوپنر ’ان فارم‘ کھلاڑی سیمینز کوئی رن بنائے بغیر ہی تنویر احمد کے ہاتھوں آؤٹ ہو گئے۔ جس کے بعد وقفے وقفے سے وکٹیں گرنے کا سلسلہ جاری رہا۔

سعید اجمل نے عمدہ بولنگ کے ساتھ بہترتین بلے بازی کا مظاہرہ بھی کیاتصویر: APImages

پہلا ٹیسٹ میچ کھیلنے والےKC Brathwaite پندرہ ، ڈیرن براوو24، رام نیریش ساروان 20، برینڈن نیش 6 ، کارلٹن باگ بھی 6 جبکہ کپتان سامی 16 کے انفرادی اسکور پر آؤٹ ہوئے۔

پاکستان کی طرف سے سعید اجمل، محمد حفیظ اور عبدالرحمان نے دو دو جبکہ تنویر احمد اور وہاب ریاض نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔

قبل ازیں جب دوسرے دن کے کھیل کے آغاز پر پاکستانی بلے باز میدان میں اترے تو معلوم ہو رہا تھا کہ شاید پاکستانی ٹیم 200 رنز بھی مکمل نہیں کر سکے گی تاہم تنویر احمد کی نصف سنچری اور لاسٹ مین سعید اجمل کے 23 قیمتی رنز کی بدولت پاکستانی ٹیم ایک اچھا اسکور بنانے میں کامیاب ہو گئی۔ ان دونوں کھلاڑیوں نے دسویں وکٹ کی شراکت میں 78 رنز بنائے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: عاطف توقیر

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں
ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں