1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

شام معاملہ، ایران رابطہ گروپ میں اپنے اتحادیوں کی شمولیت کا خواہاں

12 ستمبر 2012

ایران نے منگل کے روز شام کے مسئلے کے حل کے لیے مصرکی جانب سے تخلیق کردہ رابطہ گروپ کا خیرمقدم کیا ہے، تاہم کہا ہے کہ ایران اس گروپ میں اپنے اتحادیوں وینیزویلا اور عراق کی شرکت کا خواہاں ہے۔

تصویر: Reuters

ایرانی نائب وزیر خارجہ Hossein Amir Abdolahian نے اس رابطہ گروپ میں عراق اور وینیزویلا کی شمولیت کی خواہش ظاہر کی ہے۔ ایرانی دفتر خارجہ کی ویب سائٹ پر جاری کردہ بیان میں ایرانی نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ مصر کی جانب سے اس گروپ کے وزارتی سطح کے اجلاس کی دعوت ایک مثبت قدم ہے۔

انہوں نے شام میں خونریزی کے خاتمے کے لیے مصری کوششوں کی بھی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ مصر شام میں رائے شماری کی بنیاد پر خونریزی کا خاتمہ چاہتا ہے، جبکہ وہ شام کی سالمیت کے حق میں ہے اور بیرونی مداخلت کے خلاف ہے۔ ایرانی نائب وزیر خارجہ نے شام کے مسئلے کے حل کے لیے اسے ایک ’متوازن حل‘ قرار دیا۔

شام میں حکومتی فورسز اور باغیوں کے درمیان سخت جھڑپیں جاری ہیںتصویر: Marine Olivesi

واضح رہے کہ مصری صدر محمد مرسی نے اس رابطہ گروپ کی بنیاد رکھی ہے، جس میں مصر، سعودی عرب اور ایران کو شامل کیا گیا ہے تاہم ایران چاہتا ہے کہ اس رابطہ گروپ میں وینیزویلا اور عراق کو بھی شامل کیا جائے۔ یہ بات قابل غور ہے کہ اس گروپ میں شامل مصر، سعودی عرب اور ترکی پہلے ہی صدر بشار الاسد سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کر چکے ہیں جبکہ اس گروپ میں شامل ممالک میں ایران واحد ہے، جو اب بھی شامی صدر اور ان کی حکومت کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔

مصر کی جانب سے پیر کے روز ایک بیان میں بتایا گیا تھا کہ اس گروپ کا وزارئے خارجہ کی سطح کا اجلاس جلد منعقد کیا جائے گا۔ تاہم اجلاس کی کوئی حتمی تاریخ نہیں دی گئی تھی تاہم خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ایک حکومتی اہلکار کا نام شائع کیے بغیر بتایا ہے کہ ممکنہ طور پر یہ اجلاس اگلے ہفتے منعقد ہو گا۔

ایران کی جانب سے کہا گیا ہے کہ عراق عرب لیگ کا موجودہ صدر ہے جبکہ وینیز ویلا ناوابستہ ممالک کی صدارت سنبھالے ہوئے ہے۔ دوسری جانب وینیزویلا کے صدر ہوگو چاویز کی طرف سے کہا گیا ہے کہ ان کا ملک یہ ذمہ داری اٹھانے کے لیے تیار ہے۔

at /ng (

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں