شام میں اطالوی پادری اغوا
30 جولائی 2013
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق فادر Paolo Dall'Oglio کو اس وقت اغوا کیا گیا جب وہ رقہ میں ایک جگہ پیدل جا رہے تھے۔ رقہ کا یہ علاقہ مارچ کے مہینے سے اسد مخالف قوتوں کے قبضے میں ہے۔
شامی حکومت نے فادرپاؤلو ڈال اوگلیو کو گذشتہ برس شام سے نکال دیا تھا۔ ان پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے اسد مخالف قوتوں کی مدد کی ہے۔ فادر پاؤلو اُن دنوں چھٹی صدی عیسوی کی ایک خانقاہ میں خدمات سر انجام دے رہے تھے۔
فادر پاؤلو کو شام میں مذہبی رواداری اور مفاہمت کا علمبر دار سمجھا جاتا تھا۔ انہوں نے کئی مواقع پر شام میں موجود مختلف مذاہب، فرقوں اور قومیتوں سے وابستہ افراد میں پل کا کردار ادا کیا۔ خاص طور پر اس حوالے سے عرب اور کردوں کے درمیان ہم آہنگی کے لیے ان کی کوششیں ناقابل فراموش ہیں۔ وہ شام کو فرقہ وارانہ جنگ کی آگ میں دھکیلنے پر اسد کو ذمہ دار خیال کرتے تھے اور اسد کے فوجیوں کو ’بدمعاش‘ کہتے تھے۔
اس واقعے سے پہلے اپریل کے مہینے میں بھی ترکی کی سرحد سے ملحقہ شام کے علاقے میں دو عیسائی پادریوں کو اغوا کر لیا گیا تھا۔ جن میں شامی آرچ بشپ گریگوری ابراہیم اور یونان کے آرکتھوڈکس کلیسا کے اسقف پاؤل یازیگی شامل تھے ۔ یہ واقعہ بھی باغیوں کے زیر کنٹرول علاقے میں پیش آیا۔ شام میں دو سال سے جاری فوجی کارروائی کے دوران اغوا کیے جانے والے یہ اعلیٰ ترین درجے کے پادری تھے۔
ایک مغربی سفارت کار کے مطابق فادر پاؤلو گزشتہ ہفتے ترکی کی سرحد سے شام میں داخل ہوئے تھے۔ انہیں خبردار کیا گیا تھا کہ وہ شام میں رقہ کے علاقے میں نہ جائیں کیونکہ وہاں شدت پسندوں نے کئی لبرل سرگرم کارکنوں کو اغوا کیا ہے لیکن وہ ان تمام تر تنبیہات کے باوجود شام جانے پر مصر رہے۔