شاندار ماضی کا فریب
22 فروری 2026
ماضی کی کئی قسمیں ہوتی ہیں اور ان کا استعمال طبقاتی معاشرے میں علیحدہ علیحدہ ہوتا ہے۔ اگر کوئی قوم عروج کے بعد زوال کا شکار ہو جائے تو وہ اپنے ماضی کو سیاسی نظریات پر تشکیل دیتی ہے۔ ماضی کو شاندار بنانے کے لیے فتوحات کا ذکر کیا جاتا ہے، جن میں دشمنوں کو شکست دی گئی اور ان کے مال غنیمت کو لوٹ کر مفتوحہ لوگوں کو غلام بنایا گیا۔ جب تاریخ کو فتوحات اور جنگوں کی بنیاد پر لکھا جاتا ہے تو ان کے ذریعے اشرافیہ لوگوں میں فخر کے جذبات پیدا کرتی ہے۔ لیکن اگر تاریخ کو دوسرے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو فاتح اور حملہ آور ڈاکوؤں کی طرح ہوتے ہیں، جو دوسروں کے مال و دولت کو طاقت کے ذریعے لوٹتے ہیں۔ تاریخ میں فاتحین کو عظیم بنانا انسانیت کے ساتھ ایک مذاق ہےکیونکہ یہ لوگوں کا قتلِ عام کر کے فاتح بنتے ہیں۔ اس لیے یہ تاریخ کے مجرم ہیں۔ اس کی ایک مثال سکندر کی فتوحات ہیں۔ یونان سے نکل کر اس نے ایران، مصر، افغانستان اور ہندوستان میں لوگوں کا قتل عام کیا۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اس کے جرائم پر تنقید کرنے کے بجائے حکمران خود سکندر بننا چاہتے تھے۔ جولیس سیزر اور علاؤالدین خلجی ان حکمرانوں میں سے تھے جو سکندر کے نقش قدم پر چلنا چاہتے تھے۔
اکثر قوموں میں ایسی اقلیتیں بھی ہیں جن کی نہ کوئی تاریخ ہے اور نہ ماضی۔ جب مفتوحہ لوگوں کو غلام بنایا جاتا تھا تو انہیں اپنے خاندان، معاشرے اور کلچر سے علیحدہ کر کے مختلف خریداروں میں تقسیم کر دیا جاتا تھا۔ ان کے مالک بدلتے رہتے تھے اور ان کی حیثیت انسان کے بجائے بے جان اشیاء کی طرح ہو جاتی تھی۔ اپنی زندگی کے لیے انہیں اپنے مالکوں کا وفادار ہونا پڑتا تھا۔ جب امریکہ اور کیریبیئن جزائر میں افریقی غلاموں کو لے جایا گیا تو وہ نہ صرف اپنے وطن سے محروم ہوئے بلکہ ان کے مالکوں نے انہیں نئے نام دیے، ان کا مذہب تبدیل کیا اور ان سے محنت و مشقت کرا کے معاشی فوائد حاصل کیے۔ اگرچہ افریقی غلاموں نے اپنی آزادی کے لیے کچھ بغاوتیں ضرور کیں مگر انہیں سختی سے کچل دیا گیا۔ 1791ء میں فرانسیسی کالونی سینٹ ڈومینگو میں افریقی غلاموں نے بغاوت کر کے آزادی حاصل کی۔
مسلمان معاشرے میں جب سولہویں صدی میں تین بڑی سلطنتوں کا زوال شروع ہوا تو 1700ء عیسوی میں ایران کے صفوی خاندان کا خاتمہ ہو گیا۔ سترہویں صدی کے آخر میں مغل خاندان زوال پذیر ہوا اور عثمانی سلطنت کی طاقت آہستہ آہستہ ختم ہو گئی۔ ان سلطنتوں کے زوال نے مسلمان معاشرے کے ذہن پر گہرے اثرات ڈالے۔ مایوسی اور ناامیدی کے عالم میں ان میں بدلتے ہوئے حالات کا مقابلہ کرنے کی ہمت نہ تھی، اس لیے نئے خیالات اور افکار اپنانے کے بجائے انہوں نے ماضی کو واپس لا کر اس میں اپنے مسائل کا حل تلاش کرنا چاہا۔ آج تک مسلم معاشرہ اسی ماضی کی تلاش میں ہے جسے شاعروں، ناول نگاروں اور تاریخ دانوں نے تشکیل دیا ہے۔ موجودہ دور میں یہی شاندار ماضی ان کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔
