شامی اپوزیشن کی فرینڈز آف سیریا کی اجلاس میں شرکت سے معذوری
23 فروری 2013
جمعے کے روز مصر کے دارالحکومت سے شام کی اپوزیشن کے قومی اتحاد کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ وہ فرینڈز آف سیریا کے روم میں منعقدہ اجلاس میں شریک نہیں ہو گا۔ اسی طرح اتحاد نے روس کے دارالحکومت ماسکو اور امریکی دارالحکومت واشنگٹن کے مجوزہ دوروں کی دعوت قبول کرنے سے معذوری کا اظہار کیا ہے۔
قومی اتحاد کی جانب سے ان میٹنگز میں شرکت نہ کرنے کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ حلب میں سکڈ ٹائپ میزائل سے ہونے والی ہلاکتوں کی امریکا اور روس کی جانب سے مذمت نہیں کی گئی ہے۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ حلب شہر اور اس کی تہذیب کو اسد حکومت مرحلہ وار اور منظم انداز میں ختم کرنے کے درپے ہے۔
شام کی اپوزیشن کے قومی اتحاد کے حوالے سے جو اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، اس میں دو مارچ کو اپوزیشن کے وزیر اعظم کے نام کا اعلان ہے۔ اس مناسبت سے شامی اپوزیشن کے قومی اتحاد کا ایک خصوصی اجلاس دو مارچ کو ترکی کے تاریخی شہر استنبول میں شیڈول کیا گیا ہے۔ اس کا فیصلہ مصری دارالحکومت قاہرہ میں دو روز تک جاری رہنے والے قومی اتحاد کی میٹنگ میں کیا گیا۔ اس کا امکان ہے کہ عبوری حکومت کے وزیراعظم اپنی کابینہ کے ناموں کا بھی اعلان کریں گے۔ اپوزیشن کے قومی اتحاد کی بارہ رکنی مشترکہ لیڈر شپ کے ایک رکن ولید البنی کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کی کابینہ میں ٹیکنو کریٹ وزراء شامل ہوں گے۔ یہ امر بھی اہم ہے کہ شام کی اپوزیشن کو مالی معاملات میں مشکلات کا شدید سامنا ہے۔
اُدھر تین میزائل حلب کے رہائشی علاقے میں گرنے سے ہلاکتوں کی تعداد 29 تک پہنچ گئی ہے۔ زخمی 150 سے زائد بتائے گئے ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق امدادی عمل رات میں بھی جاری ہے۔ ایسے اندازے لگائے گئے ہیں کہ ابھی بھی کئی لوگ ملبے تلے دبے ہیں۔ کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے اور اسی باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ حکومت مخالف مقامی افراد کے مطابق میزائل روسی ساخت کے سکڈ ٹائپ تھے اور ان کے رہائشی علاقے میں گرنے سے 65 سے زائد مکانات تباہی کا شکار ہوئے۔
حلب شہر سے حکومت مخالف ایک شہری ابو عمر الحمصی نے جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے کو بتایا کہ حلب کے بعض حصوں پر بشار الاسد کی فوج کی جانب سے جو شیلنگ کی جا رہی ہے وہ بیان نہیں کی جا سکتی۔ شیلنگ حلب کے اس علاقے پر کی جا رہی ہے، جس پر حکومت مخالف باغی کنٹرول رکھتے ہیں۔ ابو عمر الحمصی نے شامی اپوزیشن سے اپیل کی ہے کہ وہ اسد حکومت کی جانب سے جاری شیلنگ کے حوالے سے سخت مؤقف اپنائے۔ حلب میں ہلاکتیں دارالحکومت دمشق میں کار بم دھماکے کے بعد سامنے آئی ہیں۔ المزرعہ میں ہونے والے کار بم دھماکے میں 83 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
(ah/ng(AFP, dpa, Reuters