1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

شام میں مبینہ جنگی جرائم سے متعلق نئی فہرست منظر عام پر

Kishwar Mustafa17 ستمبر 2012

آزاد تفتیشی کمیشن سے منسلک تفتیش کاروں نے کہا ہے کہ انہوں نے غیر معمولی اور نہایت خوفناک شواہد اکٹھا کیے ہیں

تصویر: AP

گزشتہ ہفتوں کے دوران شام میں انسانی حقوق کی سخت خلاف ورزیاں ہوئی ہیں۔ یہ کہنا ہے اقوام متحدہ کے شام میں انسانی حقوق کی صورتحال کے بارے میں چھان بین پر مامورایک کمیشن کے سربراہ کا۔ شام کی صورتحال کے بارے میں قائم کیے گئے ایک آزاد تفتیشی کمیشن کے سربراہ Paulo Sergio Pinheiro کا تعلق برازیل سے ہے۔ انہوں نے جنیوا میں سفارتکاروں سے ایک خطاب میں آج پیر کو چند چونکا دینے والے انکشافات کیے۔

بحران زدہ عرب ریاست شام میں 18 ماہ سے جاری خانہ جنگی کے دوران حکومتی فورسزاور صدر بشارالاسد کے مخالفین کے مابین ہونے والی جھڑپوں میں اب تک ہزاروں جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔ بڑی تعداد میں شامی باشندے اپنا ملک چھوڑ کر پڑوسی ممالک کو نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں۔ مصر، لبنان، ترکی، اردن وہ ممالک ہیں جہاں شامی مہاجرین پناہ کی تلاش میں پہنچے ہیں اور یہ سلسلہ ابھی جاری ہے۔ شام کی مجموعی صورتحال کو بارہا خطے اور تمام دنیا کے لیے بڑے خطرے سے تعبیر کیا جاتا رہا ہے۔ دریں اثناء اقوام متحدہ کے ہیومن رائٹس کمیشن اور انسانی حقوق کی تنظيم سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کی طرف سے شام میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں رپورٹیں سامنے آتی رہی ہیں۔ تاہم آج اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے آزاد کمیشن کے تفتیش کاروں نے کہا ہے کہ انہوں نے ایک نئی فہرست تیار کی ہے جس میں جنگی جرائم کے مرتکب شامیوں اور مشتبہ یونٹس کے نام شامل ہیں۔ مزید یہ کہا گیا ہے کہ انہیں کسی روز فوجداری استغاثہ کا سامنا کرنا ہوگا۔

شام کا تاریخی شہر حلب تباہ ہو گیا ہےتصویر: Reuters

Paulo Sergio Pinheiro کی سربراہی میں اس آزاد تفتیشی کمیشن سے منسلک تفتیش کاروں نے کہا ہے کہ انہوں نے غیر معمولی اور نہایت خوفناک شواہد اکٹھا کیے ہیں اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ شام کی صورتحال کو بین الاقوامی فوجداری عدالت میں پیش کرے۔

یہ اپنی نوعیت کی دوسری خفیہ فہرست ہے جسے آج پیر کو جینیوا میں ہیومن رائٹس کے ہائی کمشنر Paulo Sergio Pinheiro کے سامنے پیش کیا گیا۔ انہوں نے اس بارے میں اپنے بیان میں کہا،’ شام میں انسانی حقوق کی پامالی بہت وسیع پیمانے پر ہو رہی ہے۔ گزشتہ ہفتوں کے دوران ان واقعات کی تعداد، ان کی رفتار اور وسعت میں اضافہ ہوا ہے‘۔ Paulo نے مزید کہا: ’’شام میں اسلامی عسکریت پسندوں کی تعداد میں اضافہ اور ان کی موجودگی خطرے کی گھنٹی سے کم نہیں۔ ان میں سے کچھ نے شامی باغیوں کے گروپ میں شمولیت اختیار کر لی ہے جبکہ دیگر عسکریت پسند آزادانہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کی موجودگی باغیوں کو انتہا پسندی کی طرف مائل کر سکتی ہے، جو خود بھی جرائم کے مرتکب ہو رہے ہیں۔‘‘ تاہم Paulo نے یہ نہیں بتایا کہ آیا اس نئی فہرست میں شامی باغیوں اور شامی اہلکاروں کے نام بھی موجود ہیں۔ Paulo کے تفتیش کاروں کی ٹیم نے دراصل اس بارے میں ایک خفیہ فہرست فروری میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کے ادارے کی چیف ناوی پلائے کو فراہم کی تھی۔

ادلب بھی بہت زیادہ متاثر ہوا ہےتصویر: Reuters

دریں اثناء اقوام متحدہ میں شامی سفیر فیصل خباز حموئی نے مغربی دنیا اور عرب طاقتوں پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ شامی باغیوں کی پشت پناہی کرتے ہوئے انہیں زیادہ سے زیادہ اسلحے اور فنڈز فراہم کر رہے ہیں۔ خبازحموئی کے بقول: ’’ مغرب اور عرب ممالک دراصل دمشق کے خلاف جہاد کر رہے ہیں۔‘‘

تاہم انہوں نے کہا ہے کہ اس منصوبے کے نتائج الٹے ثابت ہوں گے۔ اُدھر اقوام متحدہ میں یورپی یونین کی سفیر Mariangela Zappia نے کہا ہے کہ بین الاقوامی برادری کو اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ اس سلسلے میں کسی کو سزا سے استثنیٰ نہیں دیا جائے گا۔ اقوا م متحدہ میں تعینات ترک سفیر اؤگوز دیمیرالپ نے شام کے بحران کو عالمی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا: ’’ہم ان تمام عناصر کو، جنہوں نے شام میں جرائم کیے ہیں یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ انہیں کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ یہ پیغام ان کے لیے بھی ہے جنہوں نے شام میں ان جرائم کی منصوبہ بندی کی، مجرموں کو اکسایا، ان کی حوصلہ افزائی کی اور ان کی معاونت کی۔

ہیومن رائٹس واچ نے آج پیر کو کہا ہے کہ شامی باغی گروپوں نے قیدیوں کو اذیت رسانی اور ناروا سلوک کا نشانہ بنایا ہے۔ اس ادارے کے مطابق حلب، لاذقیہا، اور ادلیب میں زیر حراست افراد کو غیرقانونی طور پر سزائے موت دی گئی ہے۔

km/ng (AFP,Reuters)

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں
ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں