شامی اپوزيشن کو يورپی يونين کی جزوی حمايت حاصل
20 نومبر 2012
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق يورپی يونين نے شام کی نئی متحد قومی اپوزيشن تنظيم سيريئن نيشنل کوئيليشن کو ملکی عوام کی ’جائز نمائندہ تنظيم‘ قرار ديتے ہوئے اس کی حمايت کا اعلان کيا ہے۔ تاہم يونين نے اس نئے اتحاد کو فرانس کی طرح شامی عوام کی ’واحد جائز نمائندہ تنظيم‘ کے طور پر تسليم نہيں کيا ہے۔ يہ فيصلہ گزشتہ روز برسلز ميں منعقدہ رکن ممالک کے وزراء خارجہ کے اجلاس ميں کیا گيا۔ اس بارے ميں وزراء خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ايک بيان ميں کہا گيا ہے، ’يورپی يونين اس اپوزيشن کو شامی عوام کی خواہشات کا جائز نمائندہ مانتی ہے‘۔
يورپی يونين کے رکن ممالک نے اس اتحاد کو مکمل طور پر تسليم نہيں کيا کيونکہ شامی باغيوں کے درميان انتہا پسند عناصر کی موجودگی اور اقوام متحدہ کے تحقيق کاروں کی جانب سے باغيوں پر جنگی جرائم کے الزامات کی روشنی ميں مغربی ممالک چند خدشات کا شکار ہيں۔
واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے فرانس نے اپوزیشن کے نئے اتحاد کو شامی عوام کی واحد نمائندہ تنظيم کے طور پر تسليم کر ليا تھا اور اس پيش رفت کے بعد فرانسيسی وزير خارجہ نے باغيوں کو اسلحے کی فراہمی کے حوالے سے مذاکرات کا مطالبہ بھی کيا تھا۔ پير کو ہونے والے اجلاس ميں باغیوں کو اسلحے کی فروخت سے متعلق پابندياں اٹھانے کے حوالے سے بھی بات ہوئی جس پر وزراء کے مابين مختلف آراء پائی جاتی تھيں۔
نيوز ايجنسی روئٹرز کے مطابق يورپی يونين شام کے مسئلے کا حل مکالمت کے ذريعے چاہتی ہے۔ اس سلسلے ميں يونين کی خارجہ امور کی سربراہ کيتھرين ايشٹن کا کہنا ہے کہ نئی متحد اپوزيشن کو يورپی يونين کی حمايت حاصل ہے۔
دريں اثناء برسلز ميں منعقدہ اس اجلاس ميں مشرق وسطیٰ بالخصوص فلسطين اور اسرائيل کے درميان جاری محاذ آرائی پر بھی بات چيت ہوئی۔ رکن ممالک نے اسرائيل اور حماس پر زور ديا کہ وہ غزہ ميں جلد از جلد فائر بندی کے کسی معاہدے پر متفق ہوں۔ يونين نے فلسطين اور اسرائيل کے مسئلے ميں ثالثی کا کردار ادا کرنے والے ملک مصر کو سراہتے ہوئے کہا کہ اسے يورپی يونين کی حمايت حاصل ہے۔ اس بارے ميں جاری کردہ بيان ميں کہا گيا ہے، ’اسرائيل کو يہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے عوام کو اس قسم کے حملوں سے بچائے، ليکن ايسا کرتے ہوئے احتياط برتنا اور شہريوں کی جانوں کی حفاظت کو يقينی بنانا بھی لازمی ہے‘۔
(as /ia (Reuters