شام میں ثالث کا کردار ادا کر سکتے ہیں، ایرانی صدر
20 ستمبر 2013
ایرانی صدر حسن روحانی نے امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے لیے ایک کالم میں لکھا ہے: ’’چاہے شام ہو یا بحرین، ہمیں قومی سطح پر بات چیت کے لیے مل جل کر تعمیری کام کرنا ہو گا۔ ہمیں ایسا ماحول پیدا کرنا ہو گا جہاں خطے کے عوام اپنی قسمت کے فیصلے خود کر سکیں۔‘‘
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق روحانی نے اس کالم میں مزید لکھا ہے کہ وہ ’تعمیری شراکت‘ کی پالیسی پر عمل کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ایران کے صدارتی انتخابات میں ان کی جیت سے ایک موقع پیدا ہوا ہے اور ان کے ہم منصبین کو اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔
روحانی کا کہنا ہے: ’’میں ان پر زور دیتا ہوں کہ وہ اس دانشمندانہ مینڈیٹ سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائیں جو میرے عوام نے مجھے دیا ہے اور تعمیری بات چیت کا حصہ بننے کے لیے میری حکومت کی کوششوں کا حقیقی طور پر جواب دیں۔‘‘
وہ آئندہ ہفتے نیویارک میں ہونے والے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران فرانس کے صدر فرانسوا اولانڈ سے ملاقات کی درخواست بھی کر چکے ہیں۔ جمعرات کو امریکی ٹی وی این بی سی نے بھی حسن روحانی کا ایک انٹرویو نشر کیا ہے۔ اس میں انہوں نے امریکی صدر باراک اوباما سے ملاقات کو خارج از امکاں قرار دینے سے انکار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کچھ بھی ممکن ہے۔
حسن روحانی آئندہ ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے لیے نیویارک جائیں گے۔
دوسری جانب امریکا نے آئندہ ہفتے ہونے والے جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر شام کے کیمیائی ہتھیاروں کے لیے اقوام متحدہ کی قرار داد پر زور دیا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ اقوامِ متحدہ کی رپورٹ سے دمشق کے نواح میں کیے گئے کیمیائی حملے میں اسد حکومت کا ہاتھ ثابت ہوتا ہے۔
انہوں نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا: ’’اب امتحان کا وقت ہے۔ سلامتی کونسل کو آئندہ ہفتے کارروائی کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ عالمی برادری کے لیے یہ بات اہم ہے کہ وہ کھڑی ہو جائے اور بولے۔‘‘
اُدھر شام کے نائب وزیر اعظم قدری جمیل نے برطانوی اخبار گارڈیئن سے بات کرتے ہوئے اپنی حکومت کے اس یقین کا اظہار کیا کہ تنازعہ تھم چکا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جنیوا میں ہونے والے طویل عرصے سے تاخیر کا شکار امن مذاکرات ہوئے تو دمشق حکومت فائر بندی کے لیے زور دے گی۔
ان کا کہنا ہے: ’’نہ تو مسلح اپوزیشن اور نہ ہی حکومت، دونوں ایک دوسرے کو شکست دینے کے لیے قابل ہے۔‘‘