شمالی کوریا پر نئی امریکی پابندیاں
3 جنوری 2015
جمعے کے روز ان نئی امریکی پابندیوں میں کمیونسٹ کوریا کے تین بڑے اداروں اور دس اہم افراد کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ ادارے اور افراد شمالی کوریا کی وزارت دفاع سے قریبی تعلق رکھتے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ امریکی ردعمل کا ابتدائی اسٹیپ ہے۔ یہ امر اہم ہے کہ شمالی کوریا کو جوہری پروگرام کے تناظر میں سخت امریکی پابندیوں کا پہلے سے ہی سامنا ہے۔
امریکی محکمہء خزانہ کا کہنا ہے کہ یہ پابندیاں صدر اوباما کی جانب سے ایک انتظامی حکم کے ذریعے عمل میں آئیں۔ صدر اوباما کے مطابق پابندیوں کی وجہ شمالی کوریا کی حکومت کا اشتعمال انگیز، عدم استحکامی اور جابرانہ پالیسیوں پر عمل پیرا ہونا ہے۔ صدر اوباما نے مزید کہا کہ پیونگ یانگ کی حکومت سائبر حملوں جیسی تخریبی سرگرمیوں میں بھی ملوث ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ ماہ سونی پکچرز انٹرٹینمنٹ پر ایک سائبر حملے کی ذمہ داری امریکی حکومت نے پیونگ یانگ پر عائد کرتے ہوئے جوابی اقدامات کی دھمکی دی تھی۔
امریکی صدر نے پابندیوں کے حوالے سے حکم جاری کرنے کے بعد امریکی کانگریس کو ایک خط کے ذریعے مطلع بھی کر دیا ہے۔ اِس خط میں اوباما نے تحریر کیا کہ اُن کی جانب سے پابندیوں کے حکم سے شمالی کوریائی عوام کو نشانہ نہیں بنایا گیا ہے بلکہ شمالی کوریا کی حکومت ہے جو تخریبی سرگرمیوں کے تسلسل میں مصروف ہے۔ اوباما نے اپنے خط میں کانگریس پر واضح کیا کہ شمالی کوریا کی سرگرمیوں سے امریکا اور دوسرے ممالک کو خطرات لاحق ہیں۔ دوسری جانب یہ بھی خیال کیا گیا ہے کہ پہلے سے عائد پابندیوں کے باعث نئی پابندیوں کے اثرات محدود ہو سکتے ہیں۔
جن تین اداروں پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں ان میں ایک کوریا ٹنگن ٹریڈنگ کارپوریشن ہے۔ یہ ادارہ شمالی کوریا میں دفاعی ریسرچ پراجیکٹس کو اسپانسر کرنے کے حوالے سے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ دیگر دو ادارے بھی فوج اور دفاعی محکمے کے قریب ہونے کے علاوہ اسلحے کی ایکسپورٹ اور خفیہ سرگرمیوں میں ملوث خیال کیے گئے ہیں۔ یہ امر اہم ہے کہ شمالی کوریا نے سونی پکچرز انٹرٹینمنٹ پر کیے گئے سائبر حملے سے لاتعلقی کا اظہار کر رکھا ہے۔ امریکا نے ایک بار پھر شمالی کوریا کو متنبہ کیا ہے کہ اِس پر غور کیا جا رہا ہے کہ آیا شمالی کوریا کو ایک مرتبہ پھر دہشت گردی کی حمایت کرنے والے ملکوں کی فہرست میں شامل کر دیا جائے۔