شام کے تنازعے کے حل کی ليے ايران کی تجويز
15 اکتوبر 2012
خبر رساں ادارے اے ايف پی کے مطابق ايران کے وزير خارجہ علی اکبر صالحی نے ايک عربی زبان کے نشرياتی ادارے العالم پر نشر کردہ بيان ميں کہا: ’تہران حکومت نے شام کے تنازعے کے حل کے ليے اپنی غير سرکاری اور تفصيلی تجويز‘ براہيمی کے علاوہ مصر، سعودی عرب اور ترکی کو دے دی ہے۔ اے ايف پی کے مطابق علی اکبر صالحی نے ايرانی حکومت کی تجويز کے بارے ميں تفصيلات نہيں بتائيں تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ اس تنازعے کے حل کے ليے اقوام متحدہ کے مندوب کے ساتھ ہر ممکن تعاون کريں گے۔
اقوام متحدہ کے خصوصی مندوب لخضر براہيمی نے تہران حکومت کے اس اقدام کا خير مقدم کيا ہے۔ ان کا کہنا تھا، ’ميں اس تجويز کے ليے ايران کا شکريہ ادا کرتا ہوں۔ تجوير ميں شامل چند نقات ايسے ہيں جن کو شام کے مسئلے سے منسلک ديگر اہم ممالک کی جانب سے موصول شدہ تجاويز کے ساتھ ملايا جا سکتا ہے‘۔ لخضر براہيمی نے اتوار کے روز ايرانی صدر محمود احمدی نژاد سے بھی ملاقات کی۔ اس ملاقات ميں ايرانی صدر نے شام کے ليے اقوام متحدہ کے خصوصی مندوب کو شام کے مسئلے کے حل کے ليے ايران کی جانب سے ہر ممکن تعاون کی يقين دہانی کروائی اور مدد کی پيش کش بھی کی۔
ايران کے سرکاری ٹيلی وژن کے مطابق لخضر براہيمی پير کے روز ايران کے اعلیٰ سکيورٹی اہلکار سعيد جليلی سے بھی ملاقات کريں گے جس کے بعد وہ پير کی شام ہی عراقی دارالحکومت بغداد روانہ ہوں گے۔ واضح رہے کہ براہيمی اس وقت شام کے مسئلے کے حل کے ليے علاقائی ممالک کے دورے پر ہيں۔
دريں اثناء جرمنی کے وزير خارجہ گيڈو ويسٹر ويلے نے کہا ہے کہ عالمی امن کے ليے شام کے موضوع پر اختلافات کے باوجود يورپی يونين کو روس کے ساتھ کام کرنا ہی ہوگا۔ انہوں نے يہ بات لکسمبرگ ميں اپنے روسی ہم منصب سیرگئی لاوروف کے ساتھ ايک عشائيے کے موقع پر کہی۔ دونوں اعلی عہديداروں کے درميان يہ ملاقات يورپی يونين کے رکن ممالک کے ايک اجلاس کے بعد ہوئی۔ اس اجلاس ميں يورپی يونين کے رکن ممالک کے وزراء خارجہ نے ايران کے خلاف نئی پابنديوں کے علاوہ شام کے موضوع پر بھی بات کی۔
as / sks (AFP)