شام پر اسلحہ پابندیاں: یورپی یونین مخمصے کا شکار
27 مئی 2013
شام کو اسلحے کی فراہمی کے مسئلے پر یورپی یونین منتشر نظر آتی ہے۔ برسلز میں یونین کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں اس بات کا جائزہ لیا گیا کہ شام پر اسلحہ خریدنے کے حوالے سے جو پابندیاں عائد ہیں ان کو کیسے ختم کیا جاسکتا ہے۔ اس موقع پر شرکاء اجلاس میں خاصی گرما گرمی دیکھنے میں آئی۔ کچھ کا کہنا تھا کہ دمشق حکومت پر عائد ان پابندیوں کو اٹھا کر اگر باغیوں کو اسلحہ دیا جاتا ہے تو اس سے لڑائی کا توازن برابر ہوجائےگا جبکہ اس حوالے سے دیگر کی رائے یہ تھی کہ اس عمل سے پہلے سے جاری خانہ جنگی کو مزید ہوا ملے گی۔
یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے اس اجلاس کا مقصد شام کے خلاف عائد کی گئی پابندیوں پر کوئی واضح موقف اختیار کرنا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں شریک ممالک کی آراء اس حوالے سے منقسم ہونے کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اگر شام میں اپوزیشن کو اسلحہ فراہم کیا جاتا ہے تو اس کے مستقبل میں کیا اثرات ہوں گے؟
اجلاس سے قبل میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے ہالینڈ کے وزیر خارجہ فرانس ٹمر مانس کہنا تھا ،’’ہم اجلاس شروع کرنے جارہے ہیں لیکن اس حوالے سے مختلف آراء پائی جاتی ہیں‘‘۔ ہالینڈ اور کچھ دیگر ممالک بشمول جرمنی کا یہ خیال ہے کہا اگر شامی باغیوں کو اسلحہ فراہم کیا جاتا ہے تو 26 ماہ سے زائد عرصے سے جاری اس تنازعے کے طول پکڑ جانے کا ڈر ہے، جس کی وجہ سے پہلے ہی 80 ہزار سے زائد افراد اپنی جان گنوا بیٹھے ہیں۔
شامی اپوزیشن کو اسلحے کی فراہمی کی صورت میں اس بات کے بھی واضح امکانات موجود ہیں کہ یورپی ممالک غیر دانستہ طور پر وہاں موجود عسکریت پسندوں کو مسلح کرنے کا باعث بن سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب تک یورپی یونین نے خانہ جنگی سے متاثرہ اس ملک کو انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر غیر مہلک امداد فراہم کی ہے۔
تاہم برطانیہ اور فرانس کا کہنا ہے کہ شامی اپوزیشن کی مدد کرنے کے لیے اس پر عائد پابندیوں کو نرم کیے جانے کی ضرورت ہے تاکہ ان کو اس قابل بنایا جاسکے کہ وہ دمشق حکومت کے بھاری توپ خانہ اور فضائیہ کو مقابلہ کرسکیں۔ مزید یہ کہ شامی حکومت کو مسلسل روس اور ایران سے اسلحہ مل رہا ہے۔
برطانوی حکومت کا موقف ہے کہ شامی باغیوں کو یورپی یونین کی جانب سے اسلحے کی فراہمی کی صورت میں اسد مذاکرات پر مجبور ہو جائیں گے۔
zb/aba (AFP)