شام میں اسد دور کا متنازعہ قانون نمبر 93 اب تک کیسے قائم ہے؟
7 فروری 2026
بشار الاسد اگرچہ اقتدار سے جا چکے ہیں، مگر ان کے خاندان کے طویل دورِ حکومت میں نافذ کیے گئے سب سے زیادہ نقصان دہ قوانین میں سے ایک اب بھی شام میں نافذ ہے۔ اسد حکومت نے دہائیوں تک سول سوسائٹی تنظیموں کو کنٹرول کرنے کے لیے 1958ء میں متعارف کرائے گئے قانون نمبر 93 کا سہارا لیا۔ اس قانون کو انجمنوں اور نجی اداروں سے متعلق قانون بھی کہا جاتا ہے۔ پہلے حافظ الاسد اور پھر ان کے بیٹے بشار الاسد کے دور میں اس قانون کے تحت انسانی حقوق کے نگران اداروں، خیراتی تنظیموں اور خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے گروپوں کو دباؤ میں رکھا گیا۔
قانون نمبر 93 کیا ہے؟
یہ قانون ریاست کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ مبہم وجوہات کی بنیاد پر کسی بھی تنظیم کو تحلیل کر دے، جیسے کہ ''عوامی نظم یا اخلاقیات‘‘ کو متاثر کرنا یا یہ قرار دینا کہ اس کی خدمات کی ''ضرورت نہیں‘‘ اور اس کے لیے نہ عدالتی نگرانی ضروری تھی اور نہ ہی اپیل کا کوئی راستہ موجود تھا۔
اس قانون کے تحت حکومت کو تنظیموں کی سیاسی سرگرمیوں، تقاریب کے انعقاد، بین الاقوامی اداروں میں شمولیت، رجسٹریشن، بورڈ اراکین، ملازمین اور بالخصوص غیر ملکی فنڈنگ پر مکمل اختیار حاصل تھا۔
اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں 2016 میں جمع کرائی گئی ایک رپورٹ کے مطابق اسد حکومت نے 1958 کے اس قانون اور بعد میں کی گئی ترامیم کو ''شامی شہریوں کو آزادیِ انجمن سازی کے حق سے مکمل طور پر محروم کرنے‘‘ کے لیے استعمال کیا۔
متنازعہ قانون تاحال برقرار
اسد حکومت کا خاتمہ 2024 کے آخر میں ہوا، تاہم نئی عبوری شامی حکومت کی جانب سے اسے منسوخ کرنے کے اعلانات کے باوجود قانون نمبر 93 تاحال نافذ ہے۔ گزشتہ سال کے آخر میں وزارتِ سماجی امور و محنت نے اعلان کیا تھا کہ فی الحال سول سوسائٹی سے جڑی تنظیمیں اسی قانون کی پابند رہیں گی۔
اندازہ ہے کہ اس وقت شام میں دو ہزار سے زائد ایسی تنظیمیں سرگرم ہیں، جن میں سے کئی نے اس قانون کی منسوخی اور نئے ضابطوں کی تشکیل کا مطالبہ کیا ہے۔
قاہرہ انسٹی ٹیوٹ فار ہیومن رائٹس اسٹڈیز کی ریسرچ ڈائریکٹر آمنہ گلالی کے مطابق، ''سول سوسائٹی کو کنٹرول اور محدود کرنے کے لیے بنائے گئے قوانین صرف اس وجہ سے بے ضرر نہیں ہو جاتے کہ سیاسی قیادت بدل گئی ہو۔ ان کا قانون کی کتابوں میں موجود رہنا کسی بھی وقت استعمال کے لیے ایک تیار قانونی ہتھیار فراہم کرتا ہے۔‘‘
ادارے کا کہنا ہے کہ اس نے شامی حکومت سے قانون منسوخ کرنے کی سفارش کی، مگر کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ ڈوئچے ویلے کی جانب سے شامی حکومت کو بھیجے گئے سوالات کے جوابات بھی موصول نہیں ہوئے۔
مبہم استعمال
اب تک یہ قانون غیر منظم انداز میں نافذ ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ خواتین کے حقوق پر کام کرنے والی تنظیم ''ایکویٹی اینڈ امپاورمنٹ‘‘ کی سربراہ حبہ عزالدین کے مطابق بعض اوقات قانون کا حوالہ دیا جاتا ہے اور بعض اوقات فیصلے زبانی طور پر کیے جاتے ہیں، وہ بھی بغیر کسی واضح وضاحت کے۔
رپورٹس کے مطابق حال ہی میں دمشق میں عبوری انصاف کے موضوع پر ہونے والی ایک تقریب اچانک منسوخ کر دی گئی، جبکہ بعد میں اسی نوعیت کی دیگر تقریبات کی اجازت دے دی گئی۔ برطانیہ میں قائم حقوق کی تنظیم ''دی سیریا کیمپین‘‘ نے بھی اجلاسوں پر پابندیوں اور تقرریوں میں مقامی حکام کی مداخلت کی شکایات موصول ہونے کی تصدیق کی ہے۔
اس صورتحال کے باعث یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ آیا یہ رکاوٹیں عبوری حکومت کی دانستہ پالیسی ہیں یا شام کے دوبارہ آمریت کی جانب بڑھنے کا اشارہ۔
آمریت کی نشانی
شامی انسانی حقوق کے ایک نگران ادارے کے بانی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ وہ امید رکھنا چاہتے ہیں کہ یہ سب دانستہ نہیں مگر حالیہ فرقہ وارانہ تشدد اور سرکاری فورسز کے کردار کے باعث شکوک پیدا ہوتے ہیں۔
سیریئن نیٹ ورک فار ہیومن رائٹس (سی آئی ایچ آر ایس) کے سربراہ فاضل عبدالغنی کا کہنا ہے کہ اگرچہ بیوروکریسی اور پیچیدگیاں موجود ہیں اور قانون میں تبدیلی ضروری ہے مگر شام کو اسد دور سے ورثے میں ملنے والی بدعنوانی، ادارہ جاتی تباہی اور وسائل کی کمی کو بھی مدنظر رکھنا ہو گا۔
سی آئی ایچ آر ایس کے مطابق موجودہ مسائل انتظامی کمزوریوں اور سیاسی فیصلوں کا امتزاج ہیں، جبکہ خواتین کے حقوق کی کارکنان کا کہنا ہے کہ نیت پر فوری نتیجہ اخذ کرنے کے بجائے مسائل کو واضح اور منظم انداز میں حل کرنا ضروری ہے۔
ماہرین کے مطابق شام کی سول سوسائٹی تنظیمیں آمریت سے نکلنے کے عمل میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہیں۔ اسد حکومت کے خاتمے کے بعد کئی تنظیموں کا شام میں دفاتر کھولنا ایک تاریخی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
حبہ عزالدین کے مطابق اصل چیلنج یہ ہے کہ موجودہ عارضی صورتحال مستقل نہ بن جائے کیونکہ اصلاحات میں مسلسل تاخیر شام کو غیر ارادی طور پر پیچھے کی جانب دھکیل سکتی ہے۔
ادارت: عدنان اسحاق