1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

شامیوں کے مابین مکالمت چاہتے ہیں: بشار الاسد

Kishwar Mustafa15 ستمبر 2012

شامی صدر بشار الاسد نے مزید کہا ہے کہ ان کی حکومت ملکی بحران کے خاتمے کےلیے تمام تر مخلص اور سنجیدہ کوششوں کا ساتھ دینے کےلیے تیار ہے۔ بشرطیکہ یہ کوششیں آزاد اور غیر جانب دار ہوں۔

تصویر: picture-alliance/dpa

شام کا مسلسل بڑھتا ہوا تنازعہ پورے خطے اور تمام دنیا کے لیے نہایت خطرناک شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔ یہ کہنا ہے شام کے لیے عرب لیگ اور اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اخضر براہیمی کا جنہوں نے آج شامی صدر سے دمشق میں ملاقات کی ہے۔

شام کے سرکاری ٹیلی وژن کے مطابق صدر بشار الاسد نے آج شام کے لیے عرب لیگ اور اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اخضر براہیمی کے ساتھ ملاقات کے بعد ایک بیان میں شامیوں کے مابین مکالمت پر زور دیا ہے۔ اسد نے کہا،’ ہمارے ملک کا اصل مسئلہ سیاست کو آن گراؤنڈ ہونے والے عملی کاموں کے ساتھ ملانے کا ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی کاموں کی کامیابی کا دار ومدار اُن ممالک پر دباؤ ڈالنے پر ہے جو دہشت گردوں کی تربیت کے لیے مالی معاونت کر رہے ہیں اور یہ بحران زدہ ملک شام میں بے تحاشہ اسلحہ لا رہے ہیں۔ جب تک بیرونی طاقتیں اس طرح کی مدد بند نہیں کریں گی تب تک سیاسی اقدامات کامیاب نہیں ہو سکتے۔‘

بشار الاسد کے خلاف عوامی احتجاج بدستور جاری ہےتصویر: Reuters

شامی صدر بشار الاسد نے مزید کہا ہے کہ ان کی حکومت ملکی بحران کے خاتمے کےلیے تمام تر مخلص اور سنجیدہ کوششوں کا ساتھ دینے کےلیے تیار ہے۔ بشرطیکہ یہ کوششیں آزاد اور غیر جانب دار ہوں۔

آج دمشق میں شامی صدر کے ساتھ شام کے لیے عرب لیگ اور اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اخضر براہیمی کی ملاقات کے دوران وزیر اعظم ولید معلم اور صدر کی سیاسی اور میڈیا امور کی مشیر بثینۃ شعبان بھی موجود تھیں۔

قبل ازیں شام کے لیے عرب لیگ اور اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اخضر براہیمی نے بشار الاسد کے ساتھ ملاقات کے بعد ایک بیان میں کہا تھا،’ شام کا بحران نہایت خطرناک ہے اور بد سے بد تر شکل اختیار کرتا جا رہا ہے اور یہ شامی عوام، اُس خطے اور پوری دنیا کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے‘۔ براہیمی، جنہوں نے یہ ذمہ داری ماہ رواں کے شروع میں اقوام متحدہ کے سابق سکریٹری جنرل بان کی مون سے لی تھی، کا مزید کہنا تھا،’ ہم شامی عوام کی مدد کے لیے تمام تر کوششیں کریں گے اور بحران کے حل کی کوششوں کو آگے بڑھانے کی ممکنہ حد تک سعی کریں گے۔ تاہم انہوں نے گزشتہ 18 ماہ سے جاری بحران اور جمود کے شکار امن کی کوششوں کی تفصیلات نہیں بتائیں۔

18 ماہ سے جاری بحران نے ملک کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر دیا ہےتصویر: Marine Olivesi

تاہم براہیمی نے کہا ہے کہ شامی حکومت نے دمشق میں شام کے لیے عرب لیگ اور اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کے دفتر کی مدد اور اس کے ساتھ تعاون کا وعدہ کیا ہے۔ ان کا اشارہ اُس سیاسی دفتر کی طرف تھا جس کی سربراہی سفارتکار مختار لمانی کر رہے ہیں۔

اُدھر اقوام متحدہ کی ایک ترجمان Vannina Maestracci نے کہا ہے کہ بشار الاسد سے ملاقات کے بعد براہیمی آج ہی دمشق میں عرب سفیروں اور یورپی یونین کے ایک وفد سے بھی ملاقات کریں گے۔ دریں اثناء انسانی حقوق کی تنظيم سیرین آبزرویٹری فار ہیمون رائٹس کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز یعنی جمعے کو شام میں تشدد کے مختلف واقعات میں 132 افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں 100 سے زائد شہری تھے۔ ان میں سے 18 ہلاکتیں محض دار الحکومت دمشق میں ہوئی۔

km/ij (AFP)

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں
ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں