1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

شام کی صورتحال

22 نومبر 2012

شامی اپوزيشن کے کارکنوں کی فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق شامی باغيوں نے ملک کے مشرق ميں ايک رياستی فوجی اڈے پر قبضہ کر ليا ہے۔ يہ اڈہ تيل سے مالا مال صوبے دير الزُور ميں واقع ہے

Syrien Kämpfe Damaskus 19.11.2012
تصویر: Reuters

اس علاقے ميں يہ شامی سرکاری فوج کا آخری مضبوط گڑھ سمجھا جاتا تھا۔ باغيوں نے پچھلے ہفتے عراق سے ملنے والے شامی سرحدی علاقے ميں بھی ايک فوجی چھاؤنی پر قبضہ کر ليا تھا۔

اُدھر شامی سرکاری ٹيلی وژن نے آج بتايا کہ شامی حکومت نے دارالحکومت دمشق کے قريب درجنوں ’دہشت گردوں‘ کو ہلاک کر ديا۔ رياستی ٹيلی وژن کے مطابق شامی فوج نے درعا کے علاقے ميں دو دن تک جاری رہنے والے آپريشن ميں ايک دہشت گرد گروپ کا خاتمہ کر ديا۔

شامی اپوزيشن نے کہا کہ اُس نے آج دمشق کے قريب ايک سرکاری عمارت پر گولے پھينکے۔انسانی حقوق کے جائزے کے شامی ادارے کے قائد رامی عبدالرحمن نے کہا کہ اب عراقی سرحد سے ملحقہ شامی علاقے کے بڑے حصے پر باغيوں کا قبضہ ہے۔ شمال کے شہر حلب سے متنازعہ اطلاعات مل رہی ہيں۔ ايک خبر کے مطابق ايک ہسپتال پر گولہ باری کی گئی۔ ايک دوسری رپورٹ کے مطابق ہسپتال الشفا کے قريب واقع ايک عمارت پر گولہ باری کی گئی جس ميں باغی کمانڈر اپنے ايک اجلاس ميں صلاح مشورے کر رہے تھے۔ بتايا جاتا ہے کہ عمارت کے ملبے ميں ابھی تک بہت سی لاشيں دبی ہوئی ہيں۔

اُدھر نيٹو ترکی ميں پيٹرياٹ ساخت کے جو ميزائل شکن راکٹ نصب کرنا چاہتا ہے اور جن کی درخواست ترکی نے نيٹو سے کی ہے، اُن سے نيٹو اور روس کے درميان مزيد کشيدگی پيدا ہونے کا خطرہ ہے۔ روسی نائب وزير خارجہ ريباکوف نے آج نيٹو کو شامی حملوں سے دفاع کے ليے ترکی ميں پيٹرياٹ راکٹ نصب کرنے سے خبردار کيا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے علاقے ميں تنازعہ اور شدت اختيار کر لے گا۔

پيٹرياٹ راکٹ نيٹو کے صرف تين ممالک جرمنی، امريکا اور ہالينڈ کے پاس ہيں۔ ترکی کو يہ پيٹرياٹ راکٹ جرمنی بھی فراہم کرے گا ليکن پہلے جرمن پارليمنٹ کو اس کی منظوری دينا ہو گی۔ امکان يہی ہے کہ پارليمنٹ اکثريت سے اس کی منظوری دے دے گی۔

جرمن فوج کے پيٹريٹ راکٹتصویر: picture-alliance/dpa

ترک وزير اعظم رجب طيب ايردوآن نے آج ان خدشات کو رد کر ديا کہ پيٹرياٹ ميزائل شکن راکٹ شامی خانہ جنگی ميں بھی استعمال ہو سکتے ہيں۔ ترک خبر ايجنسی انادولو کے مطابق ايردوآن نے کہا کہ يہ صرف ترکی کے دفاع کے ليے استعمال ہوں گے۔

ترکی کی حکومتی پارٹی اے کے پی کے مطابق ترکی يہ چاہتا ہے کہ نيٹو سے ملنے والے پيٹرياٹ راکٹ خود اُس کی کمان میں ہوں۔ پارٹی کے ترجمان حسين چيلک نے آج کہا کہ پيٹرياٹ راکٹ داغنے کا بٹن ترک فوج کے پاس ہوگا۔ چيلک نے کہا کہ خطرے کی صورت ميں صرف چند سيکنڈوں کے اندر راکٹ داغنے کا فيصلہ کرنا ہوگا۔ ترجمان نے وزير اعظم ايردوآن کے اس بيان کی تصديق کی کہ پيٹرياٹ راکٹ وہاں نصب کيے جائيں گے جہاں ترک فوج ان کی ضرورت سمجے گی۔

sas,mm/AFP

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں