شام: کچھ امدادی کارکن رہا کر دیے گئے
15 اکتوبر 2013
لندن ميں قائم سيريئن آبزرويٹری فار ہيومن رائٹس کے مطابق چودہ اکتوبر کے روز ہونے والا يہ دھماکا ملک کے شمال مغربی حصے ميں واقع شہر درکوش ميں کيا گيا۔ مقامی اہلکاروں کے مطابق اس دھماکے کا ہدف شہر کا بازار تھا، جو ترکی کی سرحد سے کچھ ہی کلوميٹر کی دوری پر واقع ہے۔ اس کار بم دھماکے کے نتيجے ميں اب تک ستائيس افراد ہلاک ہوچکے ہيں جب کہ کئی زخميوں کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے، جس سبب ہلاک شدگان کے تعداد ميں اضافے کا امکان بھی موجود ہے۔
دريں اثناء انٹرنيشنل کميٹی آف دا ريڈ کراس کے ترجمان ايون واٹسن نے پير کے روز بتايا کہ اغواء ہونے والے سات ميں سے چار امدادی کارکنان کو رہا کر ديا گيا ہے جب کہ ان کا ادارہ باقی تين افراد کے حوالے سے معلومات کا منتظر ہے۔ نیوز ایجنسی اے پی نے بھی تصدیق کر دی ہے کہ ریڈ کراس کے تین جب کہ ریڈ کریسنٹ کا ایک امدادی کارکن رہا کر دیا گیا ہے۔ اغوا ہونے والے ریڈ کراس کے دیگر تین امدادی کارکنوں کے بارے میں ابھی تک کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔
اگرچہ تاحال کسی بھی گروپ نے ريڈ کراس کے ان کارکنوں کو اغواء کرنے کی ذمہ داری قبول نہيں کی ہے تاہم نيوز ايجنسی اے ايف پی کی ایک رپورٹ کے مطابق سيريئن آبزرويٹری فار ہيومن رائٹس کا يہ کہنا ہے کہ امدادی کارکنوں کے اغواء کے پيچھے القاعدہ سے منسلک گروپ ’اسلامک اسٹيٹ آف عراق اينڈ دا ليوانٹ‘ ہے۔ سوئٹزرلينڈ کے ايک ريڈيو اسٹيشن سے بات چيت کرتے ہوئے ايون واٹسن نے بتايا کہ ان کا ادارہ اس واقعے کے باوجود شام ميں اپنی سرگرمياں ترک نہيں کرے گا اور وہاں امدادی کام جاری رکھا جائے گا۔
دوسری جانب امريکا نے اس بات پر زور ديا ہے کہ شام کے خونريز تنازعے کے حل کے ليے ’جنيوا ٹو‘ امن مذاکرات کے ليے حتمی تاريخ جلد از جلد طے کی جائے۔ يہ بات امريکی وزير خارجہ جان کيری نے شام کے ليے اقوام متحدہ اور عرب ليگ کے خصوصی مندوب لخضر براہيمی کے ساتھ ملاقات کے بعد کہی۔ کيری نے شام کی تمام سياسی قوتوں پر زور ديا کہ کسی حل کے ليے انہيں متحد ہونا پڑے گا۔
يہ بيان ايک ايسے وقت ميں سامنے آيا ہے کہ جب سيريئن نيشنل کونسل نے يہ اعلان کيا ہے کہ وہ جنيوا ميں ہونے والے مذاکراتی اجلاس ميں شرکت نہيں کرے گی۔ سیرئین نيشنل کوليش کی اس اہم کونسل کے سربراہ جارج سابرا نے اپنے اس فيصلے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ بين الاقوامی برداری شامی دارالحکومت دمشق کے ايک نواحی علاقے ميں اکيس اگست کو مشبتہ طور پر شامی صدر بشار الاسد کی حکومت کی جانب سے کيے جانے والے کيمياوی حملے کے قصورواروں کو سزا دينے ميں ناکام رہی ہے۔ سيريئن نيشنل کونسل کے اس اقدام کے رد عمل ميں روسی وزير خارجہ سيرگئی لاوروف نے واشنگٹن پر زور ديا ہے کہ وہ نومبر کے وسط ميں ہونے والے اجلاس ميں اپوزيشن کی شرکت کو يقنيی بنانے کی کوشش کرے۔