1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

شام میں اصلاحات کافی نہیں، تبدیلی درکار ہے، براہیمی

Afsar Awan25 ستمبر 2012

امریکی شہر نیویارک میں آج منگل 25ستمبر سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس شروع ہو رہا ہے۔ اس اجلاس میں شامی بحران، اسلام مخالف فلم پر ردعمل اور فلسطین کے مسئلے سمیت دیگر موضوعات زیر بحث آئیں گے۔

تصویر: picture-alliance/dpa

اجلاس شروع ہونے سے ایک روز قبل شام کے لیے اقوام متحدہ کے نمائندہ خصوصی لخضر براہیمی نے شام کی صورتحال کے بارے میں جو تصویر کشی کی ہے وہ کچھ زیادہ امید افزا نہیں ہے۔

تشدد، بے دخلی اور موت۔ یہ وہ نقشہ ہے، جو لخضر براہیمی نے اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کو شام کی صورتحال کے بارے میں بتاتے ہوئے کھینچا۔ براہیمی کے بقول شام میں حالات مسلسل دگرگوں ہوتے جا رہے ہیں، ’’میں سمجھتا ہوں کہ شام کی صورتحال انتہائی خراب ہے اور یہ خراب تر ہوتی جا رہی ہے۔‘‘

لخضر براہیمی نے شام کی صورتحال کے بارے میں جو تصویر کشی کی ہے وہ کچھ زیادہ امید افزا نہیں ہےتصویر: AP

سکیورٹی کونسل کے غیر عوامی سیشن کے بعد لخضر براہیمی کا کہنا تھا کہ شام میں جاری بحران صرف خطے کے لیے ہی نہیں بلکہ عالمی امن کے لیے بھی خطرہ ہے۔ براہیمی وہاں حالات کی بہتری کے حوالے سے کچھ زیادہ پر امید نہیں ہیں۔ شام کے مسئلے کے حل کے لیے عالمی برادری کے سابق مندوب کوفی عنان نے ایک چھ نکاتی منصوبہ پیش کیا تھا، تاہم تین ہفتے پہلے اپنی نئی ذمہ داریاں سنبھالنے والے براہیمی کی جانب سے ابھی تک کوئی واضح لائحہ عمل سامنے نہیں آیا، ’’میرے پاس اس وقت کوئی مکمل منصوبہ تو نہیں ہے، لیکن بعض تجاویز ضرور ہیں۔ اور سلامتی کونسل اس بات پر راضی ہو گئی ہے کہ میں جلد از جلد واپس یہاں نیویارک آؤں اور آئندہ اقدامات کے بارے میں مزید تجاویز پیش کروں۔‘‘

شام میں اب جس چیز کی ضرورت ہے وہ تبدیلی ہے، براہیمیتصویر: picture-alliance/dpa

سکیورٹی کونسل کے ارکان کو بریفنگ دینے کے بعد براہیمی کا کہنا تھا کہ دمشق حکومت اصلاحات کے حوالے سے بھی کچھ زیادہ پرجوش دکھائی نہیں دیتی۔ عالمی برادری کے خصوصی مندوب کے مطابق بشارالاسد اپنا اقتدار قائم رکھنے پر مصر ہیں، ’’میں نے دمشق اور باقی جگہوں پر ہر ایک کو یہی بتایا ہے کہ اب محض اصلاحات کافی نہیں ہیں۔ شام میں اب جس چیز کی ضرورت ہے وہ تبدیلی ہے۔‘‘

تاہم یہ تبدیلی صدر بشار الاسد پر بین الاقوامی دباؤ کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران دمشق حکومت کے خلاف دباؤ بڑھانے کے لیے سلامتی کونسل میں پیش کی جانے والی قراردادوں کو روس اور چین کی طرف سے ویٹو کیا جاتا رہا ہے۔ اس حوالے سے لخضر براہیمی کا کہنا تھا کہ شامی مسئلے کے حل کے لیے ان کی کوششیں اس وقت تک کارآمد نہیں ہو سکتیں جب تک پوری عالمی برادری متفقہ طور پر ان کا ساتھ نہ دے، ’’ اگر میں پوری کونسل کی ترجمانی نہیں کرتا تو پھر میں کچھ بھی نہیں ہوں۔‘‘

ہم سب جانتے ہیں کہ شام میں حالات کتنے خراب ہیں، گیڈو ویسٹر ویلےتصویر: UN

جرمن وزیر خارجہ گیڈو ویسٹر ویلے نے بھی روس اور چین پر زور دیا ہے کہ وہ شام کے مسئلے کے حل کے لیے بین الاقوامی برادری کی حمایت کریں۔ انہوں نے جرمنی اور بین الاقوامی برادری کی طرف سے شامی تنازعے کے حل کی کوششیں جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے، ’’جب ہم کوششیں ترک کر دیتے ہیں تو ہم دراصل انسانوں کو تنہا چھوڑ دیتے ہیں۔ ہم سب جانتے ہیں کہ حالات کتنے خراب ہیں۔ مجھے اس ہفتے کسی پیشرفت کی توقع نہیں ہے۔ لیکن ہم کسی بھی صورت میں اپنی کوششیں ترک نہیں کریں گے۔‘‘

اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر نیویارک میں جنرل اسمبلی کے اجلاس میں سربراہانِ مملکت و حکومت کی تقاریر کا آغاز اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون، امریکی صدر باراک اوباما اور فرانسیسی صدر فرانسوا اولانڈ کی تقاریر سے ہو گا۔ جرمنی کی نمائندگی وزیر خارجہ گیڈو ویسٹر ویلے کریں گے، جو جمعے کو خطاب کریں گے۔

Schmidt, Thomas/aba, Hennen, Claudia/aa

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں