1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

شام میں حکومتی فورسز کی بمباری، بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک

Afsar Awan1 اکتوبر 2012

شام میں حکومتی فوج کی طرف سے باغیوں کے گڑھ سمجھے جانے والے علاقوں میں شیلنگ اور فضائی بمباری کے نتیجے میں درجنوں افراد ہلاک ہو گئے ہیں جن میں بچے بھی شامل ہیں۔

تصویر: dapd

باغیوں کے زیر قبضہ شامی صوبہ ادلب کے شہر سلقین Salqeen میں آج پیر کے روز حکومتی فورسز کی فضائی بمباری کے نتیجے میں 21 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ شام میں انسانی حقوق کی صورتحال پر نظر رکھنے والی تنظیم سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں آٹھ بچے بھی شامل ہیں۔

برطانیہ میں قائم اس تنظیم کے سربراہ رامی عبدالرحمان نے انسانی حقوق کےکارکنوں اور طبی ذرائع کے حوالے سے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ سلقین میں ہونے والی اس بمباری کے نتیجے میں ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ  ہےکیونکہ اس علاقے میں 30 لوگ رہائش پزیر تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حملے میں کئی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا۔

سیریئن آبزرویٹری کے مطابق آج پیر ہی کے روز حکومتی فورسز کی طرف سے حما، درعا اور حمص سمیت دیگر مقامات پر شیلنگ کے نتیجے میں 15 دیگر افراد بھی ہلاک ہوئےتصویر: Reuters

سلقین میں موجود انسانی حقوق کے کارکنوں کی طرف سے جاری کی جانے والی ایک ویڈیو میں بمباری کے نتیجے میں ہلاک شدہ لوگوں کو دکھایا گیا ہے۔ رامی عبدالرحمان کے مطابق ہلاک ہونے والے بچوں میں سے تین ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔

سیریئن آبزرویٹری کے مطابق آج پیر ہی کے روز حکومتی فورسز کی طرف سے حما، درعا اور حمص سمیت دیگر مقامات پر شیلنگ کے نتیجے میں 15 دیگر افراد بھی ہلاک ہوئے۔

دوسری طرف شامی حکومت نے الزام لگایا ہے کہ واشنگٹن حکومت صدر بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے لیے کیمیائی ہتھیاروں کا ہوا کھڑا کر رہی ہے۔ امریکی وزیر دفاع لیون پنیٹا نے جمعہ 28 ستمبر کو کہا تھا شامی حکومت نے اپنے کیمیائی ہتھیاروں کو حفاظت کی غرض سے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا ہے۔ 

سیریئن آبزرویٹری کے مطابق شام میں صدر بشار الاسد حکومت کے خلاف مارچ 2011ء سے جاری تنازعہ کے باعث اب تک 30 ہزار سے زائد لوگ ہلاک ہو چکے ہیںتصویر: Getty Images

اس حوالے سے شامی وزیر خارجہ ولید معلم کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ امریکی انتظامیہ کی اختراع ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک پہنچے ہوئے ولید معلم کا بیروت سے تعلق رکھنے والے المایادین نامی ٹیلی وژن کو انٹرویو دیتے ہوئے کہنا تھا کہ عراق کی طرح امریکا نے اب شام میں بھی کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق اختراعی مہم کا آغاز کر دیا ہے۔

امریکی سربراہی میں اتحادی افواج نے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے کیمیائی ہتھیاروں کا جواز بنا کر مارچ 2003ء میں عراق کے خلاف فوجی کارروائی کا آغاز کیا تھا۔ تاہم بعد میں اس طرح کے ہتھیاروں کی موجودگی کا کوئی سراغ نہیں ملا تھا۔

سیریئن آبزرویٹری کے مطابق شام میں صدر بشار الاسد حکومت کے خلاف مارچ 2011ء سے جاری تنازعہ کے باعث اب تک 30 ہزار سے زائد لوگ ہلاک ہو چکے ہیں جن میں دو ہزار کے قریب  بچے بھی شامل ہیں۔

 (aba/ij (AFP

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں