شمالی کوریا کے سفارتی ’حربے‘
7 اکتوبر 2014
شمالی کوریا کے وفد نے ایشیئن گیمز کی اختتامی تقریب میں شرکت کے ساتھ ساتھ جنوبی کوریا کے حکام سے بات چیت بھی کی۔ شمالی کوریا کے حکام کا یہ ایک غیر اعلانیہ دورہ تھا۔ اس سے پہلے کِم جونگ اُن منظرِ عام سے غائب ہیں جس کی وجہ سے ان کی صحت اور حکومت کے استحکام پر قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں۔
تاہم خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان دونوں باتوں کو پیونگ یانگ کے سفارتی حربے کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے جس کا مقصد متنازعہ جوہری منصوبے اور انسانی حقوق کے منفی ریکارڈ کی وجہ سے شمالی کوریا کو درپیش عالمی دباؤ کو کمزور بنانا ہے۔
شمالی کوریا کے حکام نے ان خبروں کو ردّ کیا ہے کہ تین ستمبر سے کِم جونگ اُن بیماری کی وجہ سے منظرِ عام پر نہیں ہیں۔ روئٹرز کے مطابق شمالی کوریا کے حالات پر نظر رکھنے والے ایک امریکی اہلکار کے مطابق ایسے کوئی اشارے نہیں ملے جن سے کِم کے بیمار ہونے یا کسی سیاسی مسئلے میں گرفتار ہونے کا پتہ چلے۔
شمالی کوریا نے ویک اینڈ پر اپنا ایک اعلیٰ سطحی وفد جنوبی کوریا بھیجا جس کے بعد دونوں حکومتوں نے مصالحتی بات چیت کی بحالی پر اتفاق کیا۔ یہ وفد دراصل ایشیئن گیمز کی اختتامی تقریب میں شرکت کے لیے بھیجا گیا تھا۔
امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان جین ساکی کا کہنا تھا کہ واشنگٹن حکومت اس دورے کے موقع پر سیول حکومت کے ساتھ رابطے میں تھی۔ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ آیا امریکا اس دورے سے پیشگی آگاہ تھا یا نہیں۔
شمالی کوریا کے بارے میں ایک مانیٹرنگ پراجیٹک، نارتھ 38، چلانے والے جوئل وِٹ کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت آگے بڑھی تو واشنگٹن حکومت اس معاملے میں پیچھے رہ سکتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکا نے شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کے حوالے سے عالمی بات چیت کی بحالی کے شرائط نافذ کر رکھی ہیں۔
امریکا کی جان ہوپکنز یونیورسٹی میں شمالی کوریا کے امور کے ماہر الیگزینڈر مانسورو کے مطابق ہو سکتا ہے کہ پیونگ یانگ کی حکومت نے ڈومیسٹک پروپیگنڈا کی غرض سے ایشیئن گیمز کو استعمال کیا ہو۔
ان کے مطابق یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس کے ذریعے متنازعہ جوہری منصوبے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی وجہ سے شمالی کوریا کو درپیش عالمی دباؤ کو تقسیم کرنا مقصود ہو۔
یہ امر بھی اہم ہے کہ شمالی کوریا میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے موضوع پر اقوام متحدہ میں قرارداد پر بحث بھی ہونے جا رہی ہے۔
مانسورو کا کہنا ہے کہ کِم جونگ جلد منظر عام پر آ سکتے ہیں اور اس حوالے سے دس اکتوبر کا دِن اہم ہو سکتا ہے۔ اس دِن شمالی کوریا کی کمیونسٹ پارٹی کی بنیاد رکھی گئی تھی۔