شام کے لیے امن کانفرنس جلد ہو گی، جان کیری
14 اکتوبر 2013
امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے خصوصی مندوب لخضر براہیمی سے ملاقات کے بعد اپنے بیان میں کہا کہ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ شام کے لیے مجوزہ امن کانفرنس کی تاریخ کا تعین کر دیا جائے۔ کیری نے جنیوا میں ہونے والی اِس کانفرنس کے جلد انعقاد کا بھی بتایا۔ امریکی وزیرخارجہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ شام میں بشار الاسد کے پاس مزید برسراقتدار رہنے کا کوئی قانونی جواز نہیں بچا ہے اور ایک عبوری حکومت فوری طور قائم ہونا ضروری ہے جو شام کے طول و عرض میں امن کی بحالی کا عمل شروع کر سکے۔
اُدھرروس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے جنیوا میں شام کے بارے میں ہونے والی امن کانفرنس میں شامی اپوزیشن کی شرکت نہ کرنے کے اعلان کے حوالے سے کہا کہ مذاکراتی عمل میں شامی اپوزیشن کی شمولیت کو یقینی بنانے کے لیے امریکا کی جانب سے بھرپور کوششیں کرنا ازحد ضروری ہے۔ لاوروف کے مطابق اس مناسبت سے امریکا اور دوسرے پارٹنر ملکوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ شامی اپوزیشن کو جنیوا شہر میں ہونے والی امن کانفرنس میں شرکت کے قائل کیا جائے گا کیونکہ شام میں برسرِ پیکار مختلف مسلح گروپس ان کے زیر اثر خیال کیے جاتے ہیں۔
سیریئن نیشنل کونسل کے صدر جورج صابرا نے اتوار کے روز اعلان کیا تھا کہ شامی اپوزیشن جنیوا میں ہونے والی کانفرنس میں شریک نہیں ہوں گی۔ شامی اپوزیشن کے قومی اتحاد میں شامل سب سے بڑا گروپ سیریئن نیشنل کونسل ہے۔ صابرا کی جانب سے کانفرنس کے بائیکاٹ کا اعلان کرتے ہوئے کہا گیا کہ عوام کو جن مشکلات اور مصائب کا سامنا ہے، اس کے تناظر میں مذاکراتی عمل میں شریک ہونا ناممکن ہے۔ لاوروف نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ کانفرنس کی اہمیت کو مزید اجاگر کرتا ہے۔
شورش زدہ عرب ملک شام میں حکومت مخالف سرگرم گروپوں کے مطابق شمال مغربی علاقے کے قصبے دارکوش کی مارکیٹ میں ہونے والے ایک کار بم حملے میں کم از کم 12 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ اس واقعے میں کئی افراد شدید زخمی ہیں اور اس باعث ہلاکتوں میں اضافہ ممکن ہے۔ لندن میں قائم سیریئن آبزرویٹری فار ہیومین رائٹس نے ہلاکتوں کی تعداد 20 بتائی ہے۔ اِدلِب صوبے میں دارکوش کا قصبہ باغیوں کے کنٹرول میں ہے۔ شام میں جاری خانہ جنگی کو تیسرا برس ہے اور عراق کی دیکھا دیکھی مختلف شامی علاقوں میں کاربم حملے عام ہونے لگے ہیں۔ اس خونی تنازعے میں ایک لاکھ سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں۔
دوسری جانب شام کیمیائی ہتھیاروں کے انسداد کے عالمی ادارے کا باضابطہ رکن بن گیا ہے۔ اس کا اعلان کیمیائی ہتھیاروں کے انسداد کی آرگنائزیشن کے ترجمان مائیکل لوحان نے کیا۔ اس وقت اسی ادارے کے ساٹھ اراکین شام کے اندز کیمیائی ہتھیاروں کے ذخیرے اور تنصیبات کو تلف کرنے میں مصروف ہیں۔ مائیکل لوحان کے مطابق شام کو مکمل رکنیت دینے کا فیصلہ اسد حکومت کی درخواست پر کیا گیا ہے۔ گزشتہ ہفتے کے دوران کیمیائی ہتھیاروں کے انسداد کے ادارے کو امن کے نوبل انعام کا حقدار ٹھہرایا گیا تھا۔