1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

شام میں مبینہ خودکش حملہ اور تنازعے کی حل کی کوششیں

27 ستمبر 2012

شام کے دارالحکومت دمشق میں فوج کے ہیڈ کوارٹر پر ہوئے بم حملے کو خودکش حملہ قرار دیا جارہا ہے تاہم باغیوں کا کہنا ہے کہ اس میں کسی خودکش حملہ آور نے حصہ نہیں لیا۔

تصویر: REUTERS/SANA

باغیوں نے اس حملے میں چار سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کے دعوے کیے ہیں۔ شامی باغیوں اور وہاں کی صورتحال پر نظر رکھنے والی لندن میں قائم تنظیم سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق گزشتہ روز کا یہ حملہ ’انسائیڈ اٹیک‘ تھا۔ شام سے مسلسل خون خرابے کی اطلاعات موصول ہورہی ہے۔ منگل کو آبزرویٹری نے ملک بھر سے مزید 217 افراد کی ہلاکت رپورٹ کی۔ سیاسی سطح پر اس تنازعے کے حل کے لیے اقوام متحدہ میں گفت و شنید کا سلسلہ جاری ہے۔ امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے شام کے معاملے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے کردار کو مفلوج قرار دیا۔ انہوں نے ایک مرتبہ پھر سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ آگے بڑھنے کا نیا راستہ ڈھونڈے۔

عرب ریاستوں کے نمائندے گزشتہ روز اقوام متحدہ کے صدر دفتر میں شام کے لیے خصوصی مندوب لخضر براہیمی سے ملے۔ ایسی بھی اطلاعات ہیں کہ ایک عرب امن فورس کو شام متعین کرنے کی بات کی جارہی ہے جسے مجوزہ طور پرشامی عوام کے تحفظ کی ذمہ داری سونٹی جائے گی۔ سیریئن آبزرویٹری کے اعداد و شمار کے مطابق شام کا بحران قریب تیس ہزار انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بن چکا ہے اور ڈیڑھ لاکھ افراد کو بے گھر کر چکا ہے۔

مذہبی رجحانات والی ایک باغی تنظیم نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے ایک خودکش حملہ آور نے بدھ کو اپنے پانچ دیگر جنگجو ساتھیوں کے ساتھ مل کر فوج کے ہیڈ کوارٹر پر یہ حملہ کیا۔ آزاد ذرائع سے ان دعووں کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔ حکومتی سطح پر اسے غیر ملکی حمایت یافتہ مسلح دہشت گردوں کی ایک اور کارروائی کا نام دیا جارہا ہے۔ سرکاری بیان کے مطابق دہشت گردی کی اس واردات میں ایک کار بم اور ایک اور دھماکہ خیز آلے کا استعمال کیا گیا، جسے مبینہ طور پر خودکش حملہ آور چلا کر لائے تھے۔ حکومتی ذرائع نے بتایا کہ اس واردات میں فوجی افسران محفوظ رہے ہیں۔ سرکاری ٹیلی وژن پر دکھائی جانے والی رپورٹ کے مطابق پہلا دھماکہ عمارت کے باہر کھڑی ایک وین میں ہوا، جس کے 10 منٹ بعد عمارت کے احاطے میں دوسرا دھماکہ ہوا۔ رپورٹ میں 14 افراد کے زخمی ہونے کا بتایا گیا ہے۔

باغیوں کی فری سیریئن آرمی کے ایک عہدیدار احمد الخطیب نے بتایا کہ دو گاڑیوں کے ذریعے یہ حملہ کیا گیا اور ان میں کوئی خودکش حملہ آور موجود نہیں تھا۔ دمشق میں 18 جولائی کو ایک خودکش حملے میں وزیر دفاع سمیت چار اعلیٰ حکومتی عہدیدار مارے گئے تھے۔ 

sks/ ai (AFP)

              

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں