1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

شام میں فرقہ وارانہ تشدد کی تحقیقات کی جائیں، اقوام متحدہ

عاطف توقیر اے پی | ادارت | شکور رحیم
27 مارچ 2026

اقوام متحدہ کے مطابق شام میں گزشتہ برس ہونے والے فرقہ وارانہ تشدد میں 17 سو افراد کی ہلاکت اور فورسز کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تفتیش نہیں کی گئی۔

سویدہ کے علاقے میں موجود اقوام متحدہ کا عملہ
پرتشدد واقعات کی بنا پر اقوام متحدہ نے بھی اپنے عملے کو متاثرہ علاقے سے نکال لیا تھاتصویر: Bakr Alkasem/AFP/Getty Images

اقوام متحدہ کی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شام نے گزشتہ موسم گرما میں ہونے والے فرقہ وارانہ تصادم کے دوران اپنی فورسز کی جانب سے انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کی کوئی باقاعدہ تحقیقات نہیں کیں۔ فرقہ وارانہ تشدد کی اس لہر میں کم از کم 1,700 افراد ہلاک ہوئے، جن کی بڑی تعداد دروز مذہبی اقلیت سے تعلق رکھتی تھی۔

اقوام متحدہ کے آزاد بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن برائے شام نے اپنی رپورٹ میں دمشق حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی سکیورٹی فورسز  اور ان اہم کمانڈروں سے متعلق تفتیش کرے، جنہوں نے دروز کمیونٹی کے خلاف فرقہ وارانہ حملوں کی اجازت دی یا ان کی سرپرستی کی۔

سویدا میں تباہی اور بڑے پیمانے پر نقل مکانی

رپورٹ کے مطابق شام کے دروز اکثریتی علاقے سویدا میں ہونے والے تشدد کے باعث تقریباً دو لاکھ افراد بے گھر ہوئے جبکہ ہلاک ہونے والوں میں تقریباً 200 خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔

جولائی کے وسط میں دروز روحانی رہنما شیخ حکمت الہجری سے وابستہ مسلح گروہوں اور مقامی بدو قبائل کے درمیان جھڑپیں شروع ہوئیں، جس کے بعد حکومتی فورسز نے مداخلت کی اور عملاً بدو قبائل کا ساتھ دیا۔

اس کے بعد پہلے دروز اقلیت کے خلاف اور پھر بدو کمیونٹی کے خلاف فرقہ وارانہ حملے، اغوا اور دیگر پرتشدد واقعات نے حالات کو مزید خراب کر دیا۔

حکومت کے وعدے اور عالمی خدشات

شامی صدر احمد الشرع نے ان واقعات کی تحقیقات اور سرکاری فورسز سمیت تمام ذمہ داران کو جوابدہ بنانے کا وعدہ کیا تھا۔

مقامی افراد تشدد کے خاتمے کے مطالبات کرتے ہوئےتصویر: Shadi Al-Dubaisi/AFP/Getty Images

اس رپورٹ کو مرتب کرنے کے دوران اقوام متحدہ کے تفتیش کاروں نے کئی ہفتوں تک شام میں قیام کیا، 400 سے زائد متاثرین، حکام اور مبینہ ملزمان کے انٹرویوز کیے اور متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا، جن میں حکومتی زیر کنٹرول اور اسرائیل کے حمایت یافتہ دروز گروہوں کے زیرِ اثر علاقے شامل تھے۔

منظم تشدد، لوٹ مار اور عبادت گاہوں کی تباہی

رپورٹ میں بتایا گیا کہ حکومتی کارروائیوں کے دوران ''وسیع پیمانے پر لوٹ مار اور آتش زنی کے منظم‘‘ واقعات پیش آئے جبکہ شہریوں کو قتل اور اغوا بھی کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق''خصوصاً دروز آبادی شدید فرقہ وارانہ تشدد کا شکار ہوئی، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر نقل مکانی ہوئی۔‘‘

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تشدد کے بعد متعدد افراد کی  لاشیں جنگ بندی کے کئی مہینوں بعد بھی سڑکوں، کھیتوں میں پڑی ہوئی، جلی ہوئی حالت میں ملیں جبکہ کچھ کو مسخ کیا گیا تھا۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ ان علاقوں میں تقریباً تمام دروز مذہبی مقامات کو لوٹا، جلایا یا نقصان پہنچایا گیا۔ تین عبادت گاہوں کو نذرِ آتش کیا گیا جبکہ ایک کو لوٹنے کے بعد تباہ کر دیا گیا۔

اسد حکومت کا خاتمہ، ایک سال بعد شام کہاں کھڑا ہے؟

02:31

This browser does not support the video element.

جوابی حملے اور انسانی بحران

رپورٹ میں بتایا گیا کہ بدو شہریوں کے خلاف بھی جوابی حملے ہوئے۔ خصوصاﹰ سویدا کے مغربی علاقوں میں ایسے متعدد حملے دیکھے گئے۔ کئی واقعات میں حملے جان بوجھ کر شہری علاقوں کو نشانہ بنا کر کیے گئے۔

رپورٹ میں ایسے واقعات بھی شامل ہیں جن میں بچوں اور بزرگوں سمیت بدو شہریوں کو اس وقت گولیاں مار کر ہلاک کر دیا گیا، جب وہ متاثرہ علاقے سے فرار کی کوشش میں تھے۔ ایک واقعے میں دو افراد کی لاشیں کئی دن تک گاؤں کے دروازے پر لٹکی رہیں جب کہ اس دوران چار مساجد کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

اسپتالوں پر دباؤ اور لاشوں کی شناخت کا مسئلہ

تشدد کی شدت کے باعث سویدا اور قریبی درعا شہروں کے اسپتالوں پر شدید دباؤ پڑا، جہاں سینکڑوں لاشیں لائی گئیں اور مردہ خانوں میں جگہ ختم ہو گئی۔

کئی لاشیں شدید جھلسی ہوئی تھیں جبکہ کچھ کھلی جگہوں پر پڑی رہیں، جنہیں ممکنہ طور پر جنگلی جانوروں نے نقصان پہنچایا۔

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں