1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
تنازعاتمقبوضہ فلسطینی علاقے

شمالی غزہ: اسرائیل نے ’اونروا کو‘ امداد کی ترسیل سے روک دیا

25 مارچ 2024

فلسطینیوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے مطابق اسرائیل نے اسے شمالی غزہ میں امدادی خوراک کی ترسیل سے حتمی طور پر روک دیا ہے۔ اس وقت غزہ کے شمال میں قحط کا خطرہ سب سے زیادہ ہے۔

افطار سے پہلے بچے کھانا لینے کی قطار میں
فلسطینیوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے مطابق اسرائیل نے اسے شمالی غزہ میں امدادی خوراک کی ترسیل سے حتمی طور پر روک دیا ہےتصویر: AFP/Getty Images

اقوام متحدہ کی اس ایجنسی کے سربراہ فیلپے لازارینی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، ''ہماری آنکھوں کے سامنے ہونے والے سانحے کے باوجود اسرائیلی حکام نے اقوام متحدہ کو مطلع کیا ہے کہ وہ یو این آر ڈبلیو اے (اونروا) کی طرف سے خوراک کے مزید قافلوں کو شمالی غزہ میں منظور نہیں کریں گے۔‘‘

لازارینی نے اتوار کے روز مزید لکھا، ''یہ اشتعال انگیزی ہے اور انسانوں کے پیدا کردہ قحط کے دوران جان بچانے والی امداد میں جان بوجھ کر رکاوٹ ڈالنے کے مترادف ہے۔‘‘

دوسری جانب اسرائیل نے آج پیر پچیس مارچ کے روز اس شکایت کا جواب دیتے ہوئے کہا، ''یو این آر ڈبلیو اے (UNRWA) نے شمالی غزہ میں امداد فراہم کرنے میں اپنے کردار کو طویل عرصے سے ترک کر دیا ہے جبکہ ہم دیگر امدادی اداروں اور اقوام متحدہ کی ایجنسیوں کے ساتھ مل کر شمال میں بڑی مقدار میں امداد کی سہولت فراہم کر رہے ہیں۔‘‘

غزہ فائر بندی مذاکرات، سی آئی اے اور موساد کے سربراہان کی قطر سے واپسی

یو این آر ڈبلیو اے کی ڈائریکٹر کمیونیکیشن جولیٹ توما نے نیوز ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ شمالی غزہ میں امدادی سامان کی ترسیل کی منظوری نہ دینے کا فیصلہ اسرائیلی فوجی حکام نے اتوار کے روز ایک اجلاس میں کیا۔ توما کا مزید کہنا تھا کہ گزشتہ ہفتے بھی دو مرتبہ تحریری طور پر شمالی غزہ میں امداد فراہم کرنے کی اجازت طلب کی گئی تھی، جسے مسترد کر دیا گیا اور اس فیصلے کی کوئی وجہ بھی بیان نہیں کی گئی تھی۔

فلسطینیوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے مطابق اسرائیل نے اسے شمالی غزہ میں امدادی خوراک کی ترسیل سے حتمی طور پر روک دیا ہےتصویر: Mahmoud Issa/REUTERS

اسرائیل کی حماس کے خلاف تقریباﹰ چھ ماہ قبل شروع ہونے والی جنگ کے آغاز کے بعد سے غزہ کو سنگین نوعیت کے انسانی بحرانی حالات کا سامنا ہے۔ سات اکتوبر کو جنوبی اسرائیل میں حماس نے ایک بڑا دہشت گردانہ حملہ کیا تھا، جس کے بعد اسرائیل نے جوابی حملے شروع کر دیے تھے۔

اسرائیل بھوک کو بطور جنگی ہتھیار استعمال کر رہا ہے، یورپی یونین

گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کے حمایت یافتہ ایک فوڈ سکیورٹی جائزے میں خبردار کیا گیا تھا کہ اگر فوری مداخلت نہ کی گئی تو مئی تک غزہ کے شمال میں قحط پیدا ہو جانے کا خطرہ ہے۔

یو این آر ڈبلیو اے کی ڈائریکٹر کمیونیکیشن جولیٹ توما کا کہنا تھا کہ ان کی ایجنسی 29 جنوری سے شمالی غزہ میں خوراک پہنچانے میں کامیاب نہیں ہو سکی، ''یہ تازہ ترین فیصلہ جنگ سے دوچار غزہ کے لوگوں کے لیے اشد ضروری امداد کے حصول کی کوششوں میں تابوت میں ٹھونکا گیا ایک اور کیل ہے۔‘‘

اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کے رابطہ دفتر کے سربراہ مارٹن گریفتھس نے اتوار کے روز کہا، ''یو این آر ڈبلیو اے غزہ میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امدادی کارروائیوں کے حوالے سے مرکزی ادارہ ہے۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا، ''امدادی خوراک کے قافلوں کو روکنے کے اس فیصلے نے ہزاروں افراد کو قحط کے اور قریب دھکیل دیا ہے۔ یہ فیصلہ واپس لیا جانا چاہیے۔‘‘

فلسطینیوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے مطابق اسرائیل نے اسے شمالی غزہ میں امدادی خوراک کی ترسیل سے حتمی طور پر روک دیا ہےتصویر: Xinhua/IMAGO

اسی دوران ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے سربراہ ٹیڈروس ایڈہانوم نے ایکس پر  لکھا، ''یو این آر ڈبلیو اے کو امداد کی فراہمی سے روکنا در حقیقت بھوک سے مرنے والے لوگوں سے زندہ رہنے کی صلاحیت چھیننے کے مترادف ہے۔‘‘

گزشتہ روز اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوٹیرش نے بھی غزہ کے 2.4 ملین لوگوں کے لیے علاقے کی اب تک کی بدترین جنگ میں برداشت کیے جانے والے ''لامتناہی ڈراؤنے خواب‘‘ کو ختم کرنے پر زور دیا تھا۔

اسرائیل ماضی میں یو این آر ڈبلیو اے یا اونروا کے عملے کے اراکین پر سات اکتوبر کو ہونے والے دہشت گردانہ حملے میں حصہ لینے کا الزام  عائد کر چکا ہے جبکہ اسرائیلی حکومت اقوام متحدہ کی اس ایجنسی کو ''حماس کا محاذ‘‘ بھی قرار دے چکی ہے۔

گزشتہ برس سات اکتوبر کو حماس کے دہشت گردانہ حملے میں تقریباً 1160 اسرائیلی ہلاک ہو گئے تھے، جن میں سے زیادہ تر عام شہری تھے۔  دوسری جانب حماس کے زیر انتظام غزہ میں وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں اب تک کم از کم 32,226 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں سے زیادہ تر خواتین اور بچے تھے۔

ا ا / م م، ع ا (اے ایف پی، اے پی)

غزہ میں دیرپا فائر بندی کے لیے کوشاں ہیں، جرمن چانسلر

01:07

This browser does not support the video element.

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں