1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

شام میں اطالوی پادری اغوا

زبیر بشیر30 جولائی 2013

القاعدہ سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں نے شام میں باغیوں کے زیر قبضہ علاقے سے ایک ممتاز مسیحی پادری کو اغوا کر لیا ہے۔ شامی صوبے رقہ سے اغوا کیے جانے والے اس مذہبی رہنما کو صدر اسد کے خلاف تحریک کا روح رواں سمجھا جاتا ہے۔

Moschee und Kirche in Maalula
تصویر: picture-alliance/dpa

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق فادر Paolo Dall'Oglio کو اس وقت اغوا کیا گیا جب وہ رقہ میں ایک جگہ پیدل جا رہے تھے۔ رقہ کا یہ علاقہ مارچ کے مہینے سے اسد مخالف قوتوں کے قبضے میں ہے۔

شامی حکومت نے فادرپاؤلو ڈال اوگلیو کو گذشتہ برس شام سے نکال دیا تھا۔ ان پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے اسد مخالف قوتوں کی مدد کی ہے۔ فادر پاؤلو اُن دنوں چھٹی صدی عیسوی کی ایک خانقاہ میں خدمات سر انجام دے رہے تھے۔

فادر پاؤلو کو شام میں مذہبی رواداری اور مفاہمت کا علمبر دار سمجھا جاتا تھا۔ انہوں نے کئی مواقع پر شام میں موجود مختلف مذاہب، فرقوں اور قومیتوں سے وابستہ افراد میں پل کا کردار ادا کیا۔ خاص طور پر اس حوالے سے عرب اور کردوں کے درمیان ہم آہنگی کے لیے ان کی کوششیں ناقابل فراموش ہیں۔ وہ شام کو فرقہ وارانہ جنگ کی آگ میں دھکیلنے پر اسد کو ذمہ دار خیال کرتے تھے اور اسد کے فوجیوں کو ’بدمعاش‘ کہتے تھے۔

اپریل میں شام سے اغوا ہونے والے پاؤل یازیگیتصویر: picture-alliance/dpa

اس واقعے سے پہلے اپریل کے مہینے میں بھی ترکی کی سرحد سے ملحقہ شام کے علاقے میں دو عیسائی پادریوں کو اغوا کر لیا گیا تھا۔ جن میں شامی آرچ بشپ گریگوری ابراہیم اور یونان کے آرکتھوڈکس کلیسا کے اسقف پاؤل یازیگی شامل تھے ۔ یہ واقعہ بھی باغیوں کے زیر کنٹرول علاقے میں پیش آیا۔ شام میں دو سال سے جاری فوجی کارروائی کے دوران اغوا کیے جانے والے یہ اعلیٰ ترین درجے کے پادری تھے۔

ایک مغربی سفارت کار کے مطابق فادر پاؤلو گزشتہ ہفتے ترکی کی سرحد سے شام میں داخل ہوئے تھے۔ انہیں خبردار کیا گیا تھا کہ وہ شام میں رقہ کے علاقے میں نہ جائیں کیونکہ وہاں شدت پسندوں نے کئی لبرل سرگرم کارکنوں کو اغوا کیا ہے لیکن وہ ان تمام تر تنبیہات کے باوجود شام جانے پر مصر رہے۔

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں