1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

شہباز شریف اور ایرانی صدر کے مابین موجودہ صورتحال پر بات چیت

جاوید اختر روئٹرز کے ساتھ
11 مارچ 2026

پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بدھ گیارہ مارچ کو ایک ٹیلی فونک گفتگو میں خطے کی موجودہ صورتحال پر بات چیت کی۔ دونوں رہنماؤں نے بدلتے حالات میں قریبی رابطے اور مشاورت جاری رکھنے پر زور دیا۔

پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان
دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال کے پیش نظر قریبی رابطے اور مشاورت جاری رکھے جائیں گےتصویر: Iranian Presidency/AFP

حکومت پاکستان کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان اور نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق اس گفتگو کے دوران پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے خطے میں موجودہ کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان امن، استحکام اور کشیدگی میں کمی کے لیے سفارتی کوششوں اور مذاکرات کو انتہائی ضروری سمجھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکنے کے لیے تمام فریقوں کو تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

شہباز شریف نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ پاکستان ایران کے ساتھ اپنے تاریخی، مذہبی اور ثقافتی تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانا چاہتا ہے۔ انہوں نے ہر سطح پر ایران کے ساتھ روابط اور تعاون بڑھانے کے پاکستانی عزم کا اعادہ بھی کیا۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اظہار کیا اور کہا کہ دونوں ممالک کو خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔ انہوں نے موجودہ علاقائی کشیدگی کے حوالے سے ایران کے موقف سے بھی پاکستانی وزیر اعظم کو آگاہ کیا۔

روئٹرز کے مطابق ایرانی صدر نے کہا کہ اگر بین الاقوامی برادری جنگ کے ذمہ داروں پر توجہ نہیں دیتی، تو عالمی نظام اور سلامتی خطرے میں پڑ جائیں گے۔

شہباز شریف نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ پاکستان ایران کے ساتھ اپنے تاریخی، مذہبی اور ثقافتی تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانا چاہتا ہےتصویر: Farooq Naeem/AFP/Getty Images

قریبی رابطے اور مشاورت جاری رکھنے پر زور

دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال کے پیش نظر قریبی رابطے اور مشاورت جاری رکھے جائیں گے تاکہ امن، استحکام اور ترقی کے مشترکہ اہداف کو آگے بڑھایا جا سکے۔ انہوں نے مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے اور اعلیٰ سطح کے روابط جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا۔

خیال رہے کہ ایک روز قبل پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کو ان کے والد علی خامنہ ای کے قتل کے بعد ملکی قیادت سنبھالنے پر مبارکباد دی تھی۔ انہوں نے علی خامنہ ای کے موت پر تعزیت کا اظہار بھی کیا تھا۔

وزیر اعظم ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ ایک خط میں شہباز شریف نے امید ظاہر کی کہ نئے رہنما ایران کو ''امن، استحکام، وقار اور خوشحالی‘‘ کی جانب لے کر جائیں گے اور ساتھ ہی شہباز شریف نے پاکستان کی جانب سے دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔

واضح رہے کہ موجودہ ایران جنگ گزشتہ ماہ اس وقت شروع ہوئی جب 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر وہ مشترکہ فضائی حملے شروع کیے تھے، جن میں ایران کے طویل عرصے سے سپریم لیڈر رہنے والے علی خامنہ ای بھی ہلاک ہو گئے تھے۔

اس کے بعد کشیدگی تیزی سے ایک بڑے علاقائی تنازعے میں تبدیل ہو گئی جب تہران نے جوابی کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیلی اہداف اور مشرق وسطیٰ میں امریکی افواج سے منسلک مقامات اور اہداف پر میزائل اور ڈرون حملے شروع کر دیے۔

جنگ ایران میں لیکن مہنگائی پاکستان میں

01:26

This browser does not support the video element.

ادارت: مقبول ملک

جاوید اختر جاوید اختر دنیا کی پہلی اردو نیوز ایجنسی ’یو این آئی اردو‘ میں پچیس سال تک کام کر چکے ہیں۔
ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں