شام ميں بھرپور خانہ جنگی کا خطرہ
10 مئی 2012
شامی دارالحکومت دمشق ميں دو شديد دھماکے صبح اُس وقت ہوئے جب لوگ دفاتر اور ملازمتوں کو جا رہے تھے ۔ شامی سرکاری ٹيليوژن نے دھماکے کے بعد لرزہ خيز تصاوير نشر کيں۔ اُس کے مطابق کم از کم 40 افراد ہلاک اور 170 زخمی ہو گئے۔ برطانيہ ميں قائم انسانی حقوق کی ايک نگران شامی تنظيم کا کہنا ہے کہ شہريوں اور سکيورٹی کے افراد کو ملا کر تقريباً 50 افراد ان دھماکوں ميں ہلاک ہوئے ہيں جن کا ہدف خفيہ اداروں کے دفاتر تھے۔ شامی حکومت نے ان حملوں کا الزام دہشت گردوں پر لگايا ہے جبکہ اپوزیشن کی شامی قومی کونسل نے کہا ہے کہ اس ميں خود حکومت کا ہاتھ ہے۔ ترکی ميں مقيم کونسل کی انتظامی کميٹی کے سمير نشار نے کہا کہ اس کا مقصد شام ميں فائر بندی کی نگرانی کرنے والے اقوام متحدہ کے مبصرين کو تنبيہہ کرنا ہے کہ وہ خطرے سے دوچار ہيں اور عالمی برادری کو يہ دکھانا ہے کہ شامی حکومت دہشت گردوں سے لڑ رہی ہے۔
کل شام ميں اقوام متحدہ کے مبصر مشن کے سربراہ ناروے کے ميجر جنرل رابرٹ موڈ شہر درعا ميں سڑک کے کنارے نصب کيے گئے ایک بم کے دھماکے ميں بال بال بچ گئے۔ اس دھماکے ميں 10 شامی فوجی زخمی ہو گئے۔ جنرل موڈ نے آج کے دھماکوں کی جگہ کا دورہ کرتے ہوئے کہا کہ يہ تشدد کے ذريعے شامی عوام کو مصائب سے دوچار کرنے کی ايک اور مثال ہے۔ اُنہوں نے ملک ميں خونريزی کے خاتمے کے ليے مدد کی اپيل کی اور کہا کہ وہ شامی عوام کے ساتھ ہيں۔
دمشق ميں پچھلے مہينوں کے دوران کئی بم دھماکے ہو چکے ہيں۔ 23 دسمبر کو خود کش حملہ آوروں نے سکيورٹی سروسز کی تنصيبات پر دھماکے کيے تھے جن ميں 44 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ حکومت نے اس کا الزام دہشت گرد تنظيم القاعدہ پر لگايا تھا جبکہ اپوزيشن کا کہنا تھا کہ يہ خود حکومت کا کام تھا۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے شامی حکومت اور اپوزيشن کو خبردار کيا کہ خانہ جنگی سے بچنے کے ليے بہت تھوڑا سا وقت باقی ہے۔ اُنہوں نے فائربندی کی نگرانی کرنے والے اقوام متحدہ کے مشن کے مستقبل کو مشکوک قرار ديا۔ بان کی مون نے کہا کہ اگر خونريزی جاری رہتی ہے تو بھر پور خانہ جنگی شروع ہو جائے گی جس کے پورے علاقے پر تباہ کن اثرات ہوں گے۔
چين نے آج شامی تنازعے کے تمام فريقوں سے تشدد بند کر دينے کی اپيل کی۔
اُدھر عرب ليگ اور اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے برائے شام کوفی عنان نے سلامتی کونسل کو بتايا کہ شام ميں اذيت رسانی، بڑے پيمانے پر گرفتاريوں اور انسانی حقوق کی دوسری خلاف ورزيوں کا سلسلہ جاری ہے۔
sas/aa (AFP)