1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

شام نے ملکی فضائی حدود میں ترک جہازوں پر پابندی عائد کر دی

14 اکتوبر 2012

دمشق حکومت نے ترکی کے مسافر بردار طیاروں کے شامی فضائی حدود میں داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ اقدام ترکی کی جانب سے شامی مسافر طیارہ زبردستی انقرہ اتروانے اور اس طیارے میں موجود سامان ضبط کرنے کے جواب میں کیا گیا ہے۔

تصویر: Getty Images

شامی حکومت کی جانب سے یہ احکامات ایک ایسے وقت میں جاری کیے گئے ہیں، جب چند ہفتے بعد حج اور عیدالاضحیٰ جیسے مواقع آ رہے ہیں اور حج کے فریضے کے لیے دنیا بھر کے لاکھوں مسلمانوں کی طرح ترک مسلمان بھی سعودی عرب کا رخ کر رہے ہیں۔ عمومی طور پر سعودی عرب کے لیے ترکی جہازوں کو شامی فضائی حدود سے گزرنا پڑتا ہے۔

گزشتہ ہفتے ماسکو سے شام جانے والے ایک مسافر طیارے کو ترکی نے دارالحکومت انقرہ میں زبردستی اتار لیا تھا۔ ترک وزیراعظم رجب طیب ایردوآن نے بعد میں کہا تھا کہ اس طیارے سے جنگی ساز و سامان برآمد ہوا تاہم اس الزام کی تردید ماسکو اور دمشق حکومت، دنوں نے کی تھی۔

براہیمی ترک اور جرمن وزرائے خارجہ کے ہمراہتصویر: picture-alliance/dpa

دمشق حکومت ترکی پر یہ الزام عائد کرتی ہے کہ خلیجی ریاستوں سے اسلحہ ترکی کے راستے باغیوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ شامی سرکاری نیوز ایجنسی SANAکے مطابق ترک طیاروں کی ملکی فضائی حدود کے استعمال پر پابندی ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب سے نافذ العمل ہے۔ اس سے قبل بدھ کے روز ترک حکومت نے اپنی ایئرلائنز کو شامی فضائی حدود استعمال نہ کرنے کی ہدایات جاری کیں تھیں۔

واضح رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں شامی فورسز کی جانب سے داغا گیا ایک گولا ترک سرزمین پر جا گرا تھا، جس کے نتیجے میں پانچ ترک شہری ہلاک ہو گئے تھے۔ اس واقعے کے بعد ترک پارلیمان نے ملکی فوجی کو یہ اختیار دے دیا تھا کہ وہ ضرورت پڑنے پر شام کے اندر جا کر بھی کارروائیاں کر سکتے ہیں۔ اس کے بعد ترک افواج نے شامی سرحد پر توپین نصب کر دی تھیں اور کچھ مواقع پر جوابی گولہ باری بھی کی گئی تھی۔ تاہم اب دونوں ممالک کے درمیان فائربندی ہو گئی ہے۔

گزشتہ ہفتے ماسکو سے شام کی جانب جانے والے ایک جہاز کو ترک فضائیہ نے زبردستی انقرہ کے ہوائی اڈے پر اتار لیا تھا۔ اس طیارے کو بعد میں شام جانے کی اجازت دے دی گئی تھی، تاہم اس طیارے میں موجود کچھ سامان ضبط کر لیا گیا تھا۔

ترک حکومت کا الزام ہے کہ اس طیارے میں جنگی ساز و سامان تھا جبکہ ماسکو کا کہنا ہے کہ طیارے میں قانونی طور پر شام بھیجے گئے ریڈار تھے۔

واشنگٹن حکومت نے ترکی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترک حکومت اسلحے کے شبے میں اپنی فضائی حدود استعمال کرنے والے کسی طیارے کو اتارنے کا اختیار رکھتی ہے۔ ترکی کے دورے پر گئے جرمن وزیر خارجہ گیڈو ویسٹرویلے نے کہا ہے کہ جرمنی ترک موقف کا حامی ہے، تاہم انہوں نے کہا کہ ترک حکومت شام کے معاملے میں اعتدال پسند رویے کا مظاہرہ کرے۔ تاہم ویسٹرویلے نے واضح الفاظ میں کہا کہ ترک کی قومی سلامتی پر کسی حملے کی صورت میں ترکی کا مکمل دفاع کیا جائے گا۔ گیڈو ویسٹرویلے سے ملاقات کے بعد ترک وزیر خارجہ احمد داؤد اوگلو نے بھی کہا کہ ترکی مزید کوئی سرحدی خلاف ورزی برداشت نہیں کرے گا۔

ادھر اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے مشترکہ ایلچی برائے شام لخضر براہیمی ترکی میں اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کے بعد ایران روانہ ہو گئے ہیں۔ ستمبر میں شام کے لیے عالمی مندوب کا عہدہ سنبھالنے کا بعد براہیمی کا خطے کا یہ دوسرا دورہ ہے۔

دوسری جانب شام میں سرکاری فورسز اور باغیوں کے درمیان شدید جھڑپیں جاری ہیں۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق ہفتے کے روز شام کے مختلف حصوں میں مجموعی طور پر 181 افراد ہلاک ہوئے جن میں 71 عام شہری، 63 فوجی اور 47 باغی شامل تھے۔

at /ij ( AFP)

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں