شہباز شریف اور عاصم منیر کی چین کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں
25 مئی 2026
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے چین کے صدر شی جن پنگ سے پیر 25 مئی کو بیجنگ میں ملاقات کی۔ یہ ملاقات ایسے وقت پر ہوئی جب ایران جنگ کے باقاعدہ خاتمے کے لیے مختلف ممالک کی سفارتی کوششیں جاری ہیں لیکن پیش رفت سست روی کا شکار ہے۔
اس سے قبل دن کے آغاز پر شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے چین کے وزیر اعظم لی چیانگ سے بھی ملاقات کی۔
چین پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ مل کر ''مشرق وسطیٰ میں امن اور استحکام کی جلد بحالی کے لیے مثبت کردار ادا کرے گا۔‘‘
چین نے نسبتاً خاموش کردار ادا کیا ہے اور متاثرہ خلیجی ممالک کے حکام کے درمیان فون کالز اور ملاقاتوں میں سہولت کاری کی ہے۔
بیجنگ میں چینی قیادت سے ملاقات کے دوران، جہاں فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی موجود تھے، وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا، ''دنیا اس وقت ایک نازک مرحلے سے گزر رہی ہے۔‘‘ انہوں نے ہفتے کے روز چین کے مشرقی صوبے ژے جیانگ کے شہر ہانگ ژو سے اپنے چار روزہ سرکاری دورے کا آغاز کیا تھا۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کے کردار کی تعریف
شہباز شریف نے ثالثی کی کوششوں میں آرمی چیف عاصم منیر کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی آرمی چیف نے ایرانی اور امریکی قیادت کے ساتھ رابطوں میں نہایت اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا، ''فیلڈ مارشل حال ہی میں تہران سے واپس آئے ہیں۔ وہ اس اہم دورے کو چھوڑنا نہیں چاہتے تھے، اور انہوں نے مجھے یقین دلایا کہ وہ اس ملاقات میں میرے ساتھ شامل ہوں گے، جبکہ وہ پوری رات سفر کرتے رہے ہیں۔‘‘
فیلڈ مارشل عاصم منیر جمعے اور ہفتے کو پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی کے ہمراہ تہران میں تھے، جہاں وہ ایران جنگ کے باضابطہ خاتمے کے لیے جاری ثالثی کوششوں کے سلسلے میں گئے تھے۔
پاکستانی وزیر اعظم نے مزید کہا، ''معاملات درست سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ امن کے فروغ کے لیے چین کی حمایت پر میں شکریہ ادا کرتا ہوں۔‘‘
اپنے چینی ہم منصب لی چیانگ کے ساتھ وفود کی سطح پر ہونے والے مذاکرات کے دوران شہباز شریف نے مشرق وسطیٰ میں جاری ایران جنگ کے تناظر میں امن کی بحالی کی کوششوں کے حوالے سے کہا کہ اسلام آباد اور بیجنگ کو ایک ساتھ کھڑا ہونا ہو گا۔
انہوں نے کہا، ''میرا خیال ہے کہ ہمیں واقعی ایک ساتھ ہونا ہو گا تاکہ دنیا بھر میں امن قائم ہو اور معمولات زندگی اور کاروبار دوبارہ بحال ہو سکیں، کیونکہ اس بحران نے نہ صرف خطے کی معیشت بلکہ عالمی برادری کو بھی متاثر کیا ہے۔‘‘
پاکستانی وزیر اعظم نے کہا، ''خطے میں بحران جاری ہے اور پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کے لیے نہایت مخلصانہ کردار ادا کیا ہے۔‘‘
پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان ایک اہم ثالث کے طور پر ابھرا ہے، اور گزشتہ ماہ اس نے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی براہ راست مذاکرات کی میزبانی کی تھی، تاہم یہ مذاکرات کسی دیرپا معاہدے پر منتج نہ ہو سکے تھے۔ تب ایران نے امریکہ پر''ضرورت سے زیادہ مطالبات‘‘ کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔
’معاہدہ آج ہو سکتا ہے‘
پاکستانی وزیر اعظم نے کہا، ''امن کی بحالی کے حوالے سے کافی پیش رفت ہو چکی ہے۔ معاملات درست سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔‘‘
دریں اثنا امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدہ 'آج‘ طے پا سکتا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ممکنہ معاہدے کے حوالے سے نئی دہلی میں گفتگو کرتے ہوئے روبیو نے کہا، ''ہمیں لگا تھا شاید گزشتہ رات کچھ خبر مل جائے، ممکن ہے آج مل جائے لیکن میں اس پر زیادہ کچھ نہیں کہوں گا۔‘‘
انہوں نے دہلی سے روانگی کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو میں کہا، ''آبنائے ہرمز کو کھلوانے اور اسے بحال کرنے کے حوالے سے ہمارے پاس ایک کافی مضبوط تجویز موجود ہے۔‘‘
روبیو نے کہا، ''اسے (اس تجویز کو) خلیجی ممالک کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔ ہم نے جس بھی ملک کے ساتھ اس پر بات کی، سب سمجھتے ہیں کہ یہ نہ صرف بہت معقول ہے بلکہ دنیا کے لیے درست قدم بھی ہے۔‘‘
روبیو نے اعتماد ظاہر کیا کہ ایران جوہری معاملے پر 'حقیقی، اہم اور وقت کی حدود کے ساتھ مذاکرات‘ میں شامل ہو گا۔
ادارت: مقبول ملک