1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

شہباز کرے پرواز: بہتری کے دعوے اور سیاسی انتقام کے الزامات

12 اپریل 2022

وزیراعظم شہباز شریف نے آج اپنے اقتدار کے پہلے دن معاشی ماہرین کے ایک اجلاس کی صدارت کی اور ایک قومی اقتصادی کونسل بنانے کا بھی اعلان کیا۔

Prime Minister Shahbaz Sharif
تصویر: National Assembly of Pakistan/AP/picture alliance

 کئی مبصرین اور مسلم لیگ نون کے حامیوں کا کہنا ہے کہ معاشی مسائل کو حل کرنے کی ترجیح اس بات کا اشارہ ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف ملک کو مسائل کی دلدل سے نکالیں گے لیکن ناقدین کا خیال ہے کہ نون لیگ نے اقتدار میں آتے ہی انتقامی کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔ واضح رہے آج ملک کے مختلف شہروں سے پانچ افراد کی گرفتاریاں عمل آئی ہیں۔ جو پاکستان کے حساس اداروں کے خلاف سوشل میڈیا کیمپین چلا رہے تھے۔ شہباز شریف کی حکومت نے آتے ہی پی ٹی آئی کے کچھ لوگوں کے ناموں کو بھی ایگزیکٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالا گیا تھا جس کے بعد انہوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ حکومت کے اس اقدام کو عدالت نے معطل کردیا ہے۔

 ان اقدامات کے پیش نظر کچھ حلقوں کا کہنا ہے کہ شہباز شریف کی حکومت نے آتے ہی پی ٹی آئی کے خلاف انتقامی کارروائیاں شروع کر دی ہیں تاہم مسلم لیگ نون کا یہ کہنا ہے کہ اس کی یہ روایت نہیں بلکہ وہ سیاسی رواداری اور سیاسی برداشت پر یقین رکھتی ہے۔

مسلم لیگ نون پرا'مید

مسلم لیگ نون کا دعویٰ ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف ایک محنتی آدمی ہیں اور انہوں نے آج وقت پر وزیراعظم ہاؤس پہنچ کر یہ ثابت کر دیا کہ وہ کم از کم وقت میں زیادہ سے زیادہ کام کرنا چاہتے ہیں تاکہ ملک کو مسائل کی دلدل سے نکالا جائے۔ مسلم لیگ نون سندھ کے صدر سید شاہ محمد شاہ کا کہنا ہے کہ پارٹی کی بنیادی ترجیح سیاسی انتقام نہیں بلکہ معیشت کو صحیح خطوط پر استوار کرنا ہے۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''وزیراعظم نے آتے ہی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کیا۔ پینشن میں اضافہ کیا۔ مہنگائی کے حوالے سے بھی پروگرام بنائے جا رہے ہیں اس کے علاوہ معاشی ماہرین سے تجاویز بھی طلب کرلی گئی ہیں۔‘‘

سید شاہ محمد شاہ کے بقول آنے والے وقتوں میں شہباز شریف عوام کو مہنگائی سے بھی نجات دلانے کی کوشش کریں گے جبکہ بے روزگاری کے مسئلے کو بھی حل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ ''عمران خان خزانہ خالی چھوڑ کر گیا ہے معیشت کو تباہ کر کے گیا ہے تو اس کو صحیح خطوط پر استوار کرنے میں کچھ وقت لگے گا لیکن مجھے امید ہے کہ شہباز شریف دن رات محنت کرکے پاکستان کو بحرانوں کی دلدل سے نکالیں گے۔ اسٹاک ایکسچینج نے اچھا پرفارم کرنا شروع کر دیا ہے۔ ڈالر کی قیمت نیچے آ رہی ہے اور انشاءاللہ دوسرے معاشی مسائل بھی جلد حل کرنے کی کوشش کریں گے۔‘‘

شہباز شریف کم وقت میں زیادہ سے زیادہ کام کرنا چاہتے ہیںتصویر: Akhtar Soomro/REUTERS

عوام کے لیے کوئی بہتری نہیں

تاہم کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے معروف تجزیہ نگار  ڈاکٹر شاہ محمد مری کا کہنا ہے کہ عوام کے لیے کسی ریلیف کی توقع نہیں۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا ،''ایک عام شہری کی زندگی میں جو تبدیلیاں آتی ہیں وہ کسی بھی حکومت کی معاشی پالیسیوں کی وجہ سے آتی ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا عمران خان کی معاشی پالیسی اور شہبازشریف کی معاشی پالیسی مختلف ہوں گی؟ جواب یہ ہے کہ بالکل بھی نہیں۔ شہباز شریف بھی اسی طرح سرکاری اداروں کو بیچیں گے۔ سرمایہ داروں کو خوش کریں گے۔ بڑے بڑے سیٹھوں کی جیبیں بھریں گے اور سرکاری اداروں کو بیچیں گے۔ جس سے ملک میں بے روزگاری مزید بڑھے گی۔‘‘

 شاہ محمد مری کے بقول اس حکومت کے بارے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ عمران خان کی حکومت بدترین تھی اور اس کا طرز حکومت بد تر ہوگا۔ وہ کہتے ہیں،''لیکن یہ خیال کرنا کہ شہباز شریف ملک کی غریب عوام کو کسی طرح کی کوئی ریلیف دے گا خام خیالی ہے۔  وہ خود سرمایہ دار طبقے سے ہے اور سرمایہ دار طبقے کے مفادات کا تحفظ کرے گا۔ تو شہباز شریف کے اقتدار میں عام آدمی کے لیے کوئی بڑی خوشخبری نہیں ہے۔‘‘

مودی کی شہباز شریف کو مبارک باد اور امن و استحکام کی تمنّا

معاشی صورت حال میں کسی بہتری کی ا'مید نہیں

معاشی ماہرین کا دعویٰ ہے کہ شہباز شریف لاکھ معیشت کو بہتر کرنے کے دعوے کرے لیکن موجودہ صورتحال میں معاشی حالات بہتر نہیں ہونگے کیونکہ معاشی حالات کا گہرا تعلق سیاسی استحکام سے ہے جو ملک میں نظر نہیں آ رہا۔ معروف معاشی تجزیہ کار ڈاکٹر اشفاق احمد خان کا کہنا ہے کہ ملک سیاسی عدم استحکام کی طرف بڑھ رہا ہے جس کے معیشت پر بہت برے اثرات ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا،'' اتوار کے روز پی ٹی آئی کے جلسوں سے اس بات کا اشارہ مل رہا ہے کہ حکومت بھی اس کے خلاف ردعمل دے گی۔ پی ٹی آئی احتجاج اور جلسے کرے گی اور حکومت روکنے کی کوشش کرے گے جس سے کشیدگی بڑھے گی اور کشیدگی کے اس عالم میں کوئی سرمایہ کار اپنا پیسہ نہیں لگائے گا۔ جب ملک میں سرمایہ کاری نہیں ہوگی تو معاشی حالات میں کسی بھی طور پر بہتری نہیں ہوگی چاہے شہباز شریف صاحب لاکھ دعوے کرتے پھریں۔‘‘

 

اشفاق احمد خان کے بقول عمران خان پشاور، کراچی اور لاہور میں بھی جلسہ کرنے جا رہے ہیں جس سے حالات مزید غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو نگے۔ ''سیاست اور معیشت کو علیحدہ نہیں کیا جا سکتا اگر ملک میں سیاسی استحکام نہیں ہوگا تو کوئی اپنا پیسہ لگانے کو تیار نہیں ہوگا اور سرمایہ کار ہچکچاہٹ کا شکار ہونگے۔ ایسے میں مجھے تو کسی معاشی بہتری کی ا'مید نہیں ہے۔‘‘

 

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی اہم ترین رپورٹ

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں