’شام لہو لہو، دنیا خاموش تماشائی‘
24 ستمبر 2012
تیس برس قبل حافظ الاسد نے شام کے شہر حماء میں ٹیلی فون لائنیں منقطع کروا دی تھیں، جس کا مقصد وہاں جاری کریک ڈاؤن کی خبروں کو دبانا تھا۔ یوں انہوں نے اس بات کو یقینی بنایا کہ دنیا کو خبر ہونے سے پہلے ہزاروں افراد کو قتل کرتے ہوئے 1982ء کی بغاوت کو دبا دیا جائے۔
تین دہائیاں گزرنے کے بعد، اب ان کا بیٹا بشار الاسد گزشتہ 18ماہ سے پورے ملک میں ایسی ہی بغاوت کو دبانے کی کوشش کر رہا ہے۔ روئٹرز کے مطابق بشار اپنے والد کی طرح ذرائع ابلاغ سے بچنے میں تو زیادہ کامیاب نہیں ہوئے، لیکن عالمی طاقتوں کے درمیان سرد جنگ کے زمانے کے اختلافات کا انہیں بھرپور فائدہ ہو رہا ہے۔
چین اور روس جیسی عالمی طاقتیں بشار الاسد کی حلیف ہیں اور وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں شام کے خلاف کسی بھی بین الاقوامی کارروائی کو کئی بار روک چکی ہیں۔
اب شام میں حالات اس قدر خراب ہو چکے ہیں کہ حکومت مخالف ذرائع کے مطابق وہاں ہر ہفتے ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو رہے ہیں، جن میں سے بیشتر شہری ہوتے ہیں۔
حکومتی فورسز کی جانب سے بیشتر علاقوں کا کنٹرول کھو دینے کی بھی اطلاعات ہیں، تاہم وہ ایسے علاقوں میں فضائی حملے کر رہی ہیں۔
یورپی کونسل برائے خارجہ تعلقات کے جولیئن بارنیس ڈیسی کا کہنا ہے کہ بیرونی دنیا کا شام کے تنازعے کی طرف دھیان کم ہو تا جا رہا ہے، جس سے معاملے کی بے رحمی ظاہر ہوتی ہے۔ ان کا کہنا ہے: ’’یہ (معاملہ) مغربی عوام کو اپنی حکومتوں کو کارروائی کے لیے مجبور کرنے پر تحریک نہیں دے رہا۔‘‘
روئٹرز کے مطابق اگر مغربی حکومتیں کارروائی کے لیے بہت دباؤ محسوس کریں تب بھی انہیں خدشہ ہے کہ یہ تنازعہ علاقائی سطح پر پھیل سکتا ہے۔
دوسری جانب امریکا ایک ’ریڈ لائن‘ مقرر کر چکا ہے کہ بشار الاسد کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال پر عسکری کارروائی کی جا سکتی ہے۔ بارنیس ڈیسی نے اس امریکی مؤقف کو بشار الاسد کے لیے تشدد جاری رکھنے کی کھلی چھٹی قرار دیا ہے۔
مغربی طاقتوں کی ایک اور تشویش بشار الاسد کے خلاف سنیوں کی بغاوت ہے، جو خود شیعہ اسلام سے قریب اقلیتی علوی برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔ باغی دھڑوں میں سنی اسلام پسندوں اور جہادیوں کی موجودگی پر مغرب کو تشویش ہے۔ جرمن انسٹیٹیوٹ فار انٹرنیشنل اینڈ سکیورٹی افیئرز کے ڈائریکٹر فولکر پیرتھیس کا کہنا ہے: ’’کوئی بھی باغیوں کی مدد کر کے افغانستان جیسی ایک اور صورت حال پیدا کرنے کا خطرہ مول نہیں لینا چاہتا، جو بعد میں جہادی بن سکتے ہیں۔‘‘
انہوں نے یہ بات 1980ء کی سوویت یونین کے خلاف افغان جنگ کے تناظر میں کہی جب امریکا نے افغان مجاہدین کا ساتھ دیا تھا جو بعد میں مغرب کے خلاف ہو گئے۔
شام میں باغیوں کی جانب سے زیادتیوں کے ثبوت بھی سامنے آئے ہیں جو مغرب کی تشویش کی ایک اور وجہ ہیں۔
روئٹرز کے مطابق اس کے باوجود بعض تجزیہ کاروں کے خیال میں مغربی حکومتوں کو اس صورتِ حال سے خود کو الگ نہیں رکھنا چاہیے۔ واشنگٹن انسٹیٹیوٹ فار نیئر ایسٹ پالیسی کے ماہر برائے شام اینڈریو ٹیبلر کا کہنا ہے: ’’اس موقع پر کچھ نہ کرنا انتہائی تباہ کن ہو گا۔ یوں ہمارے انتہائی ڈراؤنے خوابوں کا حقیقت بننا یقینی ہو جائے گا۔ ‘‘
ng / mm (Reuters)