شامی شہر حلب میں شدید لڑائی جاری، ترکی کی مصالحت کی پیشکش
8 جنوری 2026
برسوں تک خونریز خانہ جنگی کا شکار رہنے والے ملک شام کے محکمہ شہری دفاع کے مطابق حلب میں ان جھڑپوں کا مرکز اس شہر کے شیخ مقصود اور الاشرفیہ نامی علاقے ہیں، جو کرد فورسز کے کنٹرول میں ہیں اور جہاں سے حالیہ دنوں میں تقریباﹰ 2350 عام شہری اپنی جانیں بچانے کے لیے رخصت ہو چکے ہیں۔
عدم اعتماد کی فضا: شام میں ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے لیے تاحال حمایت
کل بدھ سات جنوری کے روز شامی فوج نے حلب شہر کے ان دونوں علاقوں کو مقامی وقت کے مطابق سہ پہر تین بجے سے ''فوج کی طرف سے سیل کردہ علاقے‘‘ قرار دے کر وہاں کرفیو نافذ کر دیا تھا۔ لیکن اس کرفیو کے نفاذ کے بعد بھی وہاں شامی فوج اور کردوں کی قیادت میں فعال سیریئن ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کے مابین جھڑپیں بند نہیں ہوئی تھیں، اور وہ آج جمعرات کی صبح تک جاری تھیں۔
دمشق حکومت کا 'محدود فوجی آپریشن‘ کا اعلان
حلب میں جاری انہی جھڑپوں کے پس منظر میں دمشق حکومت نے کل بدھ کے روز اعلان کیا تھا کہ شامی فوج وہاں ایک ''محدود فوجی آپریشن‘‘ کر رہی ہے۔ اس کی وجہ حکومت کی طرف سے یہ بتائی گئی تھی کہ کردوں کی قیادت والی ایس ڈی ایف فورسز نے حلب شہر کے رہائشی علاقوں، عام شاہراہوں اور ملکی سکیورٹی فورسز پر حملے شروع کر دیے تھے۔
شامی شہر حمص کی علوی مسجد میں بم دھماکہ، آٹھ افراد ہلاک
شامی فوج اور سیریئن ڈیموکریٹک فورسز کے مابین ان جھڑپوں کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ماضی قریب میں دونوں کے مابین طے پانے والے اس معاہدے پر اب تک عمل نہیں ہو سکا، جس کے تحت ان کرد فورسز کو شامی فوج میں ضم کیا جانا تھا۔
ترکی کی طرف سے مصالحتی کوششوں کی پیشکش
شمالی شام کے شہر حلب میں ملکی فوج اور کرد فورسز کے مابین انہی جھڑپوں کے حوالے سے اب ترکی نے یہ پیشکش کر دی ہے کہ وہ اس تنازعے کے حل میں مدد کر سکتا ہے۔
انقرہ سے جمعرات آٹھ جنوری کو موصولہ رپورٹوں کے مطابق ترک پارلیمان کے اسپیکر نعمان کورتولموش نے کہا کہ ترکی، جسے اپنے ہاں بھی سالہا سال سے کردوں کی علیحدگی پسندی اور عسکریت پسندی کا سامنا رہا ہے، شامی شہر حلب میں مسلسل بدلتی صورت حال پر لمحہ بہ لمحہ نظر رکھے ہوئے ہے۔
کورتولموش نے کہا، ''ترکی اس تنازعے کے حل میں مدد کرنے کے لیے تیار ہے۔‘‘
بشارالاسد کی معزولی کے ایک سال بعد شام کہاں کھڑا ہے؟
شامی رہنما کا دورہ واشنگٹن اور ایک نئی علاقائی ترتیب کا آغاز؟
حلب میں گزشتہ روز تک ہزاروں عام شہریوں کے بےگھر ہو جانے کی وجہ بننے والی ان جھڑپوں پر پائی جانے والی بین الاقوامی تشویش کے حوالے سے یہ بات بھی اہم ہے کہ کل بدھ کے دن واشنگٹن میں ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کے حکام کی طرف سے بھی کہا گیا تھا کہ امریکہ اپنی طرف سے ثالثی کوششوں کے ذریعے اس تنازعے کی شدت میں کمی کے لیے کوشاں ہے۔
ادارت: افسر اعوان