شام کے مسافر طیارے پر ہتھیار نہیں تھے، روس
13 اکتوبر 2012
روس کے وزیر خارجہ سیرگئی لاوروف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس طیارے پر ریڈار آلات موجود تھے جو قانونی طور پر منتقل کیے جا رہے تھے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کو روس کے سرکاری ٹیلی وژن کی جانب سے فراہم کیے گئے بیان میں لاوروف کا کہنا ہے کہ ماسکو حکام نے کوئی بات راز نہیں رکھی۔
لاوروف نے سرکاری ٹیلی وژن سے بات چیت میں کہا: ’’بلاشبہ طیارے پر کسی طرح کے ہتھیار نہیں تھے اور ہو بھی نہیں سکتے تھے۔ طیارے پر کارگو سامان تھا، جسے روس کے ایک لیگل سپلائر نے قانونی طریقے سے ایک لیگل کسٹمر کو بھیجا تھا۔‘‘
ترکی نے بدھ کو شام کا ایک طیارہ ہتھیاروں کی موجودگی کے الزام پر اتروا لیا تھا۔ شام نے انقرہ حکومت کے الزامات کو جھوٹ قرار دیا تھا۔
شام کی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے: ’’ترک وزیر اعظم شام کے خلاف اپنی حکومت کے جارحانہ رویے کو درست ثابت کرنے کے لیے مسلسل جھوٹ بول رہے ہیں۔‘‘
شام کی وزارت اطلاعات نے ترکی کے وزیر اعظم رجب طیب ایردوآن کو چیلنج کیا تھا کہ وہ مبینہ طور پر قبضے میں لیے گئے ہتھیار دکھائیں۔
وزارتِ اطلاعات نے ایک بیان میں کہا گیا تھا: ’’طیارے میں اسلحہ یا عسکری آلات نہیں تھے اور ایردوآن کے بیانات میں صداقت کی کمی ہے اور انہیں کم از کم اپنے لوگوں کو آلات اور اسلحہ دکھانا چاہیے۔‘‘
دوسری جانب امریکا نے شام کی مدد کرنے پر روس کی پالیسی کو ’اخلاقی دیوالیہ پن‘ قرار دیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان وکٹوریا نولینڈ نے جمعے کو ایک بیان میں کہا ہے کہ طیارے سے برآمد ہونے والے سامان کے بارے میں ترکی نے واشنگٹن حکومت کو جامع معلومات دی ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق نولینڈ نے صحافیوں کو یہ بتانے سے انکار کیا ہے کہ کارگو میں درحقیقت تھا کیا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ بلاشبہ طیارے پر عسکری آلات موجود تھے۔
ادھر جرمن وزیر خارجہ گیڈو ویسٹر ویلے نے شام اور ترکی پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں۔ انہوں نے جمعے کو دورہ چین کے موقع پر کہا: ’’ہمیں محتاط رہنا ہو گا کہ ہم بڑھتی ہوئی کشیدگی کے چکر میں نہ پڑ جائیں جو بلآخر پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔‘‘
ng/ab (Reuters, AFP, dpa)