1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
تاريخعالمی

شہریت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

31 دسمبر 2025

شہریت کے صدیوں پرانے نظام کے تحت آج بھی طاقت ور ریاستوں کے ہاتھوں انسانوں کے استحصال کا عمل جاری ہے۔ حکمران طقبہ اپنے مفادات کے پیش نظر شہریت کے قوانین میں تبدیلیاں لاتا رہا ہے۔

محقق اور تاریخ دان ڈاکٹر مبارک علیتصویر: privat

موجودہ زمانے میں ریاستوں میں دستور کی بنیاد پر شہریت کے حقوق دیے جاتے ہیں۔ شہریت کے قوانین کی ابتدا سیاسی طور پر یورپی عہد وسطیٰ سے شروع ہوئی جبکہ ایشیا اور افریقہ کے ملکوں میں شہریت کے سلسلے میں کوئی قوانین نہیں تھے۔

 اکثر مورخین کا خیال ہے کہ شہریت کی ابتدا یونان کی شہری ریاست ایتھنز سے ہوئی تھی۔ ایتھنز کی سرزمین زیادہ آبادی کو غذائی سہولتیں نہیں دے سکتی تھی۔ ریاست کا اصول یہ تھا کہ اگر آبادی مقررہ حد سے بڑھ جائے تو ضرورت سے زائد آبادی کو بحری جہازوں میں بھر کر یونان کے خالی جزیروں میں بھیج دیتے تھے اور وہاں سے  دوبارہ ایتھنز آنا قانونی طور پر جرم قرار دیا گیا تھا۔

یونانی زمین پتھریلی ہونے کی وجہ سے بہت کم ذرعی پیداوار کے قابل تھی اور غذائی ضروریات  پوری کیے جانے کے لیے اسکندریہ سے گندم لائی جاتی تھی۔

ایتھنز کے شہریوں کے لیے یہ لازم تاکہ وہ ریاست کے دفاع میں ہونے والی جنگ میں شرکت کریں۔ سقراط بھی ایک ایسی ہی جنگ میں بہادری سے لڑا تھا ۔شہریت کے قوانین کو سخت کرنے کا کام چار صدی قبل مسیح میں Perciles  نے کیا تھا۔ اس کی ایک شرط یہ تھی کہ بچوں کو شہریت اسی وقت ملے گی، جب ان کے دونوں ماں باپ ایتھنز کے شہری ہوں گے۔ لیکن وہ خود اپنے ہی جال میں اس وقت پھنس گیا، جب اس کا ایک لڑکا غیر ملکی طوائف سے پیدا ہوا ۔اس پر Pericles  نے اسمبلی میں ترمیم  کرانے کے بعد اپنے لڑکے کو شہریت دلوا دی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حکمران طقبہ اپنے مفادات کے لیے دستور اور قانون میں صدیوں سے تبدیلیاں کراتا آیا  ہے۔ شہریت کے قوانین کے تحت ووٹ کا حق صرف شہریوں کو ہی تھا۔

غلام عورتیں اور غیر ملکی باشندے ووٹنگ کے حق سے محروم تھے۔  جیوری کے اراکین بھی شہریت کے حامل ہوا کرتے تھے ریاست کے انتخابات میں بھی انہی کو حصہ لینے کی اجازت تھی۔

اس کے برعکس اسپارٹا کی ریاست ایک جنگجو  ریاست تھی۔ اس میں نوجوانوں کو سخت قسم کی فوجی تربیت دی جاتی تھی۔ یہاں تک کہ بچے کی پیدائش پر ایک کمیٹی یہ جائزہ لیتی تھی کہ بچہ صحت مند ہے یا نہیں۔ اگر وہ کمزور  پایا جاتا تھا تو اسے ایک پہاڑی سے گرا کر ہلاک کر دیا جاتا تھا۔ اسپارٹا کے معاشرے میں کوئی غیر ملکی باشندہ  شامل نہیں ہو سکتا تھا۔ یہ طاقتور لوگ اپنی غذائی ضروریات پوری کرنے کے لیے ہلیٹ (Heliot)  کہلائے جانے والے اسپارٹا کے قدیم باشندوں سے جبری کھیتی باڑی کراتے تھے۔

رومی ریپبلک میں شہریت کے لیے نئے نئے قوانین بنتے رہے۔ ابتدائی دور میں شہریت کا حق رومی باشندوں کو تھا۔ انتخابات میں یہی ووٹ دے سکتے تھے اور فوج میں بھی انہی کو شامل کیا جاتا تھا ۔ رومی معاشرہ  دو طقبوں میں تقسیم تھا Patrician یعنی اشرافیہ  اور Plebeians یعنی عام لوگ۔ وطن کا دفاع کرنا ہر رومی شہری کا فرض تھا۔ رومی عہدیدار کسی بھی رومی شہری کو نہ بلا وجہ قید کر سکتے تھے اور نہ اسے اذیت دے سکتے تھے ۔

عیسائی رہنما سینٹ پال کا مشہور واقعہ ہے کہ سفر کے دوران ایک عہدار  نے اسے گرفتار کر کے سزا دی لیکن جب اس نے اپنی رومی شہریت کی سند دکھائی تو عہدیدار نے اس سے معافی مانگ لی۔ 

رومی شہریت کے قوانین میں اس وقت تبدیلیاں متعارف کرائی گئیں، جب فتوحات کا سلسلہ شروع ہوا۔ رومی فوجی محدود تعداد کے باعث ہر جنگ میں شریک نہیں ہو سکتے تھے ۔اس لیے انہوں نے غیر ملکی باشندوں کو شہریت دے کر فوج میں شامل کر لیا۔ جب رومی شہری ریٹائر ہوتا تھا تو ریاست کی جانب سے اسکی خدمات کے سلسلے میں اس کو نقد رقم دی جاتی تھی اور زمین کا ایک ٹکڑا بھی اسے کاشتکاری کے لیے دیا جاتا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جیسے جیسے رومی سلطنت وسیع ہوئی اسی طرح اس مفتوح لوگوں کو بھی شہریت کے عمل  میں شامل کیا گیا۔

رومی سلطنت کے زوال کے بعد اٹلی کئی ریاستوں میں تقسیم ہو گیا۔ جس کی وجہ سے فرانس اور آسٹریا نے اسکے کئی حصوں پر قبضہ کر لیا  اور اسی  وجہ سے رینساں کے عہد میں اٹلی میں قوم پرستی کی تحریکیں شروع ہوئیں۔ فلورنس کے مصنف میکیاولی نے قومی ملیشیا بنائی تاکہ اٹلی کو غیر ملکیوں سے آزاد کرایا جائے۔ میکیاولی نے  لیوی کی کتاب پر جو مکالمات لکھے ہیں اس میں اس نے ریاستوں پر زور دیا ہے کہ وہ شہریوں کو بنیادی حقوق دے ۔ اس مرحلے پر ملکی اور غیر ملکی کا فرق پیدا ہوا۔

شہریت کے نظریے میں اس وقت مزید تبدیلی آئی، جب 1618 سے  1648 تک جرمنی میں 30 سالہ مذہبی جنگ ہوئی تو جنگ کے خاتمے پر جرمنی کی ریاستیں کیتھولک اور پروٹسٹنٹ فرقوں میں تقسیم ہو گئیں۔ یہ ریاستیں یا تو  کیتھولک ہوتی تھی یا پروٹسٹنٹ۔  ان کے باشندے بھی اپنے عقیدے کی ریاست میں آکر آباد  ہو گئے لہذاٰ شہریت بھی مذہبی بنیادوں پر ہونے لگی۔ کیتھولک ریاستیں پروٹیسٹنٹ عقیدے کے لوگوں کو برابر کے حقوق نہیں دیتی تھیں۔ اسی اصول کے تحت پروٹیسٹنٹ ریاستیں کیتھولک فرقے کے لوگوں کو بنیادی حقوق سے محروم رکھتی تھیں۔ مثلا انگلستان میں کیتھولک آکسفورڈ یونیورسٹی میں داخلہ نہیں لے سکتے تھے نہ ہی ریاست کے اعلیٰ عہدوں پر ان کا تقرر ہو سکتا تھا۔

مذہب کی بنیاد پر  شہریت کے عمل  میں  اس وقت تبدیلی آئی  جب 1789 میں فرانس میں انقلاب آیا۔ اس نے ریاست کو قومی بنایا اور ایک اعلانیے کے تحت ہر شہری کو چاہے اس کا تعلق کسی مذہب یا عقیدہ سے ہو اسے برابر کے حقوق دیے گئے ۔ یہودیوں کو بھی جو اب تک مذہبی اقلیت تھے انہیں قوم کا حصہ بنا کر شہریت کے بنیادی حقوق دیے گئے۔

جب یورپ میں 1830 اور 1848 کے انقلابات آئے  اور یہ تحریکیں اٹھیں کہ ہر ریاست اپنا دستور بنائے اور شہریوں کو  ان کے حقوق دے تو اس کی وجہ سے کسی  بھی ملک کی شہریت لینا دشوار ہو گیا ریاست کو یہ بھی حق دیا گیا کہ وہ کسی کی بھی شہریت منسوخ کر کے اس سے جلا وطن کر سکتی ہے ۔امریکی حکومت نے Du Bois کی شہریت منسوخ کر دی تھی۔ اس کی موت گھانا میں واقع ہوئی۔ اسی طرح ایما گولڈ مین،  جو ایک انارکسٹ تھیں، کی شہریت ختم کر کے اُنہی روس جلاوطن کر دیا گیا تھا۔ اب نئے حالات میں شہریت کے قوانین سخت سے سخت ہوتے چلے جارہے ہیں۔

نوٹ: ڈی ڈبلیو اردو کے کسی بھی بلاگ، تبصرے یا کالم میں ظاہر کی گئی رائے مصنف یا مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے متفق ہونا ڈی ڈبلیو کے لیے قطعاﹰ ضروری نہیں ہے۔

ادارت: شکور رحیم

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری سیکشن پر جائیں

ڈی ڈبلیو کی ٹاپ اسٹوری

ڈی ڈبلیو کی مزید رپورٹیں سیکشن پر جائیں