شام کو اسلحے کی فروخت پر پابندی کا مستقبل، يورپی فیصلہ آج
27 مئی 2013
ستائيس رکنی یونین کی بڑی فوجی طاقتیں جرمنی اور فرانس خانہ جنگی کی شکار عرب رياست شام پر عائد يورپی يونين کی ہتھیاروں کی فراہمی پر پابندی کے جزوی خاتمے کے حق ميں ہيں تاکہ شامی صدر بشار الاسد کے خلاف سرگرم باغيوں کی بیرونی ہتھياروں تک رسائی ممکن ہو سکے۔ اگرچہ يہ دونوں ممالک فوری طور پر شامی باغيوں کو ہتھيار فراہم کرنے کے حق ميں نہيں ہيں تاہم ان کا موقف ہے کہ موجودہ پابندی ميں نرمی کے نتيجے ميں شام کے تنازعے میں مغربی ممالک اور شامی اپوزيشن کی پوزيشن مضبوط ہو سکتی ہے اور اس سے صدر اسد پر دباؤ ميں بھی اضافہ ہو گا۔
اس کے برعکس آسٹريا اور سويڈن سميت یونین کے رکن چند ديگر ممالک شام کو اسلحے کی فروخت سے متعلق اس يورپی پابندی کی مکمل اور موجودہ صورت ہی ميں توسيع چاہتے ہيں۔ يونين کے سفارت کاروں کے مطابق چار یا پانچ ملک ايسے ہيں جو بغير کسی ترمیم کے اس پابندی ميں توسيع کیے جانے کے حامی ہيں۔ ان یورپی ملکوں کو خدشہ ہے کہ اگر شامی باغيوں کو ہتھيار فراہم کيے گئے، تو وہی ہتھيار باغيوں کے صفوں ميں شامل مسلمان انتہا پسندوں کے ہاتھ بھی لگ سکتے ہيں اور ايسے ميں يہ امکان بھی موجود ہے کہ يہی ہتھيار مغربی ممالک کے خلاف بھی استعمال کيے جائيں۔ يہی وجہ ہے کہ اب تک واشنگٹن انتظاميہ بھی شامی باغيوں کو اسلحہ فراہم کرنے کے سلسلے ميں کوئی حتمی لیکن مثبت موقف اختيار نہيں کر سکی۔
شام میں خونریز تنازعے کے کسی بھی فريق کو اسلحہ فراہم کرنے پر عائد يورپی يونين کی موجودہ پابندی کی مدت يکم جون ہفتہ کے روز پوری ہو جائے گی۔ برطانيہ پہلے ہی متنبہ کر چکا ہے کہ اگر اس پابندی کی موجودہ صورت ہی ميں توسيع کی گئی، تو لندن کی طرف سے ایسے کسی یورپی فیصلے کو ويٹو بھی کیا جا سکتا ہے۔
اس پابندی ميں توسيع کے حامی ملکوں کا يہ بھی کہنا ہے کہ اس وقت باغيوں کو اسلحہ فراہم کرنے کے فيصلے سے جون کے اوائل میں روس اور امريکا کے تعاون سے جنیوا میں ہونے والی بين الاقوامی امن کانفرنس پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہيں۔ یہ کانفرنس شامی خانہ جنگی کے بارے میں ہی ہو گی۔
يورپی يونين کے ايک سينئر سفارت کار کا کہنا ہے کہ پير کے روز یورپی وزرائے خارجہ کے اجلاس کے کسی طرح کے غير متوقع نتائج سامنے آنے کا امکان کم ہی ہے۔ اس سفارت کار کے بقول کافی امکان ہے کہ موجودہ پابندی ميں بغير کسی تبديلی کے لیکن قدرے کم مدت کی توسيع کر دی جائے۔
(as/mm (Reuters