شام کے تنازعے کا حل جنگ نہیں، بان کی مون
20 ستمبر 2012
بدھ کے دن ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے مزید کہا کہ شام میں قیام امن کے لیے عالمی ادارہ جلد ہی ایک نئی حکمت عملی تجویز کرے گا۔ بان کی مون کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران شام کا تنازعہ ایجنڈے میں سرفہرست رہے گا۔ یہ امر اہم ہے کہ آئندہ ہفتے سے شروع ہونے والے اس اجلاس میں شام کے حوالے سے کوئی باضابطہ میٹنگ کا اہتمام نہیں کیا گیا ہے۔
اپوزیشن کے بقول شام میں گزشتہ اٹھارہ ماہ سے جاری تنازعے کے نتیجے میں ستائیس ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اپوزیشن اور مسلح باغی صدر بشار الاسد کی حکومت کا خاتمہ چاہتے ہیں جبکہ اسد حکومت بغاوت کرنے والوں کو شرپسند عناصر کا نام دیتے ہوئے، ان کے خاتمے پر تلے ہوئی ہے۔
اس صورتحال میں بان کی مون نے شام کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے حکومت اور اپوزیشن دونوں ہی اس تنازعے کے حل کے لیے عسکری کارروائی کو آخری راستہ سمجھ رہے ہیں جبکہ اس مسئلے کے حل کے لیے فوجی طاقت سود مند ثابت نہیں ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ شام میں پائیدار امن صرف سیاسی مکالمت کے ذریعے ہی ہو سکتا ہے۔
اقوام متحدہ اور عرب لیگ کی طرف سے شام کے لیے خصوصی مندوب لخضر براہیمی آئندہ ویک اینڈ پر نیو یارک پہنچ رہے ہیں، جہاں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس منعقد کیا جا رہا ہے۔ براہیمی وہاں بان کی مون سے ملاقات کے دوران اپنے حالیہ دورہءشام کے حوالے سے اہم تفصیلات بیان کریں گے۔ براہیمی نے شام کے دورے کے دوران صدر بشار الاسد اور اپوزیشن کے سرکردہ نمائندوں سے ملاقاتیں کی تھیں۔
پریس کانفرنس کے دوران بان کی مون نے کہا کہ شاید براہیمی کے پاس ایسی حکمت عملی ہے، جو شام کے تنازعے کے حل میں مدد گار ثابت ہو سکتی ہے۔سفارتکاروں کے بقول براہیمی نے صدر بشار الاسد سے ملاقات کے دوران ان کے مؤقف میں کوئی لچک نہیں دیکھی ہے۔ صدر اسد نے اس ملاقات میں بھی دہرایا ہے کہ وہ دہشت گردوں سے نبرد آزما ہیں۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے دوران شام میں انسانی بحران کی صورتحال پر مالی امداد کے حوالے سے بھی اپیل متوقع ہے۔ اطلاعات کے مطابق شام میں لڑائی کی وجہ سے 1.2 ملین افراد بے گھر ہو چکے ہیں جبکہ ڈھائی لاکھ کے قریب لوگ ہمسایہ ممالک میں ہجرت پر مجبور ہو چکے ہیں۔ادھر شام کے مختلف علاقوں میں صدر اسد کی حامی افواج آپریشن کے دوران ، بقول اپوزیشن شہری ہلاکتوں کی بھی پرواہ بھی نہیں کر رہی ہے۔
اُدھرمغربی انٹیلی جنس ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران عراق کے راستے شامی حکومت کو عسکری امداد پہنچا رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سویلین طیاروں میں اسلحہ و گولہ بارود شام منتقل کیا جا رہا ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز نے خفیہ رپورٹس کے حوالے سے یہ خبر جاری کی ہے۔ امریکی حکام نے مبینہ طور پر بغداد حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی فضائی حدود کو ان مقاصد کے لیے استعمال ہونے نہ دے۔ اگرچہ یہ الزامات نئے نہیں تاہم خفیہ رپورٹوں کے مطابق شامی حکومت کو اندازوں سے کہیں زیادہ دفاعی امداد فراہم کی جارہی ہے۔ رپورٹوں میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ اعلیٰ عراقی حکام اور ایرانی قیادت کے مابین اس ضمن میں اتفاق رائے موجود ہے۔
(ab/ska(AFP, Reuters