1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

شام کا بحران: یورپی دنیا بھی اثر انداز

Kishwar Mustafa31 مئی 2013

اسرائیلی فلسطینی تنازعے کے بعد شام کا بحران مشرق وسطیٰ کے لیے دوسرا اہم اور سنگین تنازعہ تھا تاہم اب اس تنازعے کے اثرات مغربی دنیا تک بھی پہنچتے دکھائی دے رہے ہیں۔

تصویر: picture alliance/dpa

اسرائیلی فلسطینی تنازعے کے بعد شام کا بحران مشرق وسطیٰ کے لیے دوسرا اہم اور سنگین تنازعہ تھا تاہم اب اس تنازعے کے اثرات مغربی دنیا تک بھی پہنچتے دکھائی دے رہے ہیں۔ چند روز سے یورپی یونین میں شام کے مسئلے پر شدید اختلافی بحث جاری تھی۔ شامی باغیوں کو ہتھیاروں کی فراہمی سے متعلق طے پانے والے ایک معاہدے کے بعد یورپی یونین کی رکن ریاستوں میں شام کے بارے میں اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔

آج جمعے کو یورپی یونین نے باضابطہ طور پر شامی صدر بشار الاسد کے خلاف پابندیوں سے متعلق پیکیج میں تبدیلیوں کو عملی شکل دے دی۔ ان تبدیلیوں کی منظوری سے پہلے قریب ایک ہفتے تک برطانیہ اور فرانس کے زور دینے پر شامی باغیوں کو ہتھیار فراہم کرنے کے موضوع پر بحث جاری رہی۔ آج یورپی یونین کی طرف سے ایک بیان میں کہا گیا کہ گزشتہ دو سالوں سے شامی حکومت کے خلاف عائد چلی آ رہی پابندیوں کی میعاد میں یکم جون 2014 ء تک کے لیے تجدید کی جا رہی ہے۔ یہ میعاد اس سال یکم جون کو ختم ہو رہی تھی۔

شام کا بحران: یورپی یونین کے سیاسدانوں کی تشویشتصویر: Georges Gobet/AFP/Getty Images

ہفتہ یکم جون سے شام سے متعلق پابندیوں میں توسیع کے دائرے میں درآمدات اور برآمدات کی جو پابندیاں شامل ہیں، اُن میں تیل پر پابندی، سرمایہ کاری سمیت مالی سرگرمیوں اور ٹرانسپورٹ سیکٹر کی پابندیاں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اُن 179 افراد کے اثاثوں کے منجمد ہونے اور ان پر سفری پابندیاں جاری رکھنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے، جن پر تشدد اور جبر میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے الزامات عائد ہیں۔

دریں اثناء یورپی یونین کی خارجہ امور کی نگران کیتھرین ایشٹن کے ایک ترجمان مشائیل من نے کہا ہے کہ شامی باغیوں کو ہتھیار فراہم کرنے کے عمل کو محدود رکھا جائے گا اور سخت شرائط کے تحت ہی ہتھیار فراہم کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا، ’ہتھیاروں کی ترسیل اُسی وقت ہو گی، جب شامی باغی یورپی یونین کے اسلحے کے کوڈ آف کنڈکٹ کا مکمل احترام کریں گے۔ شام کی اپوزیشن کے قومی اتحاد کو یہ ہتھیار شہریوں کی حفاظت کے لیے فراہم کیے جائیں گے اور اس امرکو یقینی بنایا جائے گا کہ اسلحہ جات معتبر ذرائع تک پہنچیں اور ان کا جائز استعمال ہو‘۔

شام کی جنگ میں اب تک 70 ہزار سے زائد انسان ہلاک ہو چُکے ہیںتصویر: Reuters

یورپی یونین شامی باغیوں کو ہتھیاروں کی فراہمی کے موضوع پر منقسم نظر آ رہی تھی۔ اس بارے میں معاہدہ طے پانے کے بعد بھی ہتھیاروں کی فراہمی کو جنیوا میں شام کے موضوع پر ہونے والے اجلاس کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف سمجھا جا رہا ہے۔ دوسری جانب روس کی طرف سے شام کو کم از کم دس لڑاکا طیارے فروخت کرنے کے معاہدے پر دستخط کیے جانے کا عمل  امریکا سمیت یورپی طاقتوں کے لیے گہری تشویش کا سبب بنا ہے۔

اُدھر شام کے صدر بشارالاسد نے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ شام مستقبل میں اسرائیل کے کسی بھی فضائی حملے کا بھر پور جواب دے گا۔ اسد نے یہ بیان دیتے ہوئےاس امر کی طرف بھی نشاندہی کی کہ  شام نے اعلیٰ قسم کے روسی دفاعی نظام کی پہلی کھیپ حاصل کر لی ہے۔

km/mm (AFP)

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں
ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں