1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

شام میں مغربی خفیہ ایجنسیوں کا کردار

Kishwar Mustafa12 اکتوبر 2012

اب تک یہ بات واضح نہیں تھی کہ شامی باغیوں کے ساتھ معاونت میں مغربی خفیہ ادارے کس حد تک شامل رہے ہیں۔ کچھ عرصے سے اس بارے میں میڈیا کی قیاس آرائیاں غیر معمولی دلچسپی کا سبب بنی ہیں۔

دنیا بھر کی انٹیلی جنس ایجنسیوں میں قدر مشترک حد درجہ راز داری ہے۔ اس وجہ سے انہیں اس بات کی فکر تھی کہ شام میں ان کی سرگرمیوں کی اطلاعات عام نہ ہوں۔ تاہم اب بہت سے حقائق سامنے آ گئے ہیں۔

باضابطہ طور پر مغربی حکومتیں بحران زدہ عرب ریاست شام میں کسی قسم کی فوجی سرگرمیوں میں ملوث ہونے سے انکار کرتی رہی ہیں۔ تاہم خانہ جنگی سے تباہ حال اس ملک میں ان کی خفیہ ایجنسیاں ایک عرصے سے سرگرم ہیں، یہ راز اب فاش ہو چکا ہے۔ جرمن صوبہ باویریا کے علاقے وائل ہائم میں قائم امن کی سیاست سے متعلق ایک ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے سربراہ ایرک شمٹ این بوم کے بقول،’’وہ تمام خفیہ ایجنسیاں جو قذافی حکومت کے خاتمے کے لیے کام کر رہی تھیں، اب شام میں حکومتی تبدیلی کے لیے سرگرم ہیں۔‘‘

شام کا تنازعہ علاقائی شکل اختیار کر چکا ہےتصویر: dapd

جرمن ماہر نے مزید بتایا کہ امریکی خفیہ ادارہ سی آئی اے چند ماہ سے شام میں اپنی سرگرمیاں ترکی کے ذریعے جاری رکھے ہوئے ہے۔ ایرک شمٹ این بوم نے مزید بتایا کہ سی آئی اے شام کے فوجیوں کی نقل و حرکت کے بارے میں باغیوں کو سیٹلائٹ کے ذریعے اتاری گئی تصاویر فراہم کرتی ہے۔ امریکی صدر باراک اوباما نے سی آسی اے کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ باغیوں کو انصرامی امداد فراہم کرے۔ امریکا نے باغیوں کی مزید مالی امداد کا اعلان بھی کیا ہے۔ باغیوں کے محض مواصلاتی نظام کو بہتر بنانے کے لیے 15 ملین ڈالر صرف کیے جا رہے ہیں۔ اُدھر واشنگٹن میں قائم مشرق وسطیٰ کی سیاست سے متعلق ایک ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے سربراہ ڈیوڈ پولوک کا کہنا ہے کہ امریکا کی طرف سے باغیوں کے لیے دی جانے والی مالی امداد ہتھیاروں کی کھیپ نہیں ہے۔ یہ رقوم مواصلاتی اور طبی نظام بہتر بنانے کے لیے ہے۔

یورپی ملک فرانس اپنے سابق نو آبادی ملک شام میں غیر معمولی دلچسپی رکھتا ہے اور مسلم ملک سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ مل کر اسد حکومت کے خاتمے کے لیے باغیوں کی بھرپور مدد کر رہا ہے۔

جرمن خفیہ ایجنسی کے نئے صدر گیرہارڈ شنڈلرتصویر: picture-alliance/dpa

جرمنی کی خفیہ ایجنسی بھی شام میں فعال اور اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ ایرک شمٹ این بوم اس بارے میں کہتے ہیں،’’جرمن خفیہ ایجنسی BND کے سابق سربراہ کے جو 2011 ء تک اس عہدے پر فائز تھے، شامی خفیہ ایجنسی کے ساتھ تعلقات بہت قریبی تھے۔ تاہم BND کے صدر کی تبدیلی کے ساتھ اس ادارے کی شام سے متعلق پالیسی میں بہت بڑا فرق رونما ہوا۔ نئے صدر گیرہارڈ شنڈلر اپنے مغربی پارٹنرز پر یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ لیبیا کے معاملے میں جرمن خفیہ ایجنسی نے جو کسی حد تک خاموشی اور تحمل کا رویہ اختیار کر رکھا تھا، وہ اب شام میں نہیں دہرایا جا رہا۔ جرمنی کو مغربی اتحادیوں کی خوشنودی بھی منظور ہے اور مشرق وسطیٰ کے خطے میں اس کے مفادات بھی ہیں اس لیے جرمن خفیہ ایجنسی شام میں حکومت مخالف متعدد سرگرمیوں میں مصروف ہے۔‘‘

برلن کے متعدد تھنک ٹینکس ابھی سے شام میں اسد حکومت کے خاتمے کے بعد وہاں کے سیاسی اور سماجی منظر نامے کے بارے میں غور و خوض کر رہے ہیں۔

F.El-Auwad/R.Bosen/km/aba

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

مزید آرٹیکل دیکھائیں
ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں