شمالی کوریا: اقتدار پر کِم جونگ اُن کی گرفت مزید سخت
10 دسمبر 2013
شمالی کوریا کے حکومتی ایوان میں جب نوجوان لیڈر کِم جونگ اُن کی تقریر یا آمد کے موقع پر اراکین پارلیمنٹ یا پارٹی کے اندرونی حلقے زور شور سے تالیاں بجانے میں مصروف ہوتے تھے تو کم جونگ اُن کے انکل (پُھوپھا) ژانگ سونگ تھیک اِس عمل میں غیر جذباتی انداز میں موجود ہوتے تھے۔ کئی مرتبہ وہ پارٹی اجلاس یا کم جونگ اُن کی میٹنگوں میں بوریت کا بھی شکار دکھائی دیے۔ بعض مبصرین نے ژانگ سونگ تھیک کی بیدخلی کوکم جونگ اُن کی نوجوان لاپروا طبیعت کا شاخسانہ قرار دیا ہے۔
کم جونگ اُن کی پس پردہ قوت کا مظہر ژانگ سونگ تھیک کو خیال کیا جاتا تھا لیکن اب اُن کو بلند مرتبے سے فارغ کر کے ایسے الزامات لگائے گئے ہیں جن سے وہ بےتوقیری کی اتھاہ گہرائیوں میں پہنچ گئے ہیں۔ ژانگ سونگ تھیک کو نہ صرف اہم منصب سے فارغ کیا گیا ہے بلکہ اُن پر کرپشن اور عورت پرستی کے الزامات بھی لگائے گئے ہیں۔ تھیک کی پارٹی میٹنگ میں ڈرامائی گرفتاری کے مناظر اب عام کر دیے گئے ہیں۔ کوریائی ماہرین کے مطابق جہاں ایک طرف اُن ملکی معاملات پر اپنی گرفت کو مضبوط کرنے کی کوشش میں ہیں وہیں وہ اپنے ملک میں یہ ظاہر کر رہے ہیں کہ کوئی بھی، حتیٰ کہ اُن کے خاندان کے افراد بھی اُن کی دسترس سے باہر نہیں ہیں۔
شمالی کوریا میں ژانگ سونگ تھیک کو دوسرا طاقتور ترین حکومتی اہلکار تصور کیا جاتا تھا۔ ژانگ سونگ تھیک کی بیدخلی کوکم جونگ اُن کی حکومتی ایوانوں کو بدعنوانی سے پاک کرنے کے عمل کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔ شمالی کوریا پر کمیونسٹ نظریات کی حامل ورکرز پارٹی کی حاکمیت ہے۔ موجودہ لیڈر کے والد کِم جونگ اِل کی رحلت کے بعد ورکرز پارٹی اپنی فوج پر کنٹرول کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔ بعض وزرائے دفاع اور فوجی سربراہان کی تبدیلی کا عمل بھی جاری ہے۔ تجزیہ کار یہ بھی خیال کرتے ہیں کہ ژانگ سونگ تھیک کو کم جونگ اُن ایک چیلنج تصور کرتے تھے اور اِس باعث اُن کو تمام عہدوں سے علیحدہ کر دیا گیا ہے۔
ایسا گمان کیا گیا تھا کہ شمالی کوریا میں ژانگ سونگ تھیک کے زیر سایہ کم جونگ اُن نے سیاسی تربیت حاصل کی تھی۔ کِم جونگ اُن جیسے جیسے بچپن سے بڑی عمر میں داخل ہوئے رہے ویسے ہی ژانگ سونگ تھیک کے منصب میں اضافہ ہوتا چلا گیا تھا۔ تھیک موجودہ شمالی کوریائی لیڈر کے والد کی بہن کے شوہر ہیں۔ تھیک اکثر سفید وردی میں ایک جنرل کے رینک کے ساتھ دیکھے جاتے تھے۔ سن 2012 میں وہ ایک بڑا کاروباری وفد لے کر چین بھی گئے تھے۔ اس وفد میں انہوں نے چینی قیادت کے ساتھ شمالی کوریا میں کئی مقامات پر اقتصادی زونز کو تعمیر کرنے پر گفتگو کی تھی۔ وہ اسٹیٹ فزیکل کلچر، اسپورٹس گائیڈینس کمیشن کے سربراہ تھے۔ اس منصب کے تحت وہ کِم جونگ اُن کے کئی پروجیکٹس کی نگرانی پر مامور تھے۔