شام کے لیے کوئی منصوبہ نہیں ، صرف تجاویز ہیں: لخضر براہیمی
25 ستمبر 2012
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایک غیر رسمی اجلاس کے دوران لخضر براہیمی نے کہا کہ انہیں شام کے حوالے سے مزید وقت چاہیے۔ انہوں نے شام کی صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دیا اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ صورتحال بگڑتی جا رہی ہے۔ 78 سالہ سفارت کار نے سلامتی کونسل کے 15 ارکان کو خطے کے اپنے دورے کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ شام کی صورتحال انتہائی تاریک ہے۔
لخضر براہمیی کے بقول ان کے پاس اس بحران کو حل کرنے کے لیے فی الحال کوئی مکمل منصوبہ تو نہیں ہے لیکن کچھ تجاویز ضرور ہیں۔ اس موقع پرانہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حالات میں شام کا تنازعہ فوری طور پر حل ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔ ’’ خطے کے دورے کے دوران شام کے صدر بشارالاسد اور شام کے دیگر حلقوں سے ملاقات کے دوران میں نے واضح کیا کہ ’ تبدیلی‘ ضرور آئے گی۔‘‘ تاہم ساتھ ہی انہوں نے تسلیم بھی کیا کہ اس حوالے سے کی جانے والی کوششیں جمود کا شکار ہیں۔
لخضر براہیمی کے بقول ایک اندازے کے مطابق شام میں تیس ہزار سے زائد افراد جیلوں میں بند ہیں اور اسد حکومت مخالفین کو منظم انداز میں تشدد کا نشانہ بنا رہی ہے۔ ’’حکومت کی خفیہ جیلوں میں ایذا رسانی سے اب تک ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔‘‘ خصوصی مندوب برائے شام نے بتایا کہ متاثرہ علاقوں میں بنیادی سہولیات کا فقدان ہے اور یہ صورتحال اب تک سینکڑوں خاندانوں کی زندگیاں تباہ کر چکی ہے۔ ’’ شام کے معاملے میں ملکی اپوزیشن کے ساتھ ساتھ سلامتی کونسل کو بھی متحد ہونا پڑے گا۔‘‘
لخضر براہمیی کے پیش رو کوفی عنان نے سلامتی کونسل سے شام کے خلاف سخت پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کیا تھا تاہم روس اور چین کی جانب سے ویٹو کیے جانے کے بعد اس مطالبے پر عمل درآمد نہیں ہو سکا۔ اس موقع پر لخضر براہمیی نے کہا کہ وہ یقین رکھتے ہیں کہ حالات بہتر ہوں گے۔ ’’میرے خیال میں مستقبل قریب میں کوئی نہ کوئی راستہ ضرور تلاش کر لیا جائے گا ۔‘‘
جرمن وزیر خارجہ گیڈو ویسٹر ویلے نے لخضر براہیمی سے ملاقات کے بعد پر امید انداز میں کہا کہ عرب رہنماؤں کی شامی حکومت پر شدید تنقید اُن ممالک کے لیے ایک پیغام ثابت ہو گی، جو ابھی تک عوام پر اسد حکومت کے ظلم و ستم کو نظر انداز کر رہے ہیں۔
ai /ng (AFP)