شامی بغاوت اور ترکی
31 دسمبر 2012
ترک وزيراعظم رجب طيب ايردوآن نے ايک بار پھر شامی صدر بشار الاسد سے اقتدار چھوڑ دينے کا مطالبہ کيا ہے۔ انہوں نے سرحدی گاؤں اکچاکلے کے ايک مہاجرکيمپ ميں تقرير کرتے ہوئے کہا کہ 100 سے زائد ملک اسد کی حکومت کو تسليم نہيں کرتے اس ليے بشار الاسد کو جانا ہو گا۔ اکچا کلے ميں شامی پناہ گزينوں کی تعداد 25 ہزار کے لگ بھگ ہے۔ شامی اپوزيشن کے رہنما معاذ الخطيب ترک وزير اعظم ايردوآن کے ہمراہ تھے۔ ايردوآن نے کہا، ’’ ہر مقدس پيدائش تکليف دہ ہوتی ہے۔ شام اس وقت ايک مقدس جنم کی تياری کر رہا ہے، جس کے نتيجے ميں پوری شامی قوم اقتدار حاصل کر لے گی۔‘‘
اُدھر شامی دارالحکومت دمشق کے شمال ميں، جہاں سرکاری فوج اور باغيوں کے درميان باقاعدگی سے لڑائی ہوتی رہتی ہے، تشدد زدہ اور مسخ شدہ 30 لاشيں ملی ہيں۔ ايک نگران تنظيم نے کہا کہ لاشوں کی شناخت نہيں ہو سکی ہے۔
شامی انقلابی جنرل کميشن نامی ايک تنظيم نے کہا کہ لاشوں کی تعداد 50 تھی۔ اُن کے سر کٹے ہوئے تھے اور وہ اس حد تک مسخ کر دی گئيں تھيں کہ اُن کی شناخت نا ممکن تھی۔
ان اطلاعات کی غير جانبدار ذرائع سے تصديق نہيں ہو سکی ہے کيونکہ شامی حکومت کی طرف سے بين الاقوامی صحافيوں کی سرگرميوں کی مکمل ممانعت ہے۔ اس کا انکشاف اتوار کو ہوا۔
اُسی دن عرب ليگ اور اقوام متحدہ کے نمائندے برائے شام لخضر براہيمی نے کہا تھا کہ اُن کے پاس تنازعے کو ختم کرنے کا ايک ايسا منصوبہ ہے جو عالمی طاقتوں کو منظور ہو سکے گا۔
مارچ 2011 ميں پھوٹنے والی بغاوت کے نتيجے ميں شام ميں اب تک بقول اپوزیشن 45 ہزار جانيں ضائع ہو چکی ہيں۔ صرف پچھلے اتوار ہی کو 160 افراد ہلاک ہو گئے، جن ميں سے 78 شہری اور41 فوجی تھے۔