ہندوستان کے ہندو معاشرے میں تاریخ اور ماضی پر اعلی ذاتوں کی اجارہ داری ہے، جب کہ اچھوت یا دلت ذات کے لوگوں کی نہ تو اپنی تاریخ ہے اور نہ ہی ان کا کوئی ماضی۔ اگر ان میں ماضی کی کچھ یادیں نسل در نسل منتقل ہوئی ہیں تو وہ انتہائی تلخ اور ناخوشگوار ہیں، کیونکہ صدیوں سے ہندو معاشرے میں ان کی حیثیت غلاموں سے بھی بدتر رہی ہے۔ ماضی ان کے لیے آج بھی ایک عذاب ہے، کیونکہ اس میں نہ ان کی عزت تھی نہ وقار۔ برطانوی دور حکومت میں انہیں پہلی مرتبہ اپنی ذات کی شناخت کا احساس ہوا۔
جب پندرہویں اور سولہویں صدی میں لاطینی امریکہ میں ہسپانوی حملہ آور ہوئے تو اس وقت وہاں تین بڑی تہذیبیں تھیں جن میں مایا، ایزٹیک اور انکا شامل تھیں۔ ہسپانویوں نے ان تینوں تہذیبوں کو برباد کر دیا، ان کے شہروں کو مسمار کر دیا، ان کے کلچر کے نشانات مٹا دیے اور ان کا مذہب تبدیل کرنے کی کوشش کی۔ مقصد یہ تھا کہ انہیں تاریخ اور ماضی سے محروم کر دیا جائے تاکہ ان میں مزاحمت کی کوئی بنیاد نہ رہے اور وہ ہسپانویوں کے وفادار رہیں۔
لیکن لاطینی امریکہ میں اس وقت سیاسی تبدیلی آئی جب وہاں اسپین کے خلاف آزادی کی تحریک شروع ہوئی۔ سائمن بولیوار نے اپنی طاقت بڑھانے کے لیے مقامی باشندوں کو بھی اس جدوجہد میں شامل کیا۔ اس مقصد کے لیے اس نے لاطینی امریکہ کی قدیم تہذیبوں کی تشکیل نو کی تاکہ لوگوں میں اپنی تاریخ اور ماضی کا احساس پیدا ہو اور وہ آزادی کے لیے اسپین کے خلاف مزاحمت کریں۔ جب لاطینی ممالک آزاد ہوئے تو انہوں نے آثارِ قدیمہ کی مدد سے ان تہذیبوں کے آثار دریافت کیے۔ پرانے شہر جو جنگلات میں گم ہو گئے تھے، انہیں تلاش کیا گیا۔ مایا تہذیب کی تحریر کو پڑھا گیا اور اس کے ایجاد کردہ صفر کو بھی تسلیم کیا گیا۔ لاطینی امریکہ کی تاریخ اور ماضی نے ایک نئے قومی احساس کو جنم دیا۔
یورپی ممالک، جنہوں نے ایشیا اور افریقہ میں اپنی کالونیاں قائم کی تھیں اور ان کی بنیاد پر وسیع سلطنتیں تشکیل دی تھیں، دوسری عالمی جنگ کے بعد جب اپنی کالونیوں سے محروم ہوئے اور اپنی سرحدوں تک محدود ہو گئے تو نوآبادیاتی ماضی آج بھی ان کے معاشروں کو کھوئی ہوئی عظمت کی یاد دلاتا ہے۔ ماضی کی یادوں کو زندہ رکھنے کے لیے انگلستان میں لاتعداد ناول لکھے گئے، فلمیں بنائی گئیں اور تاریخی دستاویزات محفوظ کی گئیں۔ آج جب انگلستان اپنی حدود میں محدود ہو چکا ہے اور سیاسی انتشار اور معاشی بحرانوں کا شکار ہے تو اس کے معاشرے کے لیے نوآبادیاتی ماضی ایک نفسیاتی سہارا بن گیا ہے۔
نوٹ: ڈی ڈبلیو اردو کے کسی بھی بلاگ، تبصرے یا کالم میں ظاہر کی گئی رائے مصنف یا مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے متفق ہونا ڈی ڈبلیو کے لیے قطعاﹰ ضروری نہیں ہے۔