1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

شامی کابينہ ميں ردوبدل

10 فروری 2013

شام کی سرکاری نيوز ايجنسی کے مطابق صدر بشار الاسد نے ملکی کابينہ ميں تبدیلیاں کی ہیں۔ دريں اثناء حکومتی فوج نے باغيوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے ہفتے کے روز بھی جاری رکھے۔

Syrien Assad Kabinett
تصویر: picture-alliance/dpa/dpaweb

شامی نيوز ايجنسی ثناء کے مطابق صدر اسد نے ہفتے کے روز سات وزراء کو تبديل کيا ہے۔ خبر رساں ادارے اے ايف پی کی دمشق سے موصولہ رپورٹ کے مطابق اسد نے ليبر اور سوشل افيئرز کی وزارت کو تقسيم کر کے دو مختلف وزارتوں ميں تبديل کر ديا ہے۔ اب Kinda Shmat سماجی امور کی وزارت سنبھاليں گی جبکہ ليبر منسٹر حسن حجازی ہوں گے۔ وزير خزانہ کے فرائض اسماعيل اسماعيل انجام ديں گے جبکہ سليمان عباس کو تيل اور معدنی وسائل کی وزارت کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ اس کے علاوہ زراعت، ہاؤسنگ اور شہری ترقی اور پبلک ورکس کے وزراء تبديل کيے گئے ہيں۔

نيوز ايجنسی اے ايف پی کے مطابق پرتشدد واقعات اور سياسی عدم استحکام کی وجہ سے شام اقتصادی بحران کا شکار ہے۔ ورلڈ بينک کے اعدادوشمار کے مطابق شام ميں مجموعی قومی پيداوار ميں بيس فيصد کی کمی ريکارڈ کی گئی ہے۔ مغربی ايشيائی ممالک کے ليے اقوام متحدہ کی اکنامک اينڈ سوشل کميشن (ESCWA) نے بے روزگاری کی شرح 37 فيصد بتائی ہے اور مزيد کہا ہے کہ رواں سال کے اختتام تک يہ شرح 50 فيصد تک پہنچ سکتی ہے۔

واضح رہے کہ شام ميں قريب 22 ماہ قبل شروع ہونے والی حکومت مخالف تحريک کے آغاز سے اب تک ملکی صدر بشار الاسد سات مرتبہ کابينہ ميں ردوبدل کر چکے ہيں۔ پچھلی مرتبہ اگست سن 2012 ميں انہوں نے سابق ملکی وزير اعظم رياض حجاب کے منحرف ہوجانے پر کابينہ ميں تبديلياں کيں تھيں۔

دمشق کے نواح ميں شديد لڑائی جاری ہےتصویر: AP

دريں اثناء ہفتے کے روز شمالی صوبے حلب ميں چند باغيوں، جو فوجی اڈے ميں گھس گئے تھے، کی پيشقدمی کو روکنے کے ليے حکومت نے Menegh ملٹری بيس کی حدود ميں فضائی حملے کيے۔ حلب شہر ميں ہونے والی جھڑپوں ميں چھ فوجی اور ايک کرد عسکریت پسند بھی مارا گيا۔ ديگر رپورٹوں کے مطابق شمالی علاقوں ميں حکومتی فوج نے کرد مليشيا کے چيک پوائنٹس کو بھی نشانہ بنايا۔ شام ميں کرد آبادی سب سے بڑی نسلی اقليت ہے اور وہ ملکی تنازعے ميں تاحال کسی فريق کی حامی نہيں ہے۔ کرد اقليت ميں شامل عسکریت پسندوں کی باغيوں اور حکومت کی حامی افواج دونوں ہی کے ساتھ جھڑپيں ہو چکی ہيں۔

دوسری جانب دارالحکومت دمشق کے شمالی اور مشرقی نواحی علاقوں ميں بھی حکومت نے فضائی حملے کيے۔ دمشق کے جنوب ميں واقع شہر سبينہ ميں بھی جنگی طیاروں سے بمباری کی گئی جبکہ درعا شہر ميں جھڑپيں رپورٹ کی گئيں۔ سيريئن آبزرويٹری فار ہيومن رائٹس کے مطابق گزشتہ روز ملک بھر ميں ہونے والی جھڑپوں ميں کم از کم 90 افراد ہلاک ہوئے۔ شام ميں مارچ سن 2011 سے شروع ہونے والی حکومت مخالف تحريک ميں اب تک مختلف اندازوں کے مطابق قريب 60 ہزار افراد مارے جا چکے ہيں۔

(as/ng (AFP

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